Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 46 · Chapter 431

عورتوں کے جماعت کے لیے مسجدوں کی طرف نکلنے کے بیانات

دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان

5 hadiths in this chapter

2511

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2511

Sahih

۔ (۲۵۱۱) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌َ أَنْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ أَجْرًا)) (مسند احمد: ۸۶۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجد سے سب سے زیادہ دُور والے، پس سب سے زیادہ دور والے اجر و ثواب میں سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں ۔

2512

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2512

Sahih

۔ (۲۵۱۲) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِی کَثْرۃِ خُطَا الرَّجُلِ اِلَی الْمَسْجِدِ شَیْئًا؟ فَقَالَ: ھَمَمْنَا أَنْ نَنْتَقِلَ مِنْ دُورِنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ لِقُرْبِ الْمَسْجِدِ فَزَجَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذٰلِکَ، وَقَالَ: ((لَا تُعْرُوْا الْمَدِیْنَۃَ، فَاِنْ لَکُمْ فَضِیْلَۃً عَلٰی مَنْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ بِکُلِّ خَطْوَۃٍ دَرَجَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوزبیرکہتے ہیں: میں نے سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے والے آدمی کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نے خود مسجد کے قرب کی خاطراپنے گھروں سے مدینہ میں منتقل ہونا چاہا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ڈانٹا اور فرمایا: مدینہ (کی اطراف) کو خالی نہ چھوڑو، بے شک مسجد کے پاس رہنے والوں کی بہ نسبت ہر ایک قدم کے بدلے تمہارے لیے ایک ایک درجہ کی فضیلت ہے۔

2513

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2513

Sahih

۔ (۲۵۱۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَۃَ أَنْ یَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لَھُمُ: ((اِنَّہُ بَلَغَنِی أَنَّکُمْ تُرِیْدُوْنَ أَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟)) قَالُوا: نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَدْنَا ذٰلِکَ، فَقَالَ: ((یَا بَنِی سَلِمَۃَ! دِیَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارُکُمْ، دِیَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند )سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مسجد کے ارد گرد کچھ جگہ خالی ہو گئی، اس لیے بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، جب یہ خبر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو موصول ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول!ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو سلمہ! اپنے گھروں کو لازم پکڑو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں کو لازم پکڑو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔

2514

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2514

Sahih

۔ (۲۵۱۴) وَعَنْ أَنسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ ِوَفِیْہِ فَبَلَغَ ذَالِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَرِہَ أَنْ تُعْرَی الْمَدِیْنَۃُ، فَقَالَ: ((یَا بَنِی سَلِمَۃَ! أَلَا تَحْتَسِبُوْنَ آثَارَکُمْ اِلَی الْمَسْجِدِ؟)) قَالُوا: بَلَی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَأَقَامُوا۔ (مسند احمد: ۱۲۰۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اس میں اس طرح کے الفاظ ہیں: جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی، جبکہ آپ نے مدینہ (کی اطراف) کے خالی ہو جانے کو ناپسند کیا، تو ان کو فرمایا: بنو سلمہ! کیا تم مسجد کی طرف اپنے (قدموں کے) نشانات میں (اللہ تعالیٰ سے) ثواب کی امید نہیں رکھتے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ پھر وہ اسی جگہ پر ٹھہرے رہے۔

2515

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2515

Sahih

۔ (۲۵۱۵) عَنْ أَبِی عُثْمَانَ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ بِالْمَدِیْنَۃِ لَاأَعْلَمُ رَجُلًا کَانَ أَبْعَدَ مِنْہُ مَنْزِلًا أَوْ قَالَ: دَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: قَالَ: فَکَانَ یَحْضُرُا الصَّلَوَاتِ کُلَّہُنَّ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَقِیْلَ لَہُ: لَوِ اشْتَرَیْتَ حِمَارًا فَرَکِبْتَہُ فِی الرَّمْضَائِ وَالظُّلُمَاتِ؟ فَقَالَ: مَا یَسُرُّنِیْ أَنَّ دَارِی أَوْ قَالَ مَنْزِلِی اِلَی جَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَنُمِیَ الْحَدِیْثُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِکَ مَا یَسُرُّنِی أَنْ مَنْزِلِی أَوْ قَالَ دَارِی اِلٰی جَنْبِ الْمَسْجِدِ؟)) قَالَ: أَرَدْتُّ أَنْ یُکْتَبَ اِقْبَالِی اِذَا أَقْبَلْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَرُجُوْعِی اِذَا رَجَعْتُ اِلٰی أَھْلِی۔ قَالَ: ((أَعْطَاکَ اللّٰہُ ذٰلِکَ کُلَّہُ، أَوْ أَنْطَاکَ اللّٰہُ مَا اِحْتَسَبْتَ أَجْمَعَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مدینہ میں ایک آدمی تھا، میرے علم کے مطابق اس کا گھر مسجد سے سب سے زیادہ دور تھا، لیکن وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تمام نمازوں میں حاضر ہوتا تھا، اس سے کسی نے کہا: اگر تم گدھا خرید لو اور سخت گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو کر آ جایا کرو؟ لیکن اس نے کہا: میں تو اس چیز پر خوش نہیں ہوں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو۔ جب یہ ساری بات کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پتہ چلا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: یہ تو نے کہا کہ میں تو اس چیز پر بھی خوش نہیں ہوں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو، اس سے تیری مراد کیا ہے؟ اس نے کہا: جی میرا مقصد یہ ہے کہ جب میں مسجد کی طرف آؤں تو میرا آنا اور جب میں اپنے گھر کی طرف واپس جاؤں تو میرا واپس جانا لکھا جائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ سارا کچھ تجھے عطا کر دیا۔ یہ فرمایا: تجھے جس ثواب کی امید تھی، اللہ تعالیٰ نے وہ سارا تجھے عطا کر دیا ۔