Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 40 · Chapter 402

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان

سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان

5 hadiths in this chapter

2299

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2299

Sahih

۔ (۲۲۹۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَیْبَرَ فَاتَّبَعَہُ رَجُلَانٍ وَآخَرُ یَتْلُوھُمَا یَقُوْلُ: اِرْبَعَا اِرْبَعَا حَتّٰی رَدَّھُمَا، ثُمَّ لَحِقَ الْأَوَّلَ، فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَانِ شَیْطَانَانِ وَاِنِّی لَمْ أَزَلْ بِہِمَا حَتّٰی رَدَدْتُّھُمَا، فَاِذَا أَتَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَقْرِئْہُ السَّلَامَ وَأَخْبِرْہُ أَنَّا ھٰہُنَا فِی جَمْعِ صَدَقَاتِنَا وَلَوْ کَانَتْ تَصْلُحُ لَہُ لَبَعَثْنَا بِہَا اِلَیْہِ، قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ الْمَدِیْنَۃَ أَخْبَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَعِنْدَ ذٰلِکَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْخَلْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۷۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی خیبر سے نکلا، دو آدمی اس کے پیچھے چل پڑے اور ایک ان کے پیچھے، جو انھیں کہتا تھا: ٹھہر جاؤ، ٹھہر جاؤ۔ (یہاں تک کہ) انھیں لوٹا دیا، پھر وہ پہلے آدمی کو جا ملا اور اسے بتایا کہ یہ دو شیطان تھے، میں ان کے ساتھ لگا رہا، حتی کہ انھیں لوٹا دیا۔ جب تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کو میرا سلام عرض کرنا اور بتلا دینا کہ ہم یہاں صدقات جمع کر رہے ہیں، اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لائق ہوں تو ہم بھیج دیں گے۔ وہ آدمی مدینہ میں پہنچا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کا پیغام پہنچا دیا۔ اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خلوت (تنہائی) سے منع کر دیا۔

2300

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2300

Sahih

۔ (۲۳۰۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی الْوَحْدَۃِ مَا سَارَ أَحَدٌ وَحْدَہُ بِلَیْلٍ أَبَداً۔)) (مسند احمد: ۵۹۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ رات کواکیلا سفر کرنے میں کیا نقصان ہے تو کوئی بھی رات کے وقت اکیلا سفر نہ کرے۔

2301

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2301

Sahih

۔ (۲۳۰۱) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَھٰی عَنِ الْوَاحْدَۃِ أَنْ یَبِیْتَ الرَّجُلُ وَحْدَہُ أَوْ یُسَافِرَ وَحْدَہُ۔ (مسند احمد: ۵۶۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تنہائی سے منع کیا ہے کہ آدمی اکیلا رات گزارے یا اکیلا سفر کرے۔

2302

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2302

Sahih

۔ (۲۳۰۲) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الرَّاکِبُ شَیْطَانٌ وَالرَّاکِبَانِ شَیْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَۃُ رَکْبٌ۔)) (مسند احمد: ۶۷۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اکیلا سفر کرنے والا سوار شیطان ہے اور دو سفر کرنے والے سوار بھی شیطان ہیں، البتہ تین کا قافلہ بن جاتا ہے۔

