Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2200
۔ (۲۲۰۰) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحُصَیْنِ أَنَّہُ حَدَّثَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ( رضی اللہ عنہ ) أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّیْ الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثُمَّ یُوْتِرُ بِوَاحِدَۃٍ لَا یَزِیْدُ عَلَیْہَا، فَقِیْلَ لَہُ: أَتُوْتِرُ بِوَاحِدَۃٍ لَا تَزِیْدُ عَلَیْہَایَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((الَّذِیْ لَا یَنَامُ حَتّٰییُوْتِرَ حَازِمٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۱)
اردو ترجمہ · Urdu
محمد بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں نماز عشاء ادا کرتے اور اس کے بعد صرف ایک رکعت وتر ادا کرتے، مزید کوئی نفل نہ پڑھتے، کسی نے ان سے کہا: اے ابو سحاق! کیاآپ ایک ہی رکعت پڑھتے ہیں اوراس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھتے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص وتر پڑھ کر ہی سوتا ہے، وہ محتاط ہے۔