Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 6 · Chapter 56

طہارت کے ابواب

سمندر اور کنویں کے پانی کے طاہر ہونے کا بیان

6 hadiths in this chapter

354

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #354

Sahih

۔ (۳۵۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیْلَ مِنَ الْمَائِ، فَاِنْ تَوَضَّاْنَا بِہِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَائِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَائُ ہُ، الْحِلُّ مَیْتَتُہُ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرتے ہوئے کہا: بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑی مقدار میں پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو بھی کریں تو (ساتھ والے پانی کے تھوڑے ہونے کی وجہ سے) پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔

355

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #355

Sahih

۔ (۳۵۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: اِنَّا نَبْعُدُ فِی الْبَحْرِ وَلَا نَحْمِلُ مِنَ الْمَائِ اِلَّا الْاِدَاوَۃَ وَالْاِدَاوَتَیْنِ لِأَنَّالَا نَجِدُ الصَّیْدَ حَتَّی نَبْعُدَ، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَائِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَاِنَّہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ، الْطَّہُوْرُ مَاؤُہُ)) (مسند أحمد:۸۸۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) بیشک کچھ لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: ہم سمندر میں دور تک نکل جاتے ہیں، کیونکہ دور جائے بغیر شکار نہیں ملتا اور اپنے ساتھ ایک دو چھوٹے چھوٹے برتنوں میں (پینے والا پانی) اٹھایا ہوا ہوتا ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، بیشک اس کا مردار حلال ہے اور اس کا پانی پاک کرنے والا ہے۔

356

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #356

Sahih

۔ (۳۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ أَبِیْ بُرْدَۃَ الْکِنَانِیِّ أَنَّ بَعْضَ بَنِیْ مُدْلِجٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُمْ کَانُوْا یَرْکَبُوْنَ الْأَرْمَاثَ فِی الْبَحْرِ لِلصَّیْدِ فَیَحْمِلُوْنَ مَعَہُمْ مَائً لِلسَّقَاۃِ فَتُدْرِکُہُمُ الصَّلَاۃُ وَہُمْ فِی الْبَحْرِ وَأَنَّہُمْ ذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: اِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا وَاِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِیْ أَنْفُسِنَا، فَقَالَ لَہُمْ: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَاؤُہُ الْحَلَالُ مَیْتَتُہُ۔)) (مسند أحمد:۲۳۴۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد اللہ بن مغیرہ کنانی کہتے ہیں کہ بنو مدلج کے بعض افراد نے اس کو بتلایا ہے کہ وہ لوگ شکار کرنے کے لیے تختوں پر سمندر میں جاتے تھے اور پینے کے لیے اپنے ساتھ پانی لے جاتے تھے، لیکن ان کی نماز کا وقت بھی سمندر میں ہی ہو جاتا تھا، انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے سامنے یہ صورتحال بیان کی اور کہا: اگر ہم اپنے ساتھ اٹھائے ہوئے پانی سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے اور اگر سمندر کے پانی سے وضو کریں تو دل میں شک سا رہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔

357

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #357

Sahih

۔ (۳۵۷)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْبَحْرِ: ((ہُوَ الطَّہُوْرُ مَاؤُہُ الْحِلُّ مَیْتَتُہُ)) (مسند أحمد:۱۵۰۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سمندر کے بارے میں فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔

358

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #358

Sahih

۔ (۳۵۸)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ سَلَمَۃَ أَنَّ سِنَانَ بْنَ سَلَمَۃَ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَائِ الْبَحْرِ فَقَالَ: مَائُ الْبَحْرِ طَہُوْرٌ۔ (مسند أحمد:۲۵۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ سنان بن سلمہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے سمندر کے پانی کے حکم کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے۔

359

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #359

Sahih

۔ (۳۵۹)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ فِیْ صِفَۃِ حَجِّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَائِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ مِنْہُ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: ((اِنْزِعُوْا یَا بَنِیْ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! فَلَوْ لَا أَنْ تُغْلَبُوْا عَلَیْہَا لَنَزَعْتُ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ؓ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حج کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے طوافِ افاضہ کیا اور زمزم کے پانی کا ڈول منگوا کر اس سے پیا اور وضو بھی کیا اور فرمایا: اے بنو عبد المطلب! پانی کھینچو، اگر تمہارے مغلوب ہو جانے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں بھی تمہارے ساتھ کھینچتا۔