Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 38 · Chapter 385

رات کی نماز اور وتر کے ابواب

وتر کے وقت کا بیان

22 hadiths in this chapter

2178

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2178

Sahih

۔ (۲۱۷۸) عَنْ أَبِیْ تَمِیْمٍ الْجَیْشَانِیِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ جُمُعَۃٍ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا بَصَرَۃَ حَدَّثَنِیْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ زَادَکُمْ صَلَاۃً وَھِیَ الْوِتْرُ، فَصَلُّوْھَا فِیْمَا بَیْنَصَلَاۃِ الْعِشَائِ إِلٰی صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔)) قَالَ أَبُوْ تَمِیْمٍ: فَأَخَذَ بِیَدِیْ أَبُوْذَرٍّ فَسَارَ فِی الْمَسْجِدِ إِلٰی أَبِی بَصْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ مَا قَالَ عَمْرٌو؟ قَالَ أَبُوْبَصْرَۃَ: أَنَا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو تمیم جیشانی سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: سیدنا ابو بصرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز اور دی ہے اور وہ وتر ہے،تم اس کو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانےوقت میں ادا کیا کرو۔ ابو تمیم کہتے ہیں: سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں سیدنا ابو بصرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئے اور ان سے کہا: جو بات سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں، کیا آپ نے وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، انھوں نے کہا: ہاں، میں نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے۔

2179

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2179

Sahih

۔ (۲۱۷۹) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِہِ وَزَادَ: فَانْطَلَقْنَا إِلٰی أَبِیْ بَصْرَۃَ فَوَجَدَنَاہُ عِنْدَ الْبَابِ الَّذِییَلِی دَارَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ أَبُوْذَرٍّ: یَا أَبَا بَصْرَۃَ! أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللَّہَ عَزَّوَجَلَّ زَادَکُمْ صَلَاۃً، صَلُّوْھَا فِیْمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ إِلٰی صَلَاۃِ الصُّبْحِ، الْوِتْرُالْوِتْرُ۔))؟ قَالَ: نَعْمَ، قَالَ: آنْتَ سَمِعْتَہُ؟ قَالَ: نَعْمَ، قَالَ: آنْتَ سَمِعْتَہُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)اسی طرح ہی ہے، البتہ کچھ تفصیل اس طرح ہے: تو ہم سیدنا ابو بصرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئے اور ان کو اس دروازے کے پاس پایا جو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے قریب تھا، سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابو بصرہ! کیا آپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اور نماز دی ہے، تم اس کو نماز عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانی وقت میں ادا کیا کرو، وہ وتر ہے، وہ وتر ہے ۔ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے واقعی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔

2180

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2180

Zaeef

۔ (۲۱۸۰) عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ ضِفْتُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَہُ فَضَرَبَہَا وَقَالَ: یَا أَشْعَثُ! اِحْفَظْ عَنِّیْ ثَلَاثًا، حَفِظْتُہُنَّ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَاتَسْأَلِ الرَّجُلَ فِیْمَ ضَرَبَ امْرَأَتَہُ وَلَا تَنَمْ إِلاَّ عَلٰی وِتْرٍ وَنَسِیْتُ الثَّالثَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

اشعث بن قیس کہتے ہیں: میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مہمان بنا، پہلے تو انہوں نے اپنی بیوی کو پکڑ کر مارا اور پھر کہا: اے اشعث! تین چیزیں مجھ سے یاد کرلو، میں نے یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یاد کی تھیں، آدمی سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے، وتر ادا کیے بغیر نہ سوؤ اور تیسری بات میں بھول گیا ہوں۔

2181

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2181

Sahih

۔ (۲۱۸۱) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوِتْرُ فِی أَوَّلِ اللَّیْلِ وَفِی وَسَطِہِ وَفِی آخِرِہِ، ثُمَّ ثَبَتَ لَہُ الْوِتْرُ فِی آخِرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی تو رات کے ابتدائی حصے، کبھی درمیانی حصے میں اور بسا اوقات آخری حصے میں وتر ادا کرتے تھے، پھر بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وتر رات کے آخری حصہ میں ہی ہوتا تھا۔

2182

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2182

Sahih

۔ (۲۱۸۲) وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ زَوَائِدِ عَبْدِ اللّٰہِ عَلٰی مُسْنَدِ اَبِیْہِ مِثْلُہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی ایک اور حدیث بیان کی، ہے جو مسند احمد کی حدیث جیسی اور زوائد عبداللّٰہ میں ہے۔

2183

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2183

Zaeef

۔ (۲۱۸۳) وَعَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَ یُوْتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَیُصَلِّیْ الرَّکْعَتَیْنِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیِْ اَلْفَجْرِ) عِنْدَ الْأِقَامَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اذان کے وقت وتر پڑھتے اور اقامت کے وقت فجر کی دو سنیں ادا کرتے تھے۔

2184

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2184

Sahih

۔ (۲۱۸۴) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْوِتْرُ بِلَیْلٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وتر رات کی نماز ہے۔

