Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 40 · Chapter 401

سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان

سفر کے لیے افضل دن اور مسافرکو الوداع کہنے اور اس کو وصیت کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

2292

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2292

Sahih

۔ (۲۲۹۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلسَّفَرُ قِطْعَۃٌ مِنَ الْعَذَابِ، یَمْنَعُ أَحَدَکُمْ طَعَامَہُ وَشَرَابَہُ وَنَوْمَہُ فَاِذَا قَضٰی أَحَدُکُمْ نَہْمَتَہُ مِنْ سَفَرِہِ فَلْیُعَجِّلْ اِلٰی أَھْلِہِ)) (مسند احمد: ۷۲۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو تم کو کھانے، پینے اور سونے سے روک دیتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی سفر میں اپنا کام پورا کر ے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔

2293

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2293

Sahih

۔ (۲۲۹۳) عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا أَرَادَ أَنْ یُسَافِرَ لَمْ یُسَافِرْ اِلَّا یَوْمَ الْخَمِیْسِ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا کعب بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کسی اور دن سفر (کا آغاز) نہ کرتے تھے

2294

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2294

Sahih

۔ (۲۲۹۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: قَلَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْرُجُ اِذَا أَرَادَ سَفَراً اِلَّا یَوْمَ الْخَمِیْسِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیّدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کا ارادہ کرتے تو جمعرات والے دن کے علاوہ کم ہی نکلتے تھے۔

2295

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2295

Sahih

۔ (۲۲۹۵) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرِیْدُ سَفَراً فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَوْصِنِی، قَالَ: ((أُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالتَّکْبِیرِ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ۔)) فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰہُمَّ ازْوِ لَہُ الْأَرْضَ وَھَوِّنْ عَلَیْہِ السَّفَرَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، جو سفر کا ارادہ رکھتا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ کو کوئی وصیت فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی اور ہر اونچی جگہ پر چڑھتے وقت اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتاہوں۔ جب وہ آدمی واپس جانے کے لیے پلٹا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس شخص کے لیے زمین کو لپیٹ دے (یعنی اس کی مسافت مختصر کر دے) اور اس پر سفر کو آسان کردے۔

2296

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2296

Sahih

۔ (۲۲۹۶) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کَانَ أَبِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِذَا أَتَی الرَّجُلُ وَھُوَ یُرِیْدُ السَّفَرَ قَالَ لَہُ: اُدْنُ حَتّٰی أُوَدِّعَکَ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوَدِّعُنَا فَیَقُوْلُ: ((اَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ۔)) (مسند احمد: ۴۵۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سالم بن عبد اللہ سے کہتے ہیں کہ میرے باپ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ لے کر آتا تو وہ کہتے: میرے قریب ہو جا، تاکہ میں تجھے اس طرح الوادع کہوں، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں الوداع کہا کرتے تھے،پھر وہ کہتے: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔

2297

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2297

Sahih

۔ (۲۲۹۷)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ قَزَعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَأَرْسَلَنِی فِی حَاجَۃٍ لَہُ: تَعَالَ حَتّٰی أُوَدِّعَکَ کَمَا وَدَّعَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَرْسَلَنِی فِی حَاجَۃٍ لَہُ فَأَخَذَ بِیَدِی فَقَالَ: اَسْتَوْدِعُُُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ۔ (مسند احمد: ۴۹۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) قزعہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور کہا: ادھر آؤ تاکہ میں تم کو ایسے الوداع کہوں جیسے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کسی کام کو بھیجتے ہوئے الوداع کیا تھا، پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔

2298

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2298

Sahih

۔ (۲۲۹۸) عَنْ مُوْسَی بْنِ وَرْدَانَ قَالَ: قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ لِرَجُلٍ: أُوَدِّعُکَ کَمَا وَدَّعَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ کَمَا وَدَّعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْتَوْدِعُکَ اللّٰہَ الَّذِی لَا تَضِیْعُ وَدَائِعُہُ۔ (مسند احمد: ۹۲۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

موسیٰ بن وردان کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک آدمی سے کہا: میں تجھے اس طرح الوداع کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے الوداع کہا تھا (یا راوی نے کہا، جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے الوداع کہا)، میں تجھے اُس اللہ کے سپرد کرتا ہوں کہ جس کو سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