Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 39 · Chapter 393

نمازِ تراویح کے ابواب

صلوٰۃ الضحیٰ کی فضیلت اور اس کے حکم کا بیان

10 hadiths in this chapter

2247

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2247

Sahih

۔ (۲۲۴۷) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیَّۃً فَغَنِمُوْا وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَۃَ فَتَحَدَّثَ النَّاسُ بِقُرْبِ مَغْزَاھُمْ وَکَثْرَۃِ غَنِیْمَتِہِمْ وَسُرْعَۃِ رَجْعَتِہِمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی أَقْرَبَ مِنْہُ مَغْزًی وَأَکْثَرَ غَنِیْمَۃً وَأَوْ شَکَ رَجْعَۃً، مَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ غَدَا اِلَی الْمَسْجِدِ لِسُبْحَۃِ الضُّحٰی فَہُوَ أَقْرَبُ مَغْزًی وَأَکْثَرُ غَنِیْمَۃً وَأَوْشَکُ رَجْعَۃً۔)) (مسند احمد: ۶۶۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک لشکر بھیجا، پس انہوں نے غنیمت حاصل کی اور جلدی واپس لوٹ آئے، لوگوں نے اس غزوے میں (لڑائی کے)جلدی ختم ہو جانے ، کثیر مقدار میں غنیمت حاصل کرنے اور ان کے جلدی واپس لوٹ آنے کے بارے میں باتیں کیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری اس چیز کی طرف رہنمائی نہ کردوں کہ جو غزوہ کے لحاظ سے نزدیک ہو، غنیمت کے لحاظ سے زیادہ ہو اور لوٹنے کے لحاظ سے بھی قریب ہو؟ جس نے وضو کیا، پھر چاشت کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد گیا، وہ شخص غزوہ کے لحاظ سے نزدیک ہے اور زیادہ غنیمت والا اور جلدی لوٹنے والا ہے۔

2248

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2248

Zaeef

۔ (۲۲۴۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَافَظَ عَلٰی شُفْعَۃِ الضُّحٰی غُفِرَتْ لَہُ ذُنُوْبُہُ وَاِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے چاشت کی دو رکعتوں کی حفاظت کی اس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابرہوں ۔

2249

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2249

Sahih

۔ (۲۲۴۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: أَوْصَانِیْ خَلِیْلِی بِثَـلَاثٍ: صَوْمِ ثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ، وَصَلَاۃِ الضُّحٰی، وَلَا أَنَامُ اِلَّا عَلٰی وِتْرٍ۔ (مسند احمد: ۷۵۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) نے مجھے یہ تین وصیتں کیں: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، چاشت کی نماز پڑھنااور نمازِ وتر پڑھ کر سونا۔

2250

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2250

Sahih

۔ (۲۲۵۰) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ تَبُوْکَ فَجَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا یُحَدِّثُ أَصْحَابَہُ فَقَالَ: ((مَنْ قَامَ اِذَا اسْتَقَلَّتِ الشَّمْسُ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ غُفِرَلَہُ خَطَایَاہُ فَکَانَ کَمَا وَلَدَتْہُ أُمُّہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ساتھیوں سے گفتگو فرما رہے تھے، ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اس وقت کھڑا ہو، جب سورج بلند ہوچکا ہو، پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور وہ ایسے ہوجائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے اسی دن جنم دیا ہو۔

2251

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2251

Sahih

۔ (۲۲۵۱) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: یَا ابْنَ آدَمَ! لَا تَعْجِزَنْ مِنَ الْأَرْبَعِ رَکَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ نَہَارِکَ أَکْفِکَ آخِرَہُ)) (مسند احمد: ۲۸۰۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آدم کے بیٹے! دن کے شروع میں چار رکعتوں کو پڑھنے سے عاجز نہ آجا، (اگر تو یہ نماز پڑھے گا تو) میں تجھے دن کے آخر میں کافی ہوجاؤں گا۔

2252

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2252

Sahih

۔ (۲۲۵۲) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ ھَمَّارٍ الْغَطْفَانِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: صَلِّ لِی یَا ابْنَ آدَمَ! أَرْبَعًا فِی أَوَّلِ النَّہَارِ أَکْفِکَ آخِرَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا نعیم بن ہمار غطفانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارا رب فرماتاہے: اے آدم کے بیٹے!تو میرے لیے دن کے شروع میں چار رکعت نماز پڑھ، میں تجھے دن کے آخر میں (تمام حاجات و مشکلات سے) کافی ہو جاؤں گا۔

2253

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2253

Sahih

۔ (۲۲۵۳) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَوْ صَانِی خَلِیْلِی أَبُو الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِثَـلَاثٍ لَا أَدَعُہُنَّ لِشَیْئٍ أَوْصَانِی بِثَـلَاثَۃِ أَیَّامٍ مِنْ کُلِّ شَھْر، وَأَنْ لَّا أَنَامَ اِلَّا عَلٰی وِتْرٍ وَسُبْحَۃِ الضُّحٰی فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوالدرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی، میں ان کو کسی وجہ سے نہیں چھوڑوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نصیحت کی کہ میں ہر مہینے میں تین دن روزے رکھوں، وتر کی نماز پڑھ کر ہی سوؤں، اور سفر و حضر میں چاشت کی نماز ادا کروں۔

2254

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2254

Sahih

۔ (۲۲۵۴) عَنْ أَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُصْبِحُ عَلٰی کُلِّ سُلَامَی مِنْ أَحَدِکُمْ صَدَقَہٌ، وَکُلُّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃٌ وَتَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃٌ وَتَکْبِیْرَۃٍ صَدَقَۃٌ وَتَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃٌ وَأَمْرٌ بِمَعْرُوْفٍ صَدَقَۃٌ، وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَہٌ، وَیُجْزِیْ أَحَدَکُمْ مِنْ ذٰلِکَ کُلِّہِ رَکْعَتَانِ یَرْکَعُھُمَا مِنَ الضُّحٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صبح کرتا ہے تو اس کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے اورتسبیح کرنا صدقہ ہے، لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دیناصدقہ ہے اور برے کام سے روکنا صدقہ ہے (اس طرح یہ امور سر انجام دے کر ان اعضاء کا صدقہ ادا کیا جا سکتا ہے) اور ان تمام چیزوں سے دو رکعتیں کفایت کرتی ہیں، جو آدمی چاشت کے وقت ادا کرتا ہے۔

2255

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2255

Zaeef

۔ (۲۲۵۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُتِبَ عَلَیَّ النَّحْرُ وَلَمْ یُکْتَبْ عَلَیْکُمْ، وَأُمِرْتُ بِرَکْعَتَیِ الضُّحٰی وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۹۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھ پر( عیدالالضحیٰ کی) قربانی فرض کی گئی ہے، لیکن تم پر اس کو فرض نہیں کیا گیا اورمجھے چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ تم کو اس کا حکم نہیں دیا گیا۔

2256

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2256

Zaeef

۔ (۲۲۵۶) (وَمِنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانِ) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُمِرْتُ بِرَکْعَتَیِ الضُّحٰی وَبِالْوِتْرِ وَلَمْ یُکْتَبْ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے تو چاشت کی دو رکعت اور وتر پڑھنے کا حکم دیا گیا، لیکن (تم پر) یہ چیزیں فرض نہیں کی گئیں۔