Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 4 · Chapter 44

علم کے ابواب

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان

3 hadiths in this chapter

293

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #293

Sahih

۔ (۲۹۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تَکْتُبُوْا عَنِّیْ شَیْئًا سِوَی الْقُرْآنِ، مَنْ کتَبَ شَیْئًا سِوَی الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھ سے قرآن کے سوال کچھ نہ لکھو، جس نے قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہے، وہ اس کو مٹا دے۔

294

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #294

Sahih

۔ (۲۹۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنَّا قُعُوْدًا نَکْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا تَکْتُبُوْنَ؟۔)) فَقُلْنَا: مَا نَسْمَعُ مِنْکَ، فَقَالَ: ((أَ کِتَابٌ مَعَ کِتَابِ اللّٰہِ؟ أَمْحِضُوْا کِتَابَ اللّٰہِ،أَ کِتَابٌ مَعَ کِتَابِ اللّٰہِ؟ أَمْحِضُوْا کِتَابَ اللّٰہِ وَخَلِّصُوْہُ۔)) قَالَ: فَجَمَعْنَا مَا کَتَبْنَا فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ ثُمَّ أَحْرَقْنَاہُ بِالنَّارِ، قُلْنَا: أَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَ نَتَحَدَّثُ عَنْکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوْا عَنِّیْ وَلَا حَرَجَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔))قَالَ: فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، تَحَدَّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ، فَاِنَّکُمْ لَا تُحَدِّثُوْنَ عَنْہُمْ بِشَیْئٍ اِلَّا وَقَدْ کَانَ فِیْھِمْ أَعْجَبُ مِنْہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۱۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: ہم بیٹھے تھے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہوئی احادیث لکھ رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم یہ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے کہا: جو کچھ آپ سے سنتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صرف اللہ کی کتاب کو لکھو، کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ مزید لکھا جا رہا ہے، صرف اور صر ف اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لکھو اور اس کو کسی دوسری چیز کے ساتھ خلط ملط نہ کرو۔ پس ہم نے جو کچھ لکھا تھا، اس کو ایک جگہ پر جمع کیا اور آگ سے جلادیا، پھر ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کی احادیث بیان کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہاں تم مجھ سے بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ پھر ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہاں، بنو اسرائیل سے بھی بیان کر سکتے ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تم ان سے جو بھی بیان کرو، بہرحال ان میں اس سے زیادہ تعجب انگیز بات ہو گی۔

295

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #295

Zaeef

۔ (۲۹۵)۔عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: دَخَلَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍؓ عَلَی مُعَاوِیَۃَؓ فَحَدَّثَہُ حَدِیْثًا فَأَمَرَ اِنْسَانًا أَنْ یَکْتُبَ فَقَالَ زَیْدٌ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی أَنْ نَکْتُبَ شَیْئًا مِنْ حَدِیْثِہِ فَمَحَاہُ۔ (مسند أحمد: ۲۱۹۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد المطلب بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت ؓ، سیدنا معاویہ ؓ کے پاس گئے اور ان کو ایک حدیث بیان کی، انھوں نے ایک انسان کو حکم دیا کہ وہ یہ حدیث لکھ لیں، لیکن سیدنا زید ؓ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی حدیث لکھنے سے منع فرمایا ہے، پس انھوں نے اس کو مٹا دیا۔