Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 37 · Chapter 379

رات کی نماز اور وتر کے ابواب

رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان

16 hadiths in this chapter

2112

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2112

Sahih

۔ (۲۱۱۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ الصَّلَاۃِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَکْتُوْبَۃِ؟ قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ۔)) قِیْلَ: أَیُّ الصِّیَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ قَالَ: ((شَھْرُ اللّٰہِ الَّذِیْ تَدْعُوْنَہُ الْمُحَرَّمَ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کون سی نماز سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے میں نماز پڑھنا۔ پھر کہا گیا: رمضان کے بعد کون سا روزہ سب سے فضیلت والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا وہ مہینہ، جسے تم محرم کہتے ہو۔

2113

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2113

Sahih

۔ (۲۱۱۳) عَنِ الْأَ غَرِّ أَبِیْ مُسْلِمٍ قَالَ: أَشْہَدُ عَلٰی أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَأَبِیْ سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُمَا شَہِدَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ یُمْھِلُ حَتّٰییَذْھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ، ثُمَّ یَہْبِطُ فَیَقُوْلُ ھَلْ مِنْ دَاعٍ فَیُسْتَجَابَ لَہُ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَیُغْفَرَلَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۹۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گواہی دی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تاخیر کرتا ہے، حتی کہ رات کا تہائی حصہ ختم ہوجاتا ہے، پھر وہ اترکر کہتا ہے کہ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعاقبول کی جائے، کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اسے بخش دیا جائے۔

2114

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2114

Zaeef

۔ (۲۱۱۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلّٰی وَأَیْقَظَ اِمْرَأَتَہُ، فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِی وَجْہِھَا الْمَائَ وَرَحِمَ اللّٰہُ اِمْرَأَۃً قَامَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّتْ وَأَیْقَظَتْ زَوْجَہَا فَصَلّٰی فَاِنْ أَبٰی نَضَحَتْ فِیْ وَجْہِہِ بِالْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے، جس نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اور اگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی چھڑکا، اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے، جس نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اوراگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی چھڑک کر اسے جگایا۔

2115

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2115

Sahih

۔ (۲۱۱۵) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنْبِئْنِیْ عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِہِ دَخَلْتُ الْجِنَّۃَ، قَالَ: ((أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ وَصِلِ الْأَرْحَامَ وَصَلِّ بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ بِسَلَامٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تو اٹھ کر نماز پڑھ، پھر سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجا۔

2116

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2116

Sahih

۔ (۲۱۱۶) عَنْ أَبِیْ مُسْلِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَیُّ قِیَامِ اللَّیْلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ أَبُوْ ذَرٍّ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَمَا سَأَلْتَنِیْ،یَشُکُّ عَوْفٌ فَقَالَ: ((جَوْفُ اللَّیْلِ الْغَابِرُ أَوْ نِصْفُ اللَّیْلِ، وَقَلِیْلٌفَاعِلُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو مسلم کہتے ہیں: میں نے ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: رات کا کون سا قیام افضل ہے؟ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: جیسے تو نے مجھ سے سوال کیا ہے، ایسے ہی میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے کو یا نصف رات کو قیام کر، بہرحال ایسا عمل کرنے والے لوگ کم ہیں۔

2117

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2117

Sahih

۔ (۲۱۱۷) عَنْ عَمْرِوبْنِ عَبَسَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَلَاۃُ اللَّیْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی، وَجَوْفُ اللَّیْلِ الْآخِرُ أَجْوَبُہُ دَعْوَۃً۔)) قُلْتُ: أَوْجَبُہُ؟ قَالَ: (لَا، بَلْ أَجْوَبُہُ۔)) یَعْنِی بِذَالِکَ الإِْ جَابَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمرو بن عبسہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری (ایک تہائی) حصے میں دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیا اس حصے میں دعا کرنا واجب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، (میں کہہ رہا ہوں کہ) دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد قبولیت تھی۔

2118

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2118

Zaeef

۔ (۲۱۱۸) عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثَۃٌیَضْحَکُ اللّٰہُ إِلَیْہِمْ، اَلرَّجُلُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِیُصَلِّیْ، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوْا لِلصَّلَاۃِ، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوْا لِلْقِتَالٍ)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے: (۱) جو آدمی رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، (۲) جب لوگ نماز کے لیے صفیں بنا تے ہیں اور (۳)جب لوگ لڑائی کے لئے صفیں بناتے ہیں۔

