Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 49 · Chapter 459

امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام

صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان

21 hadiths in this chapter

2636

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2636

Sahih

۔ (۲۶۳۶) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی مَا یُکَفِّرُ اللّٰہُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَزِیْدُ بِہِ فِی الْحَسَنَاتِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ عَلَی الْمَکَارِہِ وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلٰی ھٰذِہِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ، مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ مُتَطَہِّرًا فَیُصَلِّیْ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فِی الْمَجْلِسِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ الْأُخْرٰی اِلَّا الْمَلَائِکَۃُ تَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ، فَاِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَاعْدِلُوْا صُفُوْفَکُمْ وَأَقِیْمُوْھَا وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَاِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی، فَاِذَا قَالَ اِمَامُکُمُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، فَقُوْلُوْا اَللّٰہُ أَکْبَرُ، وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا، وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ، وَاِنَّ خَیْرَ صُفُوْفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرَّھَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَیْرَ صُفُوْفِ النِّسَائِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرَّھَا الْمُقَدَّمُ، یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ! اِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَکُنَّ لَا تَرَیْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِیْقِ الْأُزُرِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے امور کی طرف نہ کروں کہ اللہ جن کے ذریعے خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ناپسندیدگیوں کے باوجود مکمل وضو کرنا، اِن مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر آنا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو آدمی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلتا ہے اورمسلمانوں کے ساتھ ایک نماز ادا کر کے اُسی جائے نماز میں دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے، تو فرشتے اس کے لیے یہ دعا کرتے ہیں: اے اللہ!اس کو معاف کر دے، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو برابر اور سیدھا کیا کرو اور شگافوں کو پر کر دیا کرو، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو،جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اورجب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔بے شک مرودں کی بہترین صف اگلی صف ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بہترین صف پچھلی ہے اور ان کی بری صف اگلی صف ہے، اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظریں نیچی رکھا کرو ، تاکہ ان کے ازار چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔

2637

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2637

Sahih

۔ (۲۶۳۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّھَا الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّ صُفُوْفِ النِّسَائِ الْمُقَدَّمُ وَخَیْرُھَا الْمُؤَخَّرُ۔)) (مسند احمد: ۸۴۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوں کی بہترین صف اگلی ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بری ترین صف اگلی ہے اور ان کی بہترین صف پچھلی ہے۔

2638

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2638

Sahih

۔ (۲۶۳۸) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَزَادَ: ثُمَّ قَالَ: ((یَامَعْشَرَ النِّسَائِ اِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَکُنَّ لَا تَرَیْنَ عَوْ َراتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِیْقِ الْأُزُرِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظروں کو نیچا رکھا کرو، تاکہ مردوں کے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔

2639

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2639

Sahih

۔ (۲۶۳۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا الصَّفَّ فِی الصَّلَاۃِ فَاِنَّ اِقَامَۃَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز میں صف کو سیدھا اور برابر کرو، پس بے شک صف کا سیدھا اور برابر کرنا نماز کی خوبصورتی ہے۔

2640

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2640

Sahih

۔ (۲۶۴۰) عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ جَائَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَقُلْنَا لَہُ: مَا أَنْکَرْتَ مِنْ عَھْدِ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: مَا أَنْکَرْتُ مِنْکُمْ شَیْئًا غَیْرَ أَنَّکُمْ لَا تُقِیْمُوْنَ صُفُوْفَکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

بشیر بن یسار کہتے ہیں: سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (بصرہ سے) مدینہ منورہ تشریف لائے، ہم نے ان سے کہا: آپ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے کی بہ نسبت کون سی چیز عجیب اور نئی لگ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میں تمہارے اندر کسی چیز کو عجیب محسوس نہیں کر رہا، البتہ یہ چیز ہے کہ تم اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر نہیں کرتے۔

2641

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2641

Sahih

۔ (۲۶۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْبِلُ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ فَیَقُوْلُ: ((تَرَاصُّوْا (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ وَتَرَاصُّوا) وَاعْتَدِلُوْا فَاِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی)) (مسند احمد: ۱۳۴۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتے اورفرماتے: آپس میں مضبوطی سے مل جاؤ، (اور ایک روایت میں ہے: اپنی صفوں کو سیدھا کرلو، اور آپس میں مل جاؤ) اور برابر ہو جاؤ ، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔

2642

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2642

Sahih

۔ (۲۶۴۲) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَوِّیْنَا فِی الصُّفُوْفِ کَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ حَتّٰی اِذَا ظَنَّ أَنَّا أَخَذْنَا ذٰلِکَ عَنْہُ وَفَہِمْنَاہُ أَقْبَلَ ذَاتَ یَوْمٍ بِوَجْہِہِ فَاِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِہِ، فَقَالَ: ((لَتُسَوُّنَّ صُفُوْفَکُمْ أَوْ لَیُخَالِفَنَّ اللّٰہُ بَیْنَ وُجُوْھِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں صفوں میں ایسے سیدھا کرتے، جیسے تیروں کی لکڑیوں کو سیدھا کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ گمان کر لیا کہ ہم نے آپ سے یہ تعلیم حاصل کر لی ہے اور ہم اس طریقے کو سمجھ گئے ہیں، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ آگے کو نکلا ہوا تھا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے، یا پھراللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے مخالفت ڈال دے گا۔

2643

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2643

Sahih

۔ (۲۶۴۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَصْحَابِہِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ: تَقَدَّمُوْا فَأْتَمُّوا بِیْ، وَلْیَأْتَمَّ بِکُمْ مَنْ بَعْدَکُمْ، لَا یَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُوْنَ حَتّٰی یُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ میں (خواہ مخواہ کی) تاخیر دیکھی اورفرمایا: آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری اقتداء کریں۔ (متنبہ رہو کہ) لوگ پیچھے ہٹتے رہتے ہیں، حتی کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت والے دن پیچھے کر دے گا۔

2644

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2644

Sahih

۔ (۲۶۴۴) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِیْنَا اِذَا قُمْنَا اِلَی الصَّلَاۃِ فَیَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا أَوْ صُدُورَنَا وَکَانَ یَقُوْلُ: ((لَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ۔)) وَکَانَ یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوِ الصُّفُوْفِ الْأُوَلِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس آتے اور ہمارے کندھوں یا سینوں کو چھوتے اور فرماتے: (اس معاملے میں) اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے لیے مخالف ہو جائیں گے۔ اور یہ فرماتے تھے: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔

2645

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2645

Sahih

۔ (۲۶۴۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ: ((مَا لِی أَرَاکُمْ رَافِعِی أَیْدِیْکُمْ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ، اُسْکُنُوا فِی الصَّلَاۃِ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَرَآنَا حِلَقًا فَقَالَ: ((مَا لِی أَرَاکُمْ عِزِیْنَ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((أَلا تَصُفُّوْنَ کَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِکَۃُ عِنْدَ رَبِّہَا؟)) قَالَ: قَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِکَۃُ عِنْدَ رَبِّھَا؟ قَالَ: ((یُتِمُّوْنَ الصُّفُوْفَ الْأُوْلٰی وَیَتَرَاصُّوْنَ فِی الصَّفِّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے ہاتھوں کو اس طرح اٹھاتے ہو، جیسے یہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون اختیار کرو۔ پھر ایک دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں گروہوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم مختلف گروہوں کی صورت میں ہو؟ پھر ایک دفعہ آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناتے، جیسے فرشتے اپنے رب کے پاس بناتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صفیں بناتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں آپس میں مضبوطی کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔

2646

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2646

Zaeef

۔ (۲۵۴۶) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَتُسَوُّنَّ الصُّفُوْفَ أَوْ لَتُطْمَسَنَّ وُجُوْھُکُمْ وَلَتُغْمِضُنَّ أَبْصَارَکُمْ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُکُمْ)) (مسند احمد: ۲۲۵۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے یا پھر تمہارے چہروں کی صورتیں تبدیل کر دی جائیں گی اور تم ضرور اپنی آنکھوں کو بند کر و یا تمہاری آنکھوں کو ضرور اچک لیا جائے گا۔

2647

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2647

Sahih

۔ (۲۶۴۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَقِیْمُوا الصُّفُوْفَ فَاِنَّمَا تَصُفُّوْنَ بِصُفُوْفِ الْمَلَائِکَۃِ وَحَاذُوا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِینُوا فِی أَیْدِی اِخْوَانِکُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّیْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۵۷۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، (خیال تو کرو کہ) تم نے فرشتوں کی صفوں کی طرح صفیں بنانی ہیں، اپنے کندھوں کو برابر رکھو، خالی جگہوں کو پر کردو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو او رشیطان کے لیے کوئی خالی جگہ نہ چھوڑو۔ (یاد رکھو کہ) جس نے صف کو ملایا اللہ اس کو (اپنے فضل اور رحمت سے) ملائے گا، اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اس کو (اپنی رحمت سے)کاٹ دے گا۔

2648

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2648

Sahih

۔ (۲۶۴۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رُصُّوا صُفُوْفَکُمْ وَقَارِبُوْا بَیْنَہَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! اِنِّی لَأَرَی الشَّیَاطِیْنَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصُّفُوْفِ کَأَنَّہَا الْحَذَفُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو ملاؤ ، ان کو قریب قریب کرو اور گرد نوں کو (ایک سیدھ میں) برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے! بے شک میں شیطانوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے درمیان خالی جگہوں میں یوں گھستے ہیں، جیسے وہ بغیر بالوں کے کالی بھیڑیں ہیں۔

