Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 39 · Chapter 391

نمازِ تراویح کے ابواب

نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان

3 hadiths in this chapter

2242

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2242

Sahih

۔ (۲۲۴۲) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ زِیَادٍ أَبِی طَلْحَۃَ الْأَنْمَارِیِّ اِنَّہُ سَمِعَ الْنُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُوْلُ عَلٰی مِنْبَرِ حِمْصَ: قُمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ ثَـلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَہُ لَیْلَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ اِلٰی نِصْفِ اللَّیْلِ، ثُمَّ قَامَ بِنَا لَیْلَۃَ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ حَتّٰی ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِکَ الْفَـلَاحَ۔ قَالَ: وَکُنَّا نَدْعُوا السُّحُوْرَ الْفَـلَاحَ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُوْلُ لَیْلَۃَ السَّابِعَۃِ لَیْلَۃَ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ وَأَنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ لَیْلَۃَ ثَـلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ السَّابِعَۃَ فَمَنْ أَصْوَبُ؟ نَحْنُ أَوْ أَنْتُمْ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

نعیم بن زیاد ابی طلحہ الا نماری سے روایت ہے کہ انہوں نے نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، وہ حمص کے منبر پر کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے، کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تئیسویں رات کو ایک تہائی رات تک اور پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ستائیسویں کو تو اتنا طویل قیام کروایا کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ہم سحری نہیں کر سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں: ہم لوگ سحری کو فلاح کہتے تھے۔ ہم لوگ ساتویں رات سے مراد ستائیسویں رات لیتے ہیں، لیکن تم کہتے ہو کہ تئیسویں رات ساتویں ہے، اب پتہ نہیں کہ کون زیادہ درست ہے، ہم یا تم؟

2243

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2243

Sahih

۔ (۲۲۴۳) عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِتَّخَذَ حُجْرۃً فِی الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِیْرٍ فَصَلّٰی فِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیَالِیَ حَتَّی اِجْتَمَعَ اِلَیْہِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَہُ فَظَنُّوا أَنَّہُ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُہُمْ یَتَنَحْنَحُ لِیَخْرُجَ اِلَیْھِمْ، فَقَالَ: ((مَا زَالَ بِکُمُ الَّذِی رَأَیْتُ مِنْ صَنِیْعِکُمْ حَتّٰی خَشِیْتُ أَنْ یُکْتَبَ عَلَیْکُمْ، وَلَوْ کُتِبَ عَلَیْکُمْ مَا قُمْتُمْ بِہِ، فَصَلُّوا أَیُّہَا النَّاسُ فِی بُیُوْتِکُمْ، فَاِنَّ أَفْضَلَ صَلَاۃِ الْمَرْئِ فِی بَیْتِہِ اِلَّا الْمَکْتَوْبَہَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنایااور اس میں رات کو نماز پڑھی، جب لوگوں کو علم ہوا تو وہ بھی جمع ہوگئے، لیکن پھر انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز کو گم پایا، ان کا خیال تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سو گئے ہیں، اس لیے بعض لوگوں نے کھانسنا شروع کر دیاتاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف آ جائیں۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کچھ تم کرتے رہے، مجھے اس کا اندازہ ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ قیام تم پر فرض نہ کر دیا جائے اور اگر یہ فرض کر دیا گیا تو تم اس کو قائم نہ رکھ سکو گے۔ اس لیے (میں کہتا ہوں کہ) لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو، آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا افضل عمل ہے، سوائے فرض نماز کے۔

2244

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2244

Zaeef

۔ (۲۲۴۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَیُّمَا اَفْضَلُ؟ اَلصَّلَاۃُ فِیْ بَیْتِیْ اَوِ الصَّلَاۃُ فِیْ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا تَرٰی اِلٰی بَیْتِیْ؟ مَا اَقْرَبَہٗ مِنَ الْمَسْجِدِ! فَـلَاَنْ اُصَلِّیَ فِیْ بَیْتِیْ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُصَلِّیَ فِیْ الْمَسْجِدِ۔ اِلاَّ اَنْ تَکُوْنَ صَلَاۃً مَّکْتُوْبَۃً۔)) (سنن ابن ماجہ: ۱۳۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ میرا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ میرے گھر کو نہیں دیکھتے؟ وہ مسجد کے بہت زیادہ قریب ہے، لیکن پھر بھی مجھے مسجد میں نماز پڑھنے کی بہ نسبت گھر میں نماز ادا کرنا زیادہ محبوب ہے، سوائے فرضی نماز کے (وہ مسجد میں ہی ادا کرنی چاہئے)۔