2303

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2303

Zaeef

۔ (۲۳۰۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَائِ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَعَانِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ أَرَادَ أَنْ یَبْعَثَنِی بِمَالٍ اِلٰی أَبِی سُفْیَان یَقْسِمُہُ فِی قُرَیْشٍ بِمَکَّۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ، قَالَ: فَقَالَ: ((الْتَمِسْ صَاحِبًا)) قَالَ: فَجَائَ نِی عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ قَالَ: بَلَغَنِی اَنَّکَ تُرِیْدُ الْخُرُوْجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا؟ قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ: فَأَنَا لَکَ صَاحِبٌ، قَالَ: فَجِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: قَدْ وَجَدْتُ صَاحِباً، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وَجَدْتَّ صَاحِباً فَآذِنِّی۔)) قَالَ: فَقَالَ: ((مَنْ؟)) قُلْتُ: عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ، قَالَ: فَقَالَ: ((اِذَا ھَبَطْتَ بِلَادَ قَوْمِہِ فَاحْذَرْہُ فَاِنَّہُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ ’’أَخُوکَ الْبِکْرِیُّ وَلَا تَأْمَنْہُ‘‘۔)) قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتّٰی اِذَا جِئْتُ الْأَبْوَائَ، فَقَالَ لِی: اِنِّی أُرِیْدُ حَاجَۃً اِلٰی قَوْمِی بِوَدَّانَ فَتَلَبَّثْ لِی، قَالَ: قُلْتُ: رَاشِداً، فَلَمَّا وَلّٰی ذَکَرْتُ قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسِرْتُ عَلٰی بَعِیْرِی ثُمَّ خَرَجْتُ أُوضِعُہُ حَتّٰی اِذَا کُنْتُ بِالْأَصَافِرِ اِذَا ھُوَ یُعَارِضُنِی فِی رَھْطِہِ، قَالَ: وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُہُ، فَلَمَّا رَآنِی قَدْ فُتُّہُ اِنْصَرَفُوْا وَجَائَ نِی، قَالَ: کَانَتْ لِی اِلٰی قَوْمِی حَاجَۃٌ، قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ، فَمَضَیْنَا حَتّٰی قَدِمْنَا مَکَّۃَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ اِلٰی أَبِی سُفْیَانَ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد اللہ بن عمرو بن فغواء اپنے باپ سیّدنا عمرو بن فغواء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا، کیونکہ آپ مجھے کچھ مال دے کر سیّدنا ابو سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجنا چاہتے تھے، تاکہ وہ یہ مال قریشیوں میں تقسیم کر سکے، یہ فتح مکہ کے بعد کا واقعہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنا کوئی ساتھی تلاش کر لو۔ میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اورکہنے لگے: مجھے پتہ چلا ہے کہ تو (سفر پر)جاناچاہتا ہے اور کوئی ساتھی تلاش کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا:میں تیرا ساتھی ہوں۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اطلاع دی کہ مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ جب تو کسی ساتھی کو پالے تو مجھے اطلاع دینا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: (تیرا ساتھی) ہے کون؟ میں نے کہا:عمر و بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اس کی قوم کے علاقے میں اترے تو ذرا اس سے بچ کر رہنا،بے شک کسی کہنے والے نے کہا تھا: تیرا بھائی تجھ سے طاقتور ہے اس سے بے خوف نہ ہوجانا۔ پس ہم نکل پڑے اور ابواء پہنچ گئے۔ اس ساتھی نے مجھے کہا: میری قوم کا مسکن ودان علاقہ ہے، مجھے ان سے کوئی کام ہے، اس لیے تم میرا انتظار کرو۔ میں نے اسے کہا: ٹھیک ہے (میں انتظار کروں گا)۔ جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نصیحت یاد آگئی، اس لیے میں اپنے اونٹ پر سوار ہوا، وہاں سے نکلا اوراس کو تیزی سے دوڑا نے لگا، یہاں تک کہ میں اصافر مقام پر پہنچ گیا۔ (لیکن میں نے دیکھا کہ) وہ اپنی قوم کے ایک گروہ کے ہمراہ (میرا راستہ ) کاٹنے کے لیے میرے سامنے آ گیا۔ لیکن میں نے اپنے اونٹ کو تیز دوڑایا اور اس سے آگے نکل گیا۔ پھرجب اس نے دیکھا کہ میں اس کے قابو نہیں آ سکتا تو وہ لوگ واپس چلے گئے اور وہ عمرو بن امیہ میرے پاس آکر کہنے لگا: مجھے اپنی قوم سے کوئی کام تھا۔ میں نے (بات چھپا لی اور) کہا: ٹھیک ہے، پھر ہم چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور میں نے وہ مال ابوسفیان کے حوالے کردیا۔