2649

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2649

Sahih

۔ (۲۶۴۹) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ لَا یَتَخَلَّلُکُمْ کَأَوْلَادِ الْحَذَفِ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا أَوْلَادُ الْحَذَفِ؟ قَالَ: ((سُودٌ جُرْدٌ تَکُوْنُ بِأَرْضِ الْیَمَنِ)) (مسند احمد: ۱۸۸۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کیا کرو، شیطان حَذَف کی اولاد کی طرح تمہارے اندر نہ گھسنے پائے ۔کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! حَذَف کی اولاد سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سیاہ رنگ کی بھیڑیں ہوتی ہیں، ان کے بال نہیں ہوتے اوریہ یمن کے علاقے میں پائی جاتی ہیں۔

2650

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2650

Sahih

۔ (۲۶۵۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اِنِّی أَنْظُرُ أَوْ اِنِّی لَأَنْظُرُ مَا وَرَائِی کَمَا أَنْظُرُ اِلٰی مَا بَیْنَ یَدَیَّ، فَسَوُّوا صُفُوْفَکُمْ وَأَحْسِنُوا رُکُوْعَکُمْ وَسُجُوْدَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میں اپنے پیچھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں، جیسے اپنے آگے دیکھتا ہوں، اس لیے اپنی صفوں کو سیدھا رکھا کرو اوررکوع و سجود کو اچھے انداز میں ادا کیا کرو۔

2651

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2651

Sahih

۔ (۲۶۵۱) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَحْسِنُوا اِقَامَۃَ الصُّفُوْفِ فِی الصَّلَاۃِ، خَیْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ فِی الصَّلَاۃِ أَوَّلُھَا، وَشَرُّھَا آخِرُھَا، وَخَیْرُ صُفُوْفِ النِّسَائِ فِی الصَّلَاۃِ آخِرُھَا، وَشَرُّھَا أَوَّلُھَا)) (مسند احمد: ۱۰۲۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا: نماز میں صفوں کو اچھی طرح سیدھا رکھا کرو، نماز میں مردوں کی بہترین صف پہلی ہے او ران کی بدترین صف آخری ہے اور عورتوں کی نماز میں بہترین صف آخری ہے اور ان کی بد ترین صف پہلی ہے۔

2652

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2652

Sahih

۔ (۲۶۵۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَوُّوا (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَتِمُّوا) صُفُوفَکُمْ فَاِنَّ تَسْوِیَۃَ الصُّفُوْفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو برابر کرواور ((ایک روایت کے مطابق)) مکمل کرو،پس بے شک صفوں کو برابر کرنا نماز کی تکمیل میں سے ہے۔

2653

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2653

Sahih

۔ (۲۶۵۳) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ فَاِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاۃِ اِقَامَۃَ الصَّفِّ)) (مسند احمد: ۱۳۹۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، بے شک صف کو سیدھا رکھنا نماز کی خوبصورتی میں سے ہے۔

2654

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2654

Sahih

۔ (۲۶۵۴) عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: طَلَبْنَا عِلْمَ الْعُوْدِ الَّذِی فِی مَقَامِ الْاِمَامِ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلٰی أَحَدٍ یَذْکُرُ لَنَا فِیْہِ شَیْئًا، قَالَ مُصْعَبٌ: فَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ صَاحِبُ الْمَقْصُوْرَۃِ، فَقَالَ: جَلَسَ اِلَیَّ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَوْمًا فَقَالَ: ھَلْ تَدْرِی لِمَ صُنِعَ ھٰذَا؟ وَلَمْ أَسْأَلْہُ عَنْہُ، فَقُلْتُ: لَا وَاللّٰہِ لَا أَدْرِی لِمَ صُنِعَ۔ فَقَالَ أَنَسٌ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضَعُ عَلَیْہِ یَمِیْنَہُ ثُمَّ یَلْتَفِتُ اِلَیْنَا فَیَقُوْلُ: ((اِسْتَوُوْا وَاعْدِلُوا صُفُوفَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

مصعب بن ثابت کہتے ہیں: امام کے مقام کے پاس ایک لکڑی تھی، ہم نے اس کی حقیقت کے بارے میں معلوم کرنا چاہا، لیکن ہمیں کوئی ایسا آدمی نہ ملا جو اس کے بارے میں کچھ بتلا سکے۔ پھر مقصورہ والے محمد بن مسلم نے مجھے بتلاتے ہوئے کہا: ایک دن سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس بیٹھے اور کہا: کیا تو جانتا ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی؟ حالانکہ میں نے اس کے بارے ان سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اس کو کیوں بنایا گیا۔ پھر سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِس پر اپنا ہاتھ رکھتے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کر لو۔

2655

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2655

Sahih

۔ (۲۶۵۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ ثُمَّ الَّذِی یَلِیْہِ، فَاِنْ کَانَ نَقْصٌ فَلْیَکُنْ فِی الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ)) (مسند احمد: ۱۳۴۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلی صف کو پہلے مکمل کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اگر کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہیے۔

2656

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2656

Sahih

۔ (۲۶۵۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَمَلَائِکَتَہُ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ یَصِلُونَ الصُّفُوفَ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَۃً رَفَعَہُ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَۃً)) (مسند احمد: ۲۵۰۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں، جو صفوں کو ملاتے ہیں اور جو شخص صف کے خلا کو پر کرتا ہے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