Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 46 · Chapter 430

عورتوں کے جماعت کے لیے مسجدوں کی طرف نکلنے کے بیانات

عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب کا بیان

6 hadiths in this chapter

2505

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2505

Sahih

۔ (۲۵۰۵) عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیْدٍ قَالَ: أَخْبَرَتْنِی زَیْنَبُ الثَّقَفِیَّۃُ امْرَأَۃُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((اِذَا خَرَجَتْ اِحْدَاکُنَّ اِلَی الْعِشَائِ فَـلَا تَمَسَّ طِیبًا۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی سیدہ زینب ثقفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو فرمایا: جب تم میں سے کوئی عشاء کے لیے جائے تو وہ خوشبو نہ لگائے ۔

2506

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2506

Sahih

۔ (۲۵۰۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کُنَّ النِّسَائُ یُصَلِّیْنَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْغَداۃَ ثُمَّ یَخْرُجْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِہِنَّ لَا یُعْرَفْنَ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: عورتیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتی تھیں، جب وہ واپس جاتیں تو اپنی چادروں میں اس قدر لپٹی ہوتی تھیں کہ ان کو پہچانا نہیں جا سکتا تھا۔

2507

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2507

Sahih

۔ (۲۵۰۷) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ نِسَائً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ کُنَّ یُصَلِّیْنَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِہِنَّ ثُمَّ یَرْجِعْنَ اِلٰی أَھْلِھِنَّ وَمَا یَعْرِفُہُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْغَلَسِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)وہ کہتی ہیں: بے شک مؤمن عورتیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھتیں تھیں، وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوتی تھیں، جب وہ اپنے گھروں کو لوٹتیں تو اندھیرے کی وجہ سے کوئی بھی ان کو پہچان نہیں سکتا تھا۔

2508

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2508

Sahih

۔ (۲۵۰۸) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہَا قَالَتْ: کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ ذَوِی حَاجَۃٍ یَأْتَزِرُوْنَ بِھٰذِہِ النَّمِرَۃِ فَکَانَتْ اِنَّمَا تَبْلُغُ أَنْصَافَ سُوْقِہِمْ أَوْ نَحْوَ ذَالِکَ فَسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یَعْنِی النِّسَائِ فَـلَا تَرْفَعْ رَأْسَہَا حَتّٰی نَرْفَعَ رُؤُوْسَنَا کَرَاھِیَۃَ أَنْ تَنْظُرَ اِلٰی عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ صِغَرِ أُزُرِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ چونکہ مسلمان حاجت مند تھے، اس لیے وہ اس قسم کی (چھوٹی سی) دھاری دار چادر کا ازار باندھ لیتے تھے، جو تقریبا ان کی نصف پنڈلیوں تک پہنچتی تھی، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، وہ اس وقت تک (سجدے سے) سر نہ اٹھائے جب تک ہم مرد لوگ اپنے سر نہ اٹھا لیں، (اس حکم کی یہ وجہ تھی کہ) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ناپسند تھا کہ عورتوں کی نگاہ مردوں کے ازار چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں پر پڑ جائے گی۔

2509

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2509

Sahih

۔ (۲۵۰۹) عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رِجَالٌ یُصَلُّوْنَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَاقِدِیْ أُزُرِھِمْ عَلٰی رِقَابِہِمْ کَہَیْئَۃِ الصِّبْیَانِ، فَیُقَالَ لِلنِّسَائِ: لَا تَرْفَعْنَ رُؤُسَکُنَّ حَتّٰی یَسْتَوِیَ الرِّجَالُ جُلُوسًا۔ (مسند احمد: ۲۳۱۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: مرد حضرات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، انھوں نے بچوں کی طرح اپنے ازار گردنوں پر باندھے ہوئے ہوتے تھے، اس لیے عورتوں کو کہا جاتا کہ وہ (سجدوں سے) سروں کو نہ اٹھایا کریں، جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔

2510

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2510

Sahih

۔ (۲۵۱۰) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النِّسَائَ فِی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَثَبَتَ مَنْ صَلّٰی مِنَ الرِّجَالِ مَا شَائَ اللّٰہُ، فَاِذَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ الرِّجَالُ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں جب عورتیں فرض نمازوں سے سلام پھیرتیں تو (واپسی کے لیے) اٹھ کھڑی ہوتیں، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد حضرات، جب تک اللہ چاہتا، بیٹھے رہتے۔ پھر جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے تو وہ سارے کھڑے ہوجاتے تھے۔