Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 46 · Chapter 432

عورتوں کے جماعت کے لیے مسجدوں کی طرف نکلنے کے بیانات

سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت

7 hadiths in this chapter

2516

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2516

Sahih

۔ (۲۵۱۶) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَـلَا تَأْتُوْھَا تَسْعَوْنَ وَلٰکِنِ ائْتُوْھَا وَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃُ فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوا۔ (وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرٰی) ((فَاقْضُوا)) بَدَلَ قَوْلِہِ ((فَأَتِمُّوا)) (مسند احمد: ۷۲۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نماز کھڑی کر دی جائے تو دوڑ کر نہ آیا کرو، بلکہ اس حال میں آؤ کہ تم پر سکون اور باوقار ہو اور(امام کے ساتھ) جتنی نماز مل جائے ، وہ پڑھ لو اور جتنی رہ جائے، وہ بعد میں پوری کر لو۔ ایک روایت میں ((فَأَتِمُّوا)) کی بجائے ((فَاقْضُوا)) کے الفاظ ہیں، (دونوں کا معنی ایک ہی ہے)۔

2517

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2517

Sahih

۔ (۲۵۱۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) فَصَلُّوا مَا أَدْرَکْتُمْ وَاقْضُوا مَا سَبَقَکُمْ ۔ (مسند احمد: ۸۹۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ آخری الفاظ اس طرح ہیں: جو پالو اسے پڑھ لواور جو تم سے سبقت لے جائے اس کو بعد میں پورا کر لو ۔

2518

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2518

Sahih

۔ (۲۵۱۸) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ سَمِعَ جَلَبَۃَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلّٰی دَعَاھُمْ فَقَالَ: ((مَا شَأْنُکُمْ؟ ))قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِسْتَعْجَلْنَا اِلَی الصَّلَاۃِ، قَالَ: ((فَـلَا تَفْعَلُوْا، اِذَا أَتَیْتُمُ الصَّلَاۃَ فَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃَ، فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوْا۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوقتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ لوگوں کے حرکت کرنے کی آواز سنی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو ان کو بلایا اور پوچھا: تم کو کیا ہو گیا تھا؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز کی طرف جلدی کی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کیا کرو ، جب تم نماز کی طرف آؤ تو سکون اور وقار کو لازم پکڑو، جو حصہ (باجماعت) پالو اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے، اسے (بعد میں) پورا کر لو ۔

2519

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2519

Sahih

۔ (۲۵۱۹) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَجَائَ رَجُلٌ یَسْعٰی فَانْتَھٰی وَقَدْ حَفَزَہُ النَّفَسُ أَوِ انْبَھَرَ فَلَمَّا انْتَھٰی اِلَی الصَّفِّ قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاتَہُ قَالَ: ((أَیُّکُمُ الْمُتَکلِّمُ؟)) فَسکَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((أَیُّکُمُ الْمُتَکَلِّمْ؟ فَاِنَّہُ قَالَ خَیْرًا أَوْ لَمْ یَقُلْ بَأْسًا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَا أَسْرَعْتُ الْمَشْیَ فَانْتَہَیْتُ اِلَی الصَّفِّ فَقُلْتُ الَّذِیْ قُلْتُ، قَالَ: ((لَقَدْ رَأَیْتُ اثْنَیْ عَشَرَ مَلَکًا یَبْتَدِرُوْنَہَا أَیُّہُمْ یَرْفَعْہَا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اِذَا جَائَ أَحَدُکُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلْیَمْشِ عَلٰی ھِیْنَتِہِ فَلْیُصَلِّ مَا أَدْرَکَ وَلْیَقْضِ مَا سَبَقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نماز کھڑی کردی گئی، ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، جب وہ مسجد میں پہنچا ، تو اس کا سانس پھولا ہوا تھا، جب وہ صف میں کھڑا ہوا تو اس نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، بہت زیادہ ، پاکیزہ اور بابرکت تعریف)۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پوری کی تو پوچھا: کون تھا تم میں کلام کرنے والا؟ لوگ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: کون تھا یہ کلام کرنے والا ؟ اس نے اچھی بات ہی کہی ہے، کوئی حرج والی بات نہیں تھی۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تیزی سے چل کر آیا تھا، جب صف میں کھڑا ہوا تو میں نے یہ کلمات کہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتے دیکھے، وہ اس کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کلمات کو (پہلے) اوپر لے کر جائے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کی طرف آئے تو اپنی عادت کے مطابق چل کر آئے، جو نماز پالے اسے پڑھ لے اور جو رہ جائے، اس کو (بعد میں) ادا کر لے۔

2520

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2520

Zaeef

۔ (۲۵۲۰) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِمْشُوا اِلَی الْمَسْجِدِ فَاِنَّہُ مِنَ الْھَدْیِ وَسُنَّۃِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۲۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مسجد کی طرف چل کر آیا کرو، یہی عمل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت اور سنت ہے۔

2521

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2521

Sahih

۔ (۲۵۲۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ رَاحَ اِلٰی مَسْجِدِ الْجَمَاعَۃِ فَخَطْوَۃٌ تَمْحُوْ سَیِّئَۃً وَخَطْوَۃٌ تُکْتَبُ حَسَنَۃً ذَاھبًا وَرَاجِعًا۔ (مسند احمد: ۶۵۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص جماعت والی مسجد کی طرف جاتا ہے تو اس کا ایک قدم ایک برائی کو مٹا دیتا ہے اور ایک قدم نیکی لکھ دیا جاتا ہے، (مسجد کی طرف) جاتے ہوئے بھی اور واپس لوٹتے ہوئے بھی۔

2522

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2522

Sahih

۔ (۲۵۲۲) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَعْجَلْ أَحَدُکُمْ عَنْ طَعَامِہِ لِلصَّلَاۃِ۔)) قَالَ: وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یَسْمَعُ الْاِقَامَۃَ وَھُوَ یَتَعَشّٰی فَـلَا یَعْجَلُ۔ (مسند احمد: ۴۷۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نماز کے لیے اپنے کھانے سے جلدی نہ کرے۔ نافع کہتے ہیں: جب سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اس حال میں اقامت سنتے کہ وہ رات کا کھانا کھا رہے ہوتے تو وہ (کھانے سے) جلدی نہیں کرتے تھے ۔‘‘