Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 37 · Chapter 380

رات کی نماز اور وتر کے ابواب

رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان

10 hadiths in this chapter

2128

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2128

Sahih

۔ (۲۱۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرِوبْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِیْ حَمْزَۃَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ، فَلَمَّا دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ قَالَ: ((اَللّٰہُ أَکْبَرُ ذُوا الْمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ الْبَقَرَۃَ ثُمَّ رَکَعَ وَکَانَ رُکُوْعُہٗنَحْوًامِنْقِیَامِہِ وَکَانَ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ)) ثُمَّ رَفَعَ َرَأَسَہُ فَکَانَ قِیَامُہُ نَحْوًا مِنْ رُکُوْعِہِ، وَکَانَ یَقُوْلُ: ((لِرَبِّیَ اَلْحَمْدُ، لِرَبِّیَ الْحَمْدُ)) ثُمَّ سَجَدَ فَکَانَ سُجُوْدُہٗ نَحْوًا مِنَ قِیَامِہِ، وَکَانَ یَقُوْلُ: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی، سُبْحَانَ رَبِیَ الْأَعَلٰی)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ فَکَانَ مَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنَ نَحْوًا مِنَ السُّجُوْدِ، وَکَانَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ)) قَالَ حَتّٰی قَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَائَ وَالْمَائِدَۃَ أَوِ الْأَنْعَامَ شُعْبَۃُ الَّذِییَشُکُّ فِی الْمَائِدَۃِ وَالْأَنْعَامِ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رات کی نماز پڑھی، جب آپ نماز میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ ذُوا الْمَلَکُوْتِ وَالْجَبْرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ (اللہ سب سے بڑا ہے، جو بادشاہی، قہر، بڑائی اور عظمت والا ہے۔ )، پھر آپ نے سورہ ٔ بقرہ کی تلاوت کی، اس کے بعد رکوع کیا اور آپ کا رکوع آپ کے قیام جتناتھا، آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہتے رہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو آپ کا یہ قومہ آپ کے رکوع کے برابر تھا، آپ اس میں لِرَبِّیَ الْحَمْدُ لِرَبِّیَ الْحَمْدُ کہتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر تھا،آپ سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی، سُبْحَانَ رَبِیَ الْأَعَلٰی کہتے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا اور جلسہ میں بیٹھ گئے، یہ جلسہ سجدے کے برابر تھا، اس جلسہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَبِّ اغْفِرْلِیْ رَبِّ اغْفِرْلِی کہتے رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس نماز میں سورۂ بقرۃ، سورۂ آل عمران، سورۂ نساء اور سورۂ مائدہ یا سورۂ انعام کی تلاوت کر دی، آخری دو سورتوں میں راویٔ حدیث امام شعبہ کو شک ہوا۔

2129

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2129

Zaeef

۔ (۲۱۲۹) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ لِأُ صَلِّیَ بِصَلَاتِہِ فَافْتَتَحَ فَقَرَأَ قِرَائَۃً لَیْسَتْ بِالْخَفِیَّۃِ وَلَا بِالرَّفِیْعَۃِ قِرَائَ ۃً حَسَنَۃًیُرَتِّلُ فِیْہَایُسْمِعُنَا، قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِّنْ قِیَامِہِ، (فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ بِنَحْوِ مَاتَقَدَّمَ وَفِیْہِ) قَالَ عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ ھُوَ تَطَوُّعُ اللَّیْلِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا تاکہ آپ کے ساتھ نماز پڑھوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قراءت شروع کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت نہ زیادہ آہستہ تھی اور نہ ہی زیادہ بلند تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہر ٹھہر کر اور ہمیں سناتے ہوئے پڑھ رہے تھے، پھرجب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کیا تو وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام کے برابر تھا، …، اس کے بعد پہلی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی، عبد الملک بن عمیر نے کہا: یہ رات کی نفل نماز تھی۔

2130

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2130

Sahih

۔ (۲۱۳۰) ( وَمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَقَرأَ السَّبْعَ الطُّوَلَ فِیْ سَبْعِ رَکَعَاتٍ وَکَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَالَ: ((سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) ثُمَّ قَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ذِی الْمَلَکُوتِ وَالْجَبَرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ)) وَکَانَ رُکُوْعُہٗمِثْلَقِیَامِہِ، وَسُجُوْدُہٗمِثْلَرُکُوْعِہٖ،فَانْصَرَفَوَقَدْکَادَتْتَنْکَسِرُرِجْلَایَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند)میں نے ایک رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ قیام کیا، آپ نے سات رکعتوں میں سات لمبی سورتوں کی تلاوت کی، جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تھے تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ)) کہتے، اس کے بعد یہ پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ذِی الْمَلَکُوتِ وَالْجَبَرُوْتِ وَالْکِبْرِیَائِ وَالْعَظْمَۃِ اور آپ کارکوع آپ کے قیام کے برابر اور آپ کا سجدہ رکوع کے برابر تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو ایسا لگتا تھا کہ میری ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں۔

