Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 49 · Chapter 458

امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام

عقلمند اور سمجھدار لوگوں کا امام کے قریب کھڑے ہونے کی مشروعیت کا بیان

4 hadiths in this chapter

2632

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2632

Sahih

۔ (۲۶۳۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِیَلِیَنِّیْ مِنْکُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّھٰی، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ، وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ، وَاِیَّاکُمْ وَھَوْشَاتِ الْأَسْوَاقِ۔)) (مسند احمد: ۴۳۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں، اور( صفیں بنانے میں) ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے مخالف ہوجائیں گے، اوربازاروں کے اختلاط اور فتنوں سے بچا کرو۔

2633

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2633

Sahih

۔ (۲۶۳۳) عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَخْبَرَۃَ الْأَزْدِیِّ عَنْ أَبِی مَسْعُوْدِ نِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ مَنَاکِبَنَا فِی الصَّلَاۃِ وَیَقُوْلُ: ((اِسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ، لِیَلِیَنِّیْ مِنْکُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّھٰی، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ۔)) قَالَ أَبُوْ مَسْعُوْدٍ فَأَنْتُمْ الْیَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا۔ (مسند احمد: ۱۷۲۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابومسعودانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے (صف بناتے وقت) ہمارے کندھوں کوچھوتے اور فرماتے: برابر ہو جاؤ اور مختلف ہو کر کھڑے نہ ہو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے سے مختلف ہوجائیں گے، تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں۔ سیّدنا ابومسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: (لوگو!) آج تم اسی وجہ سے بہت زیادہ اختلاف کا شکار ہوگئے ہو۔

2634

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2634

Sahih

۔ (۲۶۳۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحِبُّ أَنْ یَلِیَہُ الْمُہَاجِرُوْنَ وَالْأَنْصَارُ فِی الصَّلَاۃِ لِیَأْخُذُوا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ مہاجر اور انصار نماز میں آپ کے قریب کھڑے ہوں تاکہ وہ آپ سے (علم و عمل) حاصل کر سکیں۔

2635

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2635

Sahih

۔ (۲۶۳۵) عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: أَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ لِلِقَائِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَکُنْ فِیْہِمْ رَجُلٌ أَلْقَاہُ أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ أُبِیٍّ فَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَخَرَجَ عُمَرُ مَعَ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُمْتُ فِی الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَجَائَ رَجُلٌ فَنَظَرَ فِی وُجُوْہِ الْقَوْمِ فَعَرَفَہُمْ غَیْرِی فَنَحَّانِی وَقَامَ فِی مَکَانِی، فَمَا عَقَلْتُ صَلَاتِی، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: یَا بُنَیَّ! لَا یَسُوْؤُکَ اللّٰہَ، فَاِنِّی لَمْ آتِکَ الَّذِی أَتَیْتُکَ بِجَہَالَۃٍ وَلٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَنَا: ((کُونُوا فِی الصَّفِّ الَّذِی یَلِیْنِیْ۔)) وَاِنِّی نَظَرْتُ فِی وُجُوْہِ الْقَوْمِ فَعَرَفْتُہُمْ غَیْرَکَ، ثُمَّ حَدَّثَ فَمَا رَأَیْتُ الرِّجَالَ مَتَحَتْ أَعْنَاقُہَا اِلٰی شَیْئٍ مُتُوْحَہَا اِلَیْہِ، قَالَ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ھَلَکَ أَھْلُ الْعُقْدَۃِ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ! أَلَا لَا عَلَیْھِمْ آسٰی وَلٰکِنْ آسٰی عَلٰی مَنْ یَھْلِکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، وَاِذَا ھُوَ أُبِیٌّ، وَالْحَدِیْثُ عَلٰی لَفْظِ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

قیس بن عباد کہتے ہیں: میں محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو ملنے کے لیے مدینہ آیا، میں جن آدمیوں کو ملنا چاہتا تھا، ان میں مجھے سب سے زیادہ محبوب سیّدنا اُبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دوسرے صحابہ کے ساتھ باہر تشریف لائے۔ میں پہلی صف میں کھڑا تھا، ایک آدمی آیا، اس نے لوگوں کے چہروں پر نگاہ ڈالی اور میرے علاوہ سب کو پہچان لیا، اس نے مجھے پیچھے ہٹا دیا اور خود میری جگہ پر کھڑا ہوگیا، میں(غصے کی وجہ سے) اپنی نماز کو نہ سمجھ سکا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس نے مجھے کہا: میرے پیارے بیٹے! اللہ تجھے برا نہ کرے۔ میں نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ جہالت کی وجہ سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: ا س صف میں کھڑے ہوا کرو جو میرے قریب ہے۔ میں نے لوگوں کے چہرے دیکھے، میں تیرے علاوہ ان سب کو پہچانتا تھا، ( اس لیے تجھے پیچھے کر دیا)۔ پھر وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے لگے، میں نے لوگوں کو جس انداز میں ان کی بات کی طرف گردنیں لمبی کرتے ہوئے دیکھا، پہلے یہ انداز نہیں دیکھا تھا، انھوں نے اپنے وعظ میں یہ بھی کہا تھا: ربّ ِ کعبہ کی قسم! بیعت لینے والے (امراء) ہلاک ہو گئے ہیں، خبردار ! میں ان پر افسوس نہیں کر رہا ، مجھے افسوس ان مسلمانوں پر ہے ، جو (اُن کی وجہ سے) ہلاک ہوں گے ۔‘‘ (اچانک مجھے پتا چلا کہ) یہ سیّدنا اُبی رضی اللہ عنہ ہی تھے ۔ یہ حدیث سلیمان بن داود کے الفاظ کے مطابق بیان کی گئی ہے ۔