Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 5 · Chapter 55

کتاب و سنت کو تھامنے کے ابواب

خاتمہ: بعض صحابہ سے اس چیز کا ثابت ہونا کہ تابعین کے زمانہ میں ہی حالات بگڑ گئے تھے

3 hadiths in this chapter

351

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #351

Sahih

۔ (۳۵۱)۔عَنْ أَبِیْ عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍؓ یَقُوْلُ: ((مَا أَعْرِفُ شَیْئًا الْیَوْمَ مِمَّا کُنَّا عَلَیْہِ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْنَا: فَأَیْنَ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَصْنَعُوْ فِی الصَّلَاۃِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو عمران جونی کہتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک ؓ نے کہا: ہم عہد ِ نبوی میں جن امور پر کاربند تھے، آج تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی۔ ہم نے کہا: پس نماز کہاں ہے؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے نماز میں وہ کچھ نہیں کیا جن کو تم خود جانتے ہو؟

352

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #352

Sahih

۔ (۳۵۲)۔عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍؓ: مَا أَعْرِفُ فِیْکُمُ الْیَوْمَ شَیْئًا کُنْتُ أَعْہَدُہُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، لَیْسَ قَوْلَکُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَاأَبَاحَمْزَۃَ! الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّیْتَ حِیْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ، أَفَکَانَتْ تِلْکَ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: فَقَالَ: عَلٰی اَنِّیْ لَمْ أَرَ زَمَانًا خَیْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِکُمْ ھٰذَا اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ زَمَانًا مَعَ نَبِیٍّ۔ (مسند أحمد: ۱۳۸۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ثابت بنانی کہتے ہیں کہ سیدنا سیدنا انس بن مالک ؓ نے کہا: میں جن امور کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں دیکھتا ہے، آج تم میں تو ان میں سے کوئی چیز بھی نظر نہیں آتی، البتہ تمہارا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا وہی ہے۔ میں نے کہا: اے ابو حمزہ! نماز (بھی تو وہی ہے)؟ انھوں نے کہا: تو نے تو (عصر کی) نماز غروبِ آفتاب کے وقت پڑھی ہے، کیا یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی نماز تھی؟ پھر انھوں نے کہا: اس کے باوجود یہ بات تو ہے کہ میں نے کوئی ایسا زمانہ نہیں دیکھا، جوعامل کے لیے تمہارے اس زمانے سے بہتر ہو، الّا یہ کہ وہ زمانہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صحبت والا ہو۔

353

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #353

Sahih

۔ (۳۵۳)۔عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ أَبُو الدَّرْدَائِ(ؓ) وَھُوَ مُغْضَبٌ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَکَ؟ قَالَ: وَاللّٰہِ! َلا أَعْرِفُ فِیْھِمْ مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا اِلَّا أَنَّہُمْ یُصَلُّوْنَ جَمِیْعًا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِلَّا الصَّلَاۃَ)۔ (مسند أحمد: ۲۸۰۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام درداء ؓ کہتی ہیں: سیدنا ابودرداء ؓمیرے پاس غصے کی حالت میں آئے، میں نے کہا: کس نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اِن لوگوں میں تو محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حکم پر مشتمل کوئی چیز نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ یہ نماز اکٹھی پڑھتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: سوائے نماز کے۔