Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #300
۔ (۳۰۰)۔عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لَا تَسْأَلُوْا أَھْلَ الْکِتَابِ عَنْ شَیْئٍ فَاِنَّہُمْ لَنْ یَہْدُوْکُمْ وَقَدْ ضَلُّوْا، فَاِنَّکُمْ اِمَّا أَنْ تُصَدِّقُوْا بِبَاطِلٍ أَوْ تُکَذِّبُوْا بِحَقٍّ، فَاِنَّہُ لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ مَا حَلَّ لَہُ اِلَّا أَنْ یَتَّبِعَنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۶۸۵)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیا کرو، کیونکہ وہ ہرگزتمہاری رہنمائی نہیں کریں گے، جبکہ وہ تو گمراہ ہو چکے ہیں، اور اس معاملے میں یا تو تم کو باطل کی تصدیق کرنا پڑے گی یا حق کو جھٹلانا پڑے گا، پس بیشک اگر موسیؑ بھی تمہارے اندر زندہ ہوتے تو ان کے لیے حلال نہ ہوتا، مگر میری پیروی کرنا۔