Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 39 · Chapter 394

نمازِ تراویح کے ابواب

صلوٰۃ الضحیٰ کے وقت اور اس کے باجماعت ادا کرنے کے جواز کے بارے میں بیان

16 hadiths in this chapter

2257

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2257

Sahih

۔ (۲۲۵۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الضُّحٰی حِیْنَ کَانَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ مَکَانِہَا مِنَ الْمَغْرِبِ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاشت کی نماز اس وقت پڑھی کہ جب سورج مشرق کی جانب اتنا بلند تھا جتنا وہ عصر کے وقت مغرب کی جانب اونچا ہوتا ہے۔

2258

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2258

Sahih

۔ (۲۲۵۸) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أَھْلِ قُبَائٍ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ الضُّحٰی۔ فَقَالَ: ((صَلَاۃُ الْأَوَّابِیْنَ اِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ مِنَ الضُّحَی۔)) (مسند احمد: ۱۹۴۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنازید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قباء والے لوگوں کے پاس آئے اور وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں چاشت کے وقت گرمی سے جلنے لگیں۔

2259

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2259

Sahih

۔ (۲۲۵۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی مَسْجِدِ قُبَائٍ أَوْ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَائٍ بَعْد مَا أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ فَاِذَا ھُمْ یُصَلُّوْنَ، فَقَالَ: ((اِنَّ صَلَاۃَ الْأَوَّابِیْنَ کَانُو یُصَلُّوْنَہَا اِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند)جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سورج کے اچھی طرح روشن ہوجانے کے بعد مسجد ِ قبا کے پاس آئے یا مسجد ِ قبا میں داخل ہوئے، تووہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اوابین کی نماز وہ اس وقت پڑھا کرتے تھے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں گرمی کی وجہ سے جلنے لگتے تھے۔

2260

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2260

Sahih

۔ (۲۲۶۰) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ رَآنِی أَبُو بَشِیْرِنِ الْأَنْصَارِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أُصَلِّی صَلَاۃَ الضُّحٰی حِیْنَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَیَّ ذٰلِکَ وَنَہَانِی، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا تُصَلُّوا حَتّٰی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، فَاِنَّھَا تَطْلُعُ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ)) (مسند احمد: ۲۲۲۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن نافع کہتے ہیں: صحابی رسول سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے سورج طلوع ہوتے وقت نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے میرے اس عمل کو معیوب قرار دیا اور ایسا کرنے سے منع کیا، پھر کہا کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک سورج بلند نہ ہوجائے اس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتاہے۔

2261

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2261

Sahih

۔ (۲۲۶۱) عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی بَیْتِہِ سُبْحَۃَ الضُّحٰی فَقَامُوا وَرَائَ ہُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعتبان بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے گھر میں چاشت کی نماز پڑھی اور لوگ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور یہ نماز ادا کی۔

2262

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2262

Sahih

۔ (۲۲۶۲) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ مِنَ الضُّحَی۔ (مسند احمد: ۶۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔

2263

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2263

Zaeef

۔ (۲۲۶۳) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یَدَعُہَا وَیَدَعُھَا حَتّٰی نَقُوْلَ لَا یُصَلِّیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۱۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز (اتنے تسلسل سے) پڑھا کرتے تھے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو یوں چھوڑ دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز نہیں پڑھیں گے۔

2264

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2264

Sahih

۔ (۲۲۶۴) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الْضُّحٰی قَطُّ اِلَّا مَرَّۃً۔ (مسند احمد: ۹۷۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، سوائے ایک مرتبہ کے۔

2265

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2265

Sahih

۔ (۲۲۶۵) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ: رَاٰی أَبُو بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَاسًا یُصَلُّوْنَ الْضُّحٰی، فَقَالَ اِنَّہُمْ لَیُصَلُّوْنَ صَلَاۃً مَا صَلَّاھَا رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا عَامَّۃُ أَصْحَابِہِE۔ (مسند احمد: ۲۰۷۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد الرحمن بن ابی بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا: بے شک یہ لوگ ایسی نماز پڑھ رہے ہیں جو نہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پڑھی اورنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عام صحابہ نے۔

2266

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2266

Sahih

۔ (۲۲۶۶) عَنْ مُوَرِّقِ نِ الْعِجْلِیِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَتُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاھَا عُمَرُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاھَا أَبُوبَکْرٍ؟ قَالَ لَا، قُلْتُ: أَصَلَّاھَا النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: لَا اِخَالُہُ۔ (مسند احمد: ۴۷۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

مورق عجلی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی نہیں پڑھتے تھے۔

2267

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2267

Sahih

۔ (۲۲۶۷) عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ الْمَسْجِدَ فَاِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَجَالَسْنَاہُ، قَالَ: فَاِذَا رِجَالٌ یُصَلُّونَ الضُّحٰی، فَقُلْنَا: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ؟ قَالَ: بِدْعَۃٌ۔ (مسند احمد: ۶۱۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہدk کہتے ہیں: میں اور عروۃ بن الزبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔

2268

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2268

Sahih

۔ (۲۲۶۸) عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی قَالَ مَا أَخْبَرَنِی أَحَدٌ أَنَّہُ رَأَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی غَیْرُ أُمِّ ھَانِیئٍ فَاِنَّہَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ بَیْتَہَا یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَاغْتَسَلَ وَصَلّٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ یُخَفِّفُ فِیْہِنَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ) مَارَأَتْہُ صَلّٰی صَلَاۃً قَطُّ أَخَفَّ مِنْہَا غَیْرَ أَنَّہُ کَانَ یُتِمُّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُودَ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن اس کے گھر میں داخل ہوئے، غسل کیا اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، تخفیف کے ساتھ رکوع و سجود کیے، (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس سے ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع و سجود مکمل کر رہے تھے۔

2269

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2269

Sahih

۔ (۲۲۶۹) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاہُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أُمَّ ھَانِیئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّہَارُ یَوْمَ الْفَتْحِ فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَیْہِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ لَا أَدْرِی أَقِیَامُہُ فِیْہَا أَطْوَلُ أَوْ رُکُوْعُہُ أَوْ سُجُوْدُہُ، کُلُّ ذٰلِکَ مِنْہُ مُتَقَارِبٌ، قَالَتْ: فَلَمْ أَرَہُ سَبَّحَہَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند ) عبیداللہ بن عبد اللہ بن الحارث سے روایت ہے کہ اس کے باپ عبد اللہ بن الحارث بن نوفل نے اس کو بیان کیا کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اس کو خبر دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن، دن کے بلند ہوجانے کے بعد آئے، آپ نے کپڑے کے متعلق حکم دیا، پس اس کے ذریعے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پردہ کیا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غسل کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آٹھ رکعات نماز پڑھی، میں نہیں جانتی کہ اس نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قیام لمبا تھا یا رکوع یا سجدہ ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے قریب قریب تھا۔ سیدہ ام ہانی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔

2270

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2270

Sahih

۔ (۲۲۷۰) عَنْ أَنْسِ بْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُصَلِّیَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أُصَلِّیَ مَعَکَ فَلَوْ أَتَیْتَ مَنْزِلِی فَصَلَّیْتَ فَأَقْتَدِیَ بِکَ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا، ثُمَّ دَعَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِیْرٍ لَھُمْ، فَصَلَّی النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُوْدِ لِأَنَسٍ: وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی؟ قَالَ مَا رَأَیْتُہُ صَلَّاھَا اِلَّا یَوْمَئِذٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

انس بن سیرین، سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک موٹا آدمی تھا، وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا:مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ سکوں، اس لیے اگر آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی اقتداء کروں۔ پھر اس نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بلایا، پس اس نے چٹائی کا ایک کنارہ ان کے لیے صاف کیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں۔آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔

2271

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2271

Sahih

۔ (۲۲۷۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَوَاحَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ اِنَّہُ لَمْ یَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الضُّحٰی اِلَّا أَنْ یَخْرُجَ فِی سَفَرٍ أَوْ یَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ۔ (مسند احمد:۱۲۶۴۹ )

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعبد اللہ بن رواحہ سے سے روایت ہے کہ سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بے شک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، مگر اس وقت جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر کے لیے نکلتے یا سفر سے واپس آتے۔

2272

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2272

Sahih

۔ (۲۲۷۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ صَلّٰی سُبْحَۃَ الضُّحٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنِّی صَلَّیْتُ صَلَاۃَ رَغْبَۃٍ وَرَھْبَۃٍ سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ ثَـلَاثاً فَاَعْطَانِی ثِنْتَیْنِ وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُہُ أَنْ لَّا یَبْتَلِیَ أُمَّتِی بِالسِّنِیْنَ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُ أَنْ لَا یُظْہِرَ عَلَیْہِمْ عَدُوَّھُمْ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَّا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَأَبٰی عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی، فارغ ہو کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے (اللہ کی رحمت کی) رغبت رکھتے ہوئے اور (اس کے عذابوں سے) ڈرتے ہوئے نماز پڑھی ہے، میں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں تو مجھے عطا کردی ہیں، لیکن ایک کو روک دیا ہے، میں نے اللہ سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط سالی سے نہ آزمائے، پس اللہ نے اسی طرح کردیا ہے، پھرمیں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے، پس اس نے اسی طرح کردیا، (میرا تیسرا سوال یہ تھا کہ) وہ اِن کو گروہوں میں خلط ملط نہ کرے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