2119

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2119

Zaeef

۔ (۲۱۱۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَحَبُّ الصِّیَامِ إِلَی اللّٰہِ صِیَامُ دَاوُدَ، وَکَانَ یَصُوْمُ نِصْفَ الدَّھْرِ وَأَحَبُّ الصَّلَاۃِ إِلَی اللّٰہِ صَلَاۃُ دَاوُدَ کَانَ یَرْقُدُ شَطْرَ اللَّیْلِ ثُمَّ یَقُوْمُ ثُمَّ یَرْقُدُ آخِرَہُ۔)) ثُمَّ یَقُوْمُ ثُلُثَ اللَّیْلِ بَعْدَ شَطْرِہِ۔ (مسند احمد: ۶۹۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے،اور اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ قیام بھی داؤد علیہ السلام کا تھا، وہ رات کا پہلا نصف سوتے، پھر قیام کرتے، پھر اس کے آخری حصے میں سو جاتے، پھر نصف کے بعد ایک تہائی رات کا قیام کرتے۔

2120

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2120

Sahih

۔ (۲۱۲۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَیْسٍ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَضِیَ عَنْہَا قَالَتْ: عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ، فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَایَدَعُہُ، فَإِنْ مَرِضَ قَرَأَ وَھُوَ قَاعِدٌ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ أَحَدَکُمْ یَقُوْلُ بِحَسْبِیْ أَنْ أُقِیْمَ مَا کُتِبَ لِیْ، وَأَنّٰی لَہُ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رات کے قیام کا اہتمام کرو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے ترک نہیں کرتے تھے، اگر آپ بیمار ہوتے تو بیٹھ کر یہ نماز پڑھ لیتے۔ میں جانتی ہوں کہ تم تو یہ کہہ دیتے ہو کہ ہم اتنی نماز پڑھیں گے، جو ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے، تو پھر اسے مقام کیسے ملے گا۔

2121

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2121

Sahih

۔ (۲۱۲۱) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزَّبِیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلّٰی قَامَ حَتّٰی تَتَفَطَّرَ رِجْلَاہُ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَتَصْنَعُ ھٰذَا وَقَدْ غُفِرَلَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ: ((یَاعَائِشَۃُ! أَفَلَا أَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو نماز پڑھتے تو اتنا قیام کرتے حتیٰ کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے، اس لیے انھوں نے ایک دن کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اتنا لمبا قیام کیوں کرتے ہیں، جبکہ آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

2122

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2122

Sahih

۔ (۲۱۲۲) عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ حَتّٰی تَرِمَ قَدَمَاہُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ)، فَقِیْلَ لَہُ: أَلَیْسَ قَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَفَلَا اَ کُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو (اس قدر لمبی) نماز پڑھتے حتیٰ کہ آپ کے قدم سوج جاتے تھے، کسی نے آپ سے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ بخش نہیں دیے ہیں؟ (تو پھر آپ یہ طویل قیام کیوں کرتے ہیں؟) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

2123

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2123

Sahih

۔ (۲۱۲۳) عَنْ یُوْنُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ فَلَانًا نَامَ الْبَارِحَۃَ وَلَمْ یُصَلِّ شَیْئًا حَتّٰی أَصْبَحَ، فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَالَ الشَّیْطَانُ فِیْ أُذْنِہِ۔)) قَالَ یُوْنُسُ: وَقَالَ الْحَسَنُ: إِنَّ بَوْلَہُ وَاللّٰہِ ثَقِیْلٌ۔ (مسند احمد: ۹۵۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص گزشتہ رات سویا رہا ہے اور اس نے صبح تک کوئی نماز نہیں پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا تھا۔ حسن نے کہا: اللہ کی قسم! اس کا پیشاب تو بڑا بھاری ہو گا۔