2131

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2131

Zaeef

۔ (۲۱۳۱) عَنْ رَبِیْعَۃَ الْجُرَشِیِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقُلْتُ: مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ وَبِمَ کَانَ یَسْتَفْتِحُ؟ قَالَتْ: کَانَ یُکَبِّرُ عَشْرًا وَیُسَبِّحُ عَشْرًا وَیُہَلِّلُ عَشْرًا وَیَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَیَقُولُ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ عَشْرًا، وَیَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الضِّیْقِیَوْمَ الْحِسَابِ عَشْرًا۔ (مسند احمد: ۲۵۶۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ربیعہ جرشی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو قیام کرتے تو کیا کہا کرتے تھے اور کس سے نماز شروع کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ دس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، دس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، دس دفعہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اور دس دفعہ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ، دس مرتبہ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ اور دس مرتبہ اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الضِّیْقِ یَوْمَ الْحِسَابِ کہتے۔

2132

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2132

Sahih

۔ (۲۱۳۲) عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤُمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بَأَیِّ شَیْئٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْتَتِحُ الصَّلَاۃَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ؟ قَالَتْ: کَانَ إِذَا قَامَ کَبَّرَ وَیَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِیَخْتَلِفُوْنَ، اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ، إِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَائُ إِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ۔)) قَالَ یَحْیٰی: قَالَ أَبُوْ سَلَمَۃَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِیَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ۔)) قَالَ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا ھَمْزُہُ وَنَفْخُہُ وَنَفْثُہُ؟ قَالَ: ((أَمَّا ھَمْزُہُ فَہٰذِہِ الْمُوْتَۃُ الَّتِی تَأْخُذُ بَنِیْ آدَمَ، وَأَمَّا نَفْخُہُ فَالْکِبْرُ، وَأَمَّا نَفْثُہُ فَالشِّعْرُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کوقیام کرتے تونماز کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور یہ دعاء پڑھتے: اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ، اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقَّ بِإِذْنِکَ، إِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَاءَ إِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ۔ (اے اللہ! اے جبریل،میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے! غیب وحاضر کو جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے، جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، اپنے حکم سے اس حق کی طرف میری راہنمائی کر جس میں اختلاف کیا گیا ہے، یقینا تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے) یحیی کہتے ہیں: سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کا قیام کرتے توکہتے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْثِہِ وَنَفْخِہِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، شیطان مردود سے، یعنی اس کے جنون، تکبر اور شعروں سے) مزید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: شیطان مردود کے ھَمْز ، نَفْخ اور نَفْث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز ، نَفْخ اور نَفْث سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے ھَمْز سے مراد لوگوں کو لگنے والی مرگی ہے، اس کے نَفْخ سے مراد تکبر ہے اور نَفْث سے مراد شعر ہے۔

2133

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2133

Sahih

۔ (۲۱۳۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاۃِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِیَقُوْلُ: ((اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ َومَنْ فِیْہِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ حَقٌ، اَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَ کَّلْتُ وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِی مَاقَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الَّذِی لَاإِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رات کو نماز کے لئے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَیَّامُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ َومَنْ فِیْہِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَ وَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَۃُ حَقٌ، اَللّٰہُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْکَأَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَیْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَاقَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ،أَنْتَ الَّذِیْ لَاإِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ (اے اللہ! تیرے لئے تعریف ہے، تو ہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، تیرے لئے ہی ہرقسم کی تعریف ہے، تو ہی آسمانوں و زمین اور جو ان میں ہے، ان سب کا رب ہے، توحق ہے، تیری بات حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے،جنت حق ہے، جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے، اے اللہ تیرے لئے میں فرمانبردار ہوا، تیرے ساتھ میں ایمان لایا، تجھ پر میں نے توکل کیا، تیری طرف میں نے رجوع کیا ہے اور تیری توفیق سے میں نے جھگڑا کیا ہے اورتیری طرف ہی میں فیصلہ لے کر آیا ہوں، تو میرے لیے میرے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے پہلے کیے، جو بعدمیں کیے، جو پوشیدہ طور پر کیے اور جو ظاہری طور پر کیے، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔)

2134

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2134

Sahih

۔ (۲۱۳۴) عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ رَمَقَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُصَلِّیْ فَجَعَلَ یَقُوْلُ فِیْ صَلَاتِہِ: ((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا رَزَقْتَنِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے تو نماز میں یہ دعا کر رہے تھے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَوَسِّعْ لِیْ فِیْ دَارِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا رَزَقْتَنِیْ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، اور میرےلئے میرا گھر وسیع کر دے اورمیرے لئے اس رزق میں برکت ڈال جو تو نے مجھے عنایت کیا ہے۔

2135

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2135

Sahih

۔ (۲۱۳۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَیْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَ نَوْمُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْجَنَابَۃِ، أَیَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ یَّنَامَ؟ فَقَالَتْ: کُلَّ ذَالِکَ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ، رُبَمَا اِغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ، قَالَ: قُلْتُ لَھَا: کَیْفَ کَانَتْ قِرَائَ ۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ اللَّیْلِ أَیَجْہَرُ أَمْ یُسِرُّ؟ قَالَتْ: کُلَّ ذَالِکَ قَدْ کَانَ یَفْعَلُ، وَرُبَمَا جَہَرَ وَرُبَمَا أَسَرَّ ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جنابت کی حالت میں سونا کیسے ہوتا تھا؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے؟ انہوں نے کہا: آپ اس طرح کرتے تھے کہ بسا اوقات غسل کر کے سو جاتے اور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے۔ میں نے ان سے پھر کہا: رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت کیسے ہوتی تھی؟ کیا آپ بلند آواز سے قراءت کرتے تھے یا آہستہ آواز سