Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 39 · Chapter 392

نمازِ تراویح کے ابواب

اس کی دلیل کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ وتر کے علاوہ نماز تراویح آٹھ رکعت ہے

3 hadiths in this chapter

2244

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2244

Sahih

۔ (۲۲۴۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَمِلْتُ اللَّیْلَۃَ عَمَلًا۔ قَالَ: ((مَا ھُوَ؟)) قَالَ: نِسْوَۃٌ مَعِیَ فِی الدَّارِ قُلْنَ لِی: اِنَّکَ تَقْرَأُ وَلَا نَقْرَأُ، فَصَلِّ بِنَا، فَصَلَّیْتُ ثَمَانِیًا وَالْوِتْرَ۔ قَالَ: فَسَکَتَ النَّبِیُُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَرَأَیْنَا أَنَّ سُکُوْتَہُ رِضاً بِمَا کَانَ ۔ (مسند احمد: ۲۱۴۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیّدناابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں نے رات کو ایک عمل کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: وہ کون سا عمل ہے۔ اس نے کہا: میرے ساتھ گھر میں کچھ خواتین تھیں، انہوں نے مجھے کہا: تم قرآن پڑھتے ہو اور ہم نہیں پڑھتیں،اس لیے ہمیں نماز پڑھاؤ، پس میں نے ان کو آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔ جواباً نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہوگئے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خاموشی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے راضی ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔

2245

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2245

Sahih

۔ (۲۲۴۵) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَمَضَانَ فَقَالَتْ: مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَزِیْدُ فِی رَمَضَانَ وَلَا فِی غَیْرِہِ علی اِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، یُصَلِّی أَرْبَعًا فَـلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِھِنَّ، ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا فَـلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِھِنَّ ثُمَّ یُصَلِّی ثَـلَاثًا۔ قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوْتِرَ؟ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! اِنَّہُ أَوْ اِنِّی تَنَامُ عَیْنَایَ وَلَا یَنَامُ قَلْبِی۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رمضان میں نماز کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعتیں پڑھتے،پس تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں سوال نہ کر، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعتیں پڑھتے، پر تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھ، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیاآپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ!بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

2246

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2246

Sahih

۔ (۲۲۴۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : أَیْ أُمَّہْ! أَخْبِرِیْنِی عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قَالَتْ: کَانَتْ صَلَاتُہُ فِی رَمَضَانَ وَغَیْرِہِ سَوَائً، ثَـلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً فِیْہَا رَکْعَتَا الْفَجْرِ۔ قُلْتُ: فَأَخْبِرِیْنِی عَنْ صِیَامِہِ، قَالَتْ: کَانَ یَصُوْمُ حَتّٰی نَقُوْلَ قَدْ صَامَ وَیُفْطِرُ حَتّٰی نَقُوْلَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا رَأَیْتُہُ صَامَ شَہْرًا أَکْثَرَ مِنْ صِیَامِہِ فِی شَعْبَانَ کَانَ یَصُوْمُہُ اِلَّا قَلِیْلًا۔ (مسند احمد: ۲۴۶۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا: اماں جی! مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں بتلائیے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی ، ان میں دو رکعتیں فجر کی سنتیں ہوتی تھیں۔ میں نے کہا: مجھے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے۔ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مسلسل) روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیشہ روزے رکھیں گے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (تسلسل کے ساتھ) روزے ترک کرنے لگ جاتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے ترک کر دیں گے۔ اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کسی مہینے میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شعبان میں رکھتے تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے، سوائے تھوڑے دنوں کے۔