2185

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2185

Sahih

۔ (۲۱۸۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِأَبِیْ بَکْرٍ: ((مَتٰی تُوْتِرُ؟)) قَالَ: أَوَّلَ اللَّیْلِ بَعْدَ الْعَتَمَۃِ، قَالَ: ((فَأَنْتَ یَاعُمَرُ؟)) قَالَ: آخِرَ اللَّیْلِ، قَالَ: ((أَمَّا أَنْتَ یَا أَبَابَکْرٍ! فَأَخَذْتَ بِالثِّقَۃِ وَأَمَّا أَنْتَ یَاعُمَرُ! فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّۃِ)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم کب وتر پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے شروع میں ہی عشاء کی نماز کے بعد، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے آخر میں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تم نے احتیاط کو اور اے عمر! تم نے قوت کواختیار کیاہے۔

2186

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2186

Sahih

۔ (۲۱۸۶) عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَقُوْلُ: مَنْ صَلّٰی بِاللَّیْلٍ فَلْیَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِہِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِذَالِکَ، فَإِذَا کَانَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَھَبَتْ کُلُّ صَلَاۃِ اللَّیْلٍ وَالْوِتْرُ، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَوْتِرُوْا قَبْلَ الْفَجْرِ)) (مسند احمد: ۶۳۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے تھے کہ جو رات کو نماز پڑھے وہ آخر میں وتر پڑھا کرے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی حکم دیا ہے، اور جب فجر ہوگئی تورات کی ساری نماز اور وتر (کا وقت) ختم ہوگیا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔

2187

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2187

Sahih

۔ (۲۱۸۷) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ: ((أَوْتِرُوْا قَبْلَ الصُّبْحِ)) (مسند احمد: ۱۱۱۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔

2188

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2188

Zaeef

۔ (۲۱۸۸) عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍواَلْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّیْلِ وَأَوْسَطَہُ وَآخِرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کبھی تو رات کے ابتدائی حصے میں، کبھی درمیانے حصے میں اور بسا اوقات آخری حصے میں نمازِ وتر پڑھتے تھے۔

2189

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2189

Sahih

۔ (۲۱۸۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: مِنْ کُلِّ اللَّیْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَانْتَھٰی وِتْرُہُ إِلَی السَّحَرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رات کے ہر حصے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ وتر پڑھی ہے، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وتر سحری تک ختم ہو جاتا تھا۔

2190

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2190

Sahih

۔ (۲۱۹۰) وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رُبَمَا أَوْتَرَ قَبْلَ أَنْ یَّنَامَ، وَرُبَمَا أَوْتَرَ بَعْدَ أَنْ یَّنَامَ، وَرُبَمَا اِغْتَسَلَ قَبْلَ أَنْ یَنَامَ، وَرُبَمَا نَامَ قَبْلَ أَنْ یَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بسا اوقات سونے سے پہلے وتر پڑھا کرتے اور کبھی کبھار سونے کے بعد پڑھ لیتے، اسی طرح بسا اوقات سونے سے پہلے غسل جنابت کر لیا کرتے اور کبھی کبھار اِس غسل سے پہلے سو جاتے۔

2191

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2191

Sahih

۔ (۲۱۹۱) عَنْ أَبِیْ نَہِیْکٍ أَنَّ أَبَاالدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وِتْرَ لِمَنْ أَدْرَکَ الصَّبْحَ، فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنْ الْمُوَْمِنِیْنَ إِلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَأَخْبَرُوْھَا، فَقَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصْبِحُ فَیُوْتِرُ۔ (مسند احمد: ۲۶۵۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو نہیک سے مروی ہے کہ سیدناابو الدردا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے، ایک دن انھوں نے کہا کہ جو آدمی صبح کو پا لے، اس کے لیے کوئی وتر نہیں ہے، یہ سن کر کچھ لوگ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس چلے گئے اور ان کو یہ بات بتلائی، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے۔

2192

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2192

Sahih

۔ (۲۱۹۲) عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ وَنَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ فَمَنْ کَانَ مِنَّا فِیْ رَکْعَۃٍ شَفَعَ إِلَیْہَا أُخْرٰی حَتّٰی اِجْتَمَعْنَا إِلَیْہِ، فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّیْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ فِیْ وَسَطِہِ، ثُمَّ اَثْبَتَ الْوِتْرَ فِیْ ھٰذِہِ السَْاعَۃِ، قَالَ: وَذَالِکَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۹۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد خیر کہتے ہیں: ہم مسجد میں تھے، سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے، ہم سے جو ایک رکعت پڑھ چکا تھا، (لیکن اس کی ایک رکعت باقی تھی تو) اس نے وہ رکعت ادا کی،یہاں تک کہ ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، انہوں نے کہا: پہلے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے شروع میں وتر پڑھتے تھے، پھر اس کے درمیان میں پڑھنے لگے، لیکن بعد میں اس وقت میں نمازِ وترکی ادائیگی کو برقرار رکھا۔ یہ طلوعِ فجر کے قریب کا وقت تھا۔

2193

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2193

Zaeef

۔ (۲۱۹۳) عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی أَسَدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا عَلَیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلُوْہُ عَنِ الْوِتْرِ،قَالَ: فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نُّوْتِرَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ، ثَوِّبْ یَا ابْنَ التَّیَّاحِ! أَوْ أَذِّنْ أَوْ أَقِمْ (وَفِیْ لَفْظٍ:) قَالَ: خَرَجَ عَلِیٌّ حِیْنَ ثَوَّبَ الْمُثّوِّبُ لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۶۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

بنو اسد کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہمارے پاس سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے،لوگوں نے ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس وقت وتر پڑھیں۔ پھر کہا: ابن تَیّاح! الصلاۃ خیر من نوم کہو یا اذان کہو یا اقامت کہو۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس وقت نکلے، جب مؤذن نے نمازِ فجر کے لیے الصلاۃ خیر من نوم کے الفاظ پر مشتمل اذان کہی۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔

2194

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2194

Sahih

۔ (۲۱۹۴) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی اللَّیْلَ مَثْنٰی مَثْنٰی، ثُمَّ یُوْتِرُ بِرَکْعَۃٍ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ، ثُمَّ یَقُوْمُ کَأَنَّ الْأَذَانَ أَوِ الإِْقَامَۃَ فِیْ أُذُنَیْہِ۔ (مسند احمد: ۴۸۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر ادا کرتے، پھر (فجر کی دو سنتیں ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہوتے اور (اتنا جلدی ادا کر لیتے) کہ گویا کہ اذان یا اقامت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کان میں ہوتی۔

2195

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2195

Sahih

۔ (۲۱۹۵) عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَادِرُوْا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ۔)) (مسند احمد: ۴۹۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وتر کی نماز کو صبح سے پہلے پہلے ادا کر لیاکرو۔

2196

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2196

Sahih

۔ (۲۱۹۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((صَلَاۃُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاۃِ النَّھَارِ، فَأَوْتِرُوْا صَلَاۃَ اللَّیْلِ، وَصَلَاۃُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی، وَالْوِتْرُ رَکْعَۃٌ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۵۵۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مغرب کی نماز، دن کی نماز کا وتر ہے، اور تم (نماز وتر ادا کر کے) رات کو نماز کو طاق کر لیا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخر میں وتر ایک رکعت ہے۔

2197

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2197

Sahih

۔ (۲۱۹۷) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِجْعَلُوْا آخِرَ صَلَاتِکُمْ بِاللَّیْلِ وِتْرًا۔)) (مسند احمد: ۴۷۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وتر کو اپنی رات کی آخری نماز بناؤ۔

2198

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2198

Sahih

۔ (۲۱۹۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ ظَنَّ مِنْکُمْ أَنْ لَا یَسْتَیْقِظَ آخِرَہُ فَلْیُوْتِرْ أَوَّلَہُ، وَمَنْ ظَنَّ مِنْکُمْ أَنَّہُ یَسْتَیْقِظُ آخِرَہُ فَلْیُوْتِرْ آخِرَہُ، فَإِنَّ صَلَاۃَ آخِرِ اللَّیْلِ مَحْضُوْرَۃٌ وَھِیَ أَفْضَلُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس شخص کو یہ گمان ہو کہ وہ رات کے آخرحصے میں بیدار نہیں ہو سکے گا تو وہ رات کے شروع میں ہی وتر پڑھ لے، لیکن جس شخص کا یہ خیال ہو کہ وہ رات کے آخر میں بیدار ہوجائے گا، تو وہ اس کے آخر میں ہی وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ سب سے بہتر ہے۔

2199

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2199

Sahih

۔ (۲۱۹۹) عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ: أَیُّ سَاعَۃٍ تُوْتِرِیْنَ؟ قَالَتْ: مَا أُوْتِرُ حَتّٰییُؤَذِّنُوْا وَمَا یُؤَذِّنُوْنَ حَتّٰییَطْلُعَ الْفَجْرُ، قَالَتْ: وَکَانَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُؤَذِّنَانِ، بِلَالٌ وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا أَذَّنَ عَمْرٌو فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا، فَإِنَّہُ رَجُلٌ ضَرِیْرُ الْبَصَرِ وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَارْفَعُوْا أَیْدِیَکُمْ فَإِنَّ بِلَالاً لَایُؤَذِّنُ (کَذَا قَالَ) حَتّٰییُصْبِحَ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

اسود بن یزید کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے کہا: آپ کس وقت وتر پڑھتی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں تو اس وقت تک وتر نہیں پڑھتی، جب تک مؤذن اذانیں نہ دے دیں اور وہ اذانیں بھی طلوعِ فجر کے بعد دیتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دو مؤذن تھے، سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمرو بن ام مکتوم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ: جب عمرو اذان کہے تو تم کھا پی لیا کرو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے، لیکن جب بلال اذان کہے تو کھانے پینے سے ہاتھ اٹھالیا کرو، کیونکہ جب تک صبح نہ ہو جائے، اس وقت تک بلال اذان نہیں دیتا۔