Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 4 · Chapter 45

علم کے ابواب

حدیث لکھنے کی رخصت کا بیان

4 hadiths in this chapter

296

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #296

Sahih

۔ (۲۹۶)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْروٍ (یَعْنِی بْنَ الْعَاصِؓ) قَالَ: کُنْتُ أَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ أَسْمَعُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُرِیْدُ حِفْظَہُ فَنَہَتْنِیْ قُرَیْشٌ فَقَالُوْا: اِنَّکَ تَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ تَسْمَعُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَشَرٌ یَتَکَلَّمُ فِی الْغَضَبِ وَالرَّضَا، فَأَمْسَکْتُ عَنِ الْکِتَابِ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اکْتُبْ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ مَا خَرَجَ مِنِّیْ حَقٌّ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے جو چیز سنتا تھا، اس کو یاد کرنے کے ارادے سے لکھ لیتا تھا، لیکن قریشیوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا اور کہا: تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی ہر بات لکھ لیتا ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تو ایک بشر ہیں اور غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں گفتگو کرتے رہتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ بات بتلا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو لکھ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھ سے صرف حق کا صدور ہوتا ہے۔

297

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #297

Sahih

۔ (۲۹۷)۔عَنْ مُجَاہِدٍ وَالْمُغِیْرَۃِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَا: سَمِعْنَاہُ یَقُوْلُ: مَا کَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنِّیْ اِلَّا مَا کَانَ مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو (یَعْنِیْ بْنَ الْعَاصِؓ) فَاِنَّہُ کَانَ یَکْتُبُ بِیَدِہِ وَیَعِیْہِ بِقَلْبِہِ وکُنْتُ أَعِیْہِ بِقَلْبِیْ وَلَا أَکْتُبُ بِیَدِیْ، وَاسْتَأْذَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْکِتَابِ عَنْہُ فَأَذِنَ لَہُ۔ (مسند أحمد:۹۲۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہد اور مغیرہ بن حکیم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدناابو ہریرہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث کومجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا، ما سوائے سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ لیتے تھے اور دل سے یاد کر لیتے تھے، جبکہ میں دل سے یاد کر لیتا تھا اور لکھتا نہیں تھا، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے لکھنے کی اجازت طلب کی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو اجازت دے دی تھی۔

298

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #298

Sahih

۔ (۲۹۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔ قَالَ: لَیْسَ أَحَدٌ أَکْثَرَ حَدِیْثًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنِّیْ اِلَّا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، فَاِنَّہُ کَانَ یَکْتُبُ وَکُنْتُ لَا أَکْتُبُ۔ (مسند أحمد: ۷۳۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی احادیث کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں تھا، ما سوائے سیدنا عبد اللہ بن عمروؓ کے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔

299

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #299

Sahih

۔ (۲۹۹)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ: قَالَ لِیْ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أُکْتُبْ عَنِّیْ وَلَوْ حَدِیْثًا وَاحِدًا مِنْ غَیْرِ کِتَابٍ فَقُلْتُ: لَا وَلَا حَرْفًا۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

یحییٰ بن معین کہتے ہے: امام عبد الرزاق نے مجھ سے کہا: مجھ سے لکھو، اگرچہ ایک حدیث ہی ہو، لیکن میرے پاس کتاب نہیں ہے۔ میں (یحییٰ) نے کہا: جی نہیں، ایک حرف بھی نہیں لکھوں گا۔