2124

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2124

Sahih

۔ (۲۱۲۴) عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ دَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَلٰی فَاطِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنَ اللَّیْلِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَ ذَالِکَ مِنَ السَّحَرِ) فَأَیْقَظَنَا لِلصَّلاۃِ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَی بَیْتِہِ فَصَلّٰی ھَوِیًّا مِنَ اللَّیْلِ، قَالَ: فَلَمْ یَسْمَعْ لَنَا حِسًّا، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَیْنَا فَأَیْقَظَنَا وَقَالَ: ((قُوْمَا فَصَلِّیَا۔)) قَالَ: فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُکُ عَیْنَیَّ، وَأَقُوْلُ: إِنَّا وَاللّٰہِ مَا نُصَلِّی إِلاَّ مَاکُتِبَ لَنَا، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِیَدِ اللّٰہِ، فَإِذَا شَائَ أَنْ یَبْعَثَنَا بَعَثَنَا۔ قَالَ: فَوَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ وَیَضْرِبُ عَلٰی فَخِذِہِ: ((مَا نُصَلِّیْ إِلاَّ مَاکُتِبَ لَنَا، مَانُصَلِّیْ إِلاَّ مَاکُتِبَ لَنَا، وَکَانَ الإِْ نْسَانُ أَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلًا۔)) (مسند احمد: ۷۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو سحری کے وقت میرے اور سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے، ہمیں نماز کے لئے بیدار کیا اور پھر اپنے گھر کو لوٹ گئے اور کچھ دیر کے لیے نماز پڑھتے رہے، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہماری کوئی آوازمحسوس نہ کی تو دوبارہ ہماری طرف آئے اور بیدار کرتے ہوئے فرمایا: اٹھو اورنماز پڑھو۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنی آنکھوں کو مَلتے ہوئے یوں کہنے لگا: اللہ کی قسم! ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہمارے نفس تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں،جب وہ چاہے گا تو تب ہمیں اٹھائے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس چلے گئے اور اپنی ران پرہاتھ مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے: ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے،اصل بات یہ ہے کہ انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔

2125

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2125

Sahih

۔ (۲۱۲۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاعَبْدَاللّٰہِ! لَاتَکُوْنَنَّ مِثْلَ فُلَانٍ، کَانَ یَقُوْمُ اللَّیْلَ فَتَرَکَ قِیَامَ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! فلاں شخص کی طرح ہر گز نہ ہو جانا، وہ رات کو قیام کرتا تھا پھر اس نے اس قیام کو ترک کردیا۔

2126

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2126

Sahih

۔ (۲۱۲۶) عَنْ أبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نَامَ أَحَدُکُمْ عُقِدَ عَلٰی رَأْسِہِ ثَلَاثُ عُقَدٍ بِجَرِیْرٍ، فَإِنْ قَامَ فَذَکَرَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، أُطْلِقَتْ وَاحِدَۃٌ، وَإِنْ مَضٰی فَتَوَضَّأَ أُطْلِقَتِ الثَّانِیْۃُ، فَإِنْ مَضٰی فَصَلّٰی أُطْلِقَتِ الثَّالِثَۃُ، فَإِنْ أَصْبَحَ وَلَمْ یَقُمْ شَیْئًا مِنَ اللَّیْلِ وَلَمْ یُصَلِّ أَصْبَحَ وَھُوَ عَلَیْہِ،یَعْنِیْ الْجَرِیْرَ (وَفِیْ لَفْظٍ: وَإِنْ ھُوَ بَاتَ وَلَمْ یَذْکُرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ وَلَمْ یُصَلِّ حَتّٰییُصْبِحَ) أَصْبَحَ وَعَلَیْہِ الْعُقَدُ جَمِیْعًا۔ (مسند احمد: ۱۰۴۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی آدمی سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی رسی کے ساتھ تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، اگر وہ آدمی اٹھ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھول دی جاتی ہے، اگر وہ آگے بڑھے اور وضوء بھی کر لے تو دوسری گرہ کھول دی جاتی ہے اور اگر وہ نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھول دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ اس حال میں صبح کرے کہ نہ تو وہ رات کو اٹھا ہو، نہ ذکر کیا ہو، نہ وضو کیا ہو اور نہ نماز پڑھی ہو تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ گرہیں اس پر موجود ہوتی ہیں۔

2127

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2127

Sahih

۔ (۲۱۲۷) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ ذَکَرٍ وَلَا أَنْثٰی إِلاَّ وَعَلٰی رَأَسِہِ جَرِیْرٌ مَعْقُوْدٌ ثَلَاثَ عُقْدٍ حِیْنَیَرْقُدُ، فَإِذَا اسْتَیْقَظَ فَذَکَرَ اللّٰہَ تَعَالَی اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ، فَإِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ اِنْحَلَّتْ عُقَدُہُ کُلُّہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر مرد و زن جب سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی ایک رسی ہوتی ہے اور اس سے اس کے سر پر تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، جب وہ بیدار ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اٹھ کر وضو کرتا ہے دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے توساری گرہیں کھل جاتی ہیں۔