Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 40 · Chapter 403

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان

سواری پر سوار ہوتے وقت اور اس کو ٹھوکر لگتے وقت کیا کہنا چاہیے اور نیزسواری پر ردیف بنانے کے بارے میں بیان

6 hadiths in this chapter

2304

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2304

Sahih

۔ (۲۳۰۴) عَنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیْعَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أُتِیَ بِدَابَّۃٍ لِیَرْکَبَھَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَہُ فِی الرِّکَابِ قَالَ: بِسْمِ اللّٰہِ، فَلَمَّا اسْتَوٰی عَلَیْہَا قَالَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، {سُبْحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ} ثُمَّ حَمِدَ اللّٰہَ ثَـلَاثاً وَکَبَّرَ ثَـلَاثاً، ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِی فَاغْفِرْلِی ثُمَّ ضَحِکَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِکْتَ بِاأَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ؟ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ، ثُمَّ ضَحِکَ، فَقُلْتُ: مِمَّ ضَحِکْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((یَعْجَبُ الرَّبُّ مِنْ عَبْدِہِ اِذَا قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِی، وَیَقُوْلُ: عَلِمَ عَبْدِی أَنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ غَیْرِی۔)) (مسند احمد: ۷۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

علی بن ربیعہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، ان کے پاس ایک سواری لائی گئی تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، جب انہوں نے رکاب میں اپنا پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر سوار ہو گئے تو کہا: ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ ذات پاک ہے، جس نے اس سواری کو ہمارے تابع کر دیا، جبکہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں، پھر تین دفعہ اللہ کی حمد اور تین دفعہ اس کی بڑائی بیان کی، پھر کہا: تو پاک ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تحقیق میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، مجھ کو معاف کردے، پھر وہ ہنسے۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی کیا ، جیسے میں نے کیا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہنسے، میں نے کہا تھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رب اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے، جب بندہ کہتا ہے: اے میرے رب! مجھے معاف کردے، تو اللہ کہتا ہے: میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ گناہوں کو معاف کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

2305

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2305

Zaeef

۔ (۲۳۰۵) عَنْ عَلِّی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْدَفَہُ عَلٰی دَابَّتِہِ فَلَمَّا اسْتَوٰی عَلَیْہِ کَبَّرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَـلَاثاًً، وَحَمِدَ اللّٰہَ ثَـلَاثاً، وَسَبَّحَ اللّٰہَ ثَـلَاثاً، وَھَلَّلَ اللّٰہَ وَاحِدَۃً، ثُمَّ اسْتَلْقٰی عَلَیْہِ فَضَحِکَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیَّ فَقَالَ: ((مَا مِنَ امْرِیئٍ یَرْکَبُ دَابَّتَہُ فَیَصْنَعُ کَمَا صَنَعْتُ اِلَّا أَقْبَلَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَضَحِکَ اِلَیْہِ کَمَا ضَحِکْتُ اِلَیْکَ۔)) (مسند احمد: ۳۰۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی سواری پر بٹھایا ہوا تھا، پس جب آپ سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ الحمد للّٰہ اور ایک دفعہ لا الہ الا اللّٰہ کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور مسکرائے۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جوآدمی بھی اپنی سواری پر سوار ہو اور اس طرح کرے، جس طرح میں نے کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی طرف دیکھ کر ہنس پڑتے ہیں، جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنس پڑا ہوں۔

2306

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2306

Sahih

۔ (۲۳۰۶) عَنْ أَبِی تَمِیْمَۃَ الْھُجَیْمِیِّ عَمَّنْ کَانَ رَدِیْفَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ کُنْتُ رَدِیْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ فَعَثَرَ الْحِمَارُ فَقُلْتُ: تَعَسَ الشَّیْطَانُ، فَقَالَ لِیَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُلْ تَعَسَ الشَّیْطَانُ، فَاِنَّکَ اِذَا قُلْتَ تَعَسَ الشَّیْطَانُ تَعَاظَمَ الشَّیْطَانُ فِی نَفْسِہِ وَقَالَ صَرَعْتُہُ بِقُوَّتِی فَاِذَا قُلْتُ بِسْمِ اللّٰہِ تَصَاغَرَتْ اِلَیْہِ نَفْسُہُ حَتّٰی یَکُوْنَ أَصْغَرَ مِنْ ذُبَابٍ (وَفِی لَفْظٍ) تَصَاغَرَ حَتّٰی یَصِیْرَ مِثْلَ الذُّبَابِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۸۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوتمیمہ ہجیمی ایسے صحابی سے روایت کرتے ہیں جونبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ردیف تھے، وہ کہتے ہیں: میں گدھے پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سوار تھا، گدھے کو ٹھوکر لگ گئی، جس پر میں نے کہا: شیطان ہلاک ہو جائے۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اس طرح نہ کہو کہ شیطان ہلاک ہو جائے، کیونکہ جب تم یہ کہتے ہو کہ شیطان ہلاک ہو جائے تو شیطان دل میں اپنے آپ کو بڑا جاننے لگتا ہے اور کہتا ہے: میں نے اپنی طاقت سے اس کو گرا دیا ہے، لیکن (جب ایسی صورت میں) تم بسم اللہ کہو گے تو شیطان کا نفس ذلیل ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ مکھی سے بھی زیادہ چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اتنا ذلیل ہوجاتا ہے کہ وہ مکھی کی طرح چھوٹا بن جاتا ہے۔

2307

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2307

Sahih

۔ (۲۳۰۷) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَاہُ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((عَلٰی ظَہْرِ کُلِّ بَعِیْرٍ شَیْطَانٌ فَاِذَا رَکِبْتُمُوْھَا فَسَمُّوا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَلَا تُقَصِّرُوا عَنْ حَاجَاتِکُمْ)) (مسند احمد: ۱۶۱۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا حمزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر اونٹ کی کمر پر شیطان ہے، اس لیے جب تم اس پر سوار ہو تو اللہ تعالیٰ کا نام لے لیا کرو، پھراپنی حاجات (کو پورا کرنے میں) سستی نہ برتو۔

2308

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2308

Sahih

۔ (۲۳۰۸) عَنْ عَلِیٍّ الْأَزْدِیِّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلَّمَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا اسْتَوٰی عَلٰی بَعِیْرِہِ خَارِجًا اِلٰی سَفَرٍ کَبَّرَ ثَـلَاثاً، ثُمَّ قَالَ: (({سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۔} اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْأَلُکَ فِی سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰہُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہُ، اَللّٰھُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّی أَعُوْذُبِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: اَللّٰہُمَّ اصْحَبْنَا فِی سَفَرِنَا، وَاخْلُفْنَا فِی أَھْلِنَا)۔)) وَاِذَا رَجَعَ قَالَھُنَّ وَزَادَ فِیْہِنَّ: ((آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۶۳۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے علی ازدی کو یہ تعلیم دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کو نکلتے ہوئے اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے،پھر پڑھتے: پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس سواری کو تابع کیا ہے ، جبکہ ہم اس کو تابع کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اوربے شک ہم سب نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اے اللہ بے شک ہم تجھ سے اس سفر میں نیکی اور تقوٰی کا سوال کرتے ہیں اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جو تجھے پسند ہو، اے اللہ! اس سفر کو ہمارے لیے آسان کردے اور اس کی دوری کو ہم سے لپیٹ دے، اے اللہ! سفر میں بھی تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں بھی تو ہی ہمارا خلیفہ ہے، اے اللہ! میں تجھ سے پنا ہ مانگتا ہوں سفر کی مشکلات سے، ناکام و غمگین واپس لوٹنے سے اور اپنے گھر اورمال میں برے منظر کو دیکھنے سے ۔ اور ایک روایت میں ہے: اے اللہ! سفر میں ہمارا ساتھی بن جا اور ہمارے اہل میں ہمارا خلیفہ بن جا۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس لوٹتے تویہی کلمات کہتے اور ان میں یہ الفاظ زائد کرتے: واپس لوٹنے والے ہیں، تو بہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔

2309

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2309

Sahih

۔ (۲۳۰۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا خَرَجَ سَفَراً فَرَکِبَ رَاحِلَتَہُ قَالَ: ((اَللَّھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ، وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْأَھْلِ…۔)) فَذَکَرَ نَحْوَہُ ۔ (مسند احمد: ۹۱۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کے لیے نکلتے تو سواری پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! تو سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں ہمارا خلیفہ ہے، …۔ پھر انھوں نے سابقہ روایت کے الفاظ کی طرح الفاظ ذکر کیے۔