Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 38 · Chapter 384

رات کی نماز اور وتر کے ابواب

وتر کی فضیلت، تاکید اور حکم کا بیان

10 hadiths in this chapter

2168

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2168

Sahih

۔ (۲۱۶۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاأَھْلَ الْقُرْآنِ! أَوْتِرُوْا فإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ۔)) (مسند احمد: ۸۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو، یقینا اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔

2169

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2169

Sahih

۔ (۲۱۶۹) عَنْ نَافِعِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : ((إِنَّ اللہَ وِتْرُ یُحِبُّ الْوِتْرَ ۔)) قَالَ نَافِعٌ : وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ لَاَ یَصْنَعُ شَیْئًا إِلَّا وِتْرًا ۔ (مسند احمد: ۸۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے) نافع کہتے ہیں : سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر کام میں وتر (یعنی طاق) کا خیال رکھتے تھے ۔

2170

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2170

Sahih

۔ (۲۱۷۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۷۴۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔

2171

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2171

Zaeef

۔ (۲۱۷۱) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۹۷۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو وتر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔

2172

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2172

Zaeef

۔ (۲۱۷۲) عَنْ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ یُوْتِرْ فَلَیْسَ مِنَّا۔)) قَالَھَا ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۳۴۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: وتر حق ہے، جو وتر نہیں پڑھتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

2173

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2173

Sahih

۔ (۲۱۷۳) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ أَنَّ ابْنَ مُحَیْرِیْزٍ الْقُرَشِیَّ ثُمَّ الْجُمَحِیَّ أَخْبَرَہُ وَکَانَ بِالشَّامِ وَکَانَ قَدْ أَدْرَکَ مُعَاوِیَۃَ، فَأَخْبَرَہُ أَنَّ الْمُخْدِجِیَّ رَجُلاً مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْأَ نْصَارِ کَانَ بِالشَّامِ یُکَنّٰی أَبَا مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَہُ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَذَکَرَ الْمُخْدِجِیُّ أَنَّہُ رَاحَ إِلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَذَکَرَلَہَ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ یَقُوْلُ: اَلْوِتْرُ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: کَذَبَ أَبُوْ مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((خَمْسُ صَلَواتٍ کَتَبَہُنَّ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَی الْعِبَادِ مَنْ أَتٰی بِہِنَّ، لَمْ یُضَیِّعْ مِنْھُنَّ شَیْئًا اِسْتِخْفَافًا بِحَقِّہِنَّ کَانَ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی عَھْدٌ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ لَمْ یَأْتِ بِہِنَّ فَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللّٰہِ عَہْدٌ، اِنْ شَائَ عَذَّبَہُ وَإِنْ شَائَ غَفَرَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن محیریز جمحی شام میں تھے، انھوں نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی پایا تھا، انھوں نے بتایا کہ بنوکنانہ کے مخدجی آدمی نے بتلایا کہ شام میں سکونت پذیر ایک انصاری آدمی ابو محمد نے کہا کہ وتر واجب ہے، یہ سن کر مخدجی، سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا کہ ابو محمدانصاری کہہ رہا ہے کہ وتر واجب ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ بولا ہے، میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جس نے ان کو ادا کیا اور کسی کے حق کو کمزور سمجھتے ہوئے ان میں سے کسی نماز کو ضائع نہیں کیا، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے یہ عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، لیکن جس نے ان کو ادا نہ کیا تو اس کے لئے اللہ کے ہاں کوئی عہد نہیں ہے، اگر اس نے چاہا تو اسے عذاب دے گا اور چاہا تو بخش دے گا۔

2174

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2174

Sahih

۔ (۲۱۷۴) عَنْ نَافِعٍ سَأَلَ رَجُلٌ اِبْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ أَوَاجِبٌ ھُوَ؟ فَقَالَ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمُسْلِمُوْنَ۔ (مسند احمد: ۵۲۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

جنابِ نافع کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا کہ کیایہ نماز واجب ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور مسلمانوں نے نمازِ وتر پڑھی ہے۔

2175

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2175

Sahih

۔ (۲۱۷۵) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَرَأَیْتَ الْوِتْرَ أَسُنَّۃٌ ھُوَ؟ قَالَ: مَاسُنَّۃٌ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ، قَالَ: لَا، أَسُنَّۃٌ ھَُو؟ قَالَ: مَہْ، أَتَعْقِلُ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ۔ (مسند احمد: ۴۸۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: وتر کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ سنت ہے؟ انہوں نے کہا: سنت کیا ہوتی ہے؟ بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز وتر پڑھی ہے اور مسلمانوں نے بھی یہ نماز پڑھی ہے۔ اس نے کہا: نہیں، نہیں، میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیاوہ سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا: ٹھہر جا ذرا، کیا تیری عقل کام کرتی ہے؟ میں کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نمازِ وتر پڑھی ہے اور مسلمانوں نے بھی ہے، (لہٰذا ہمیں پڑھنی چاہیے)۔

2176

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2176

Sahih

۔ (۲۱۷۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحَمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوْخِیِّ قَاضِیْ إِفْرِیْقِیَۃَ أَنَّ مُعَاذَ ابْنَ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَدِمَ الشَّامَ وَأَھْلُ الشَّامِ لَایُوْتِرُوْنَ، فَقَالَ لِمُعَاوِیَۃَ: مَا لِی أَرٰی أَھْلَ الشَّامِ لَایُوتِرُونَ؟ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: وَوَاجِبٌ ذَالِکَ عَلَیْہِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((زَادَنِیْ رَبِّی عَزَّوَجَلَّ صَلَاۃً وَھِیَ اَلْوِتْرُ، وَوَقُتْہَا مَا بَیْنَ الْعِشَائِ إِلٰی طُلُوْعِ الْفَجْرِ)) (مسند احمد: ۲۲۴۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

قاضی افریقہ عبد الرحمن بن رافع تنوخی سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام میں آئے، جبکہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے تھے، انہوں نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے؟ انھوں نے کہا: کیایہ نماز ان پر ضروری ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے ایک اور نماز دی ہے اوروہ وتر ہے اور اس کا وقت عشاء سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک ہے۔

2177

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2177

Sahih

۔ (۲۱۷۷) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَلْوِتْرُ لَیْسَ بِحَتْمٍ کَالصَّلَاۃِ وَلٰکِنَّہُ سُنَّۃٌ سَنَّہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: وتر کی نماز فرض نمازوں کی طرح حتمی نہیں ہے، بلکہ یہ سنت ہے، جسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسنون قرار دیا ہے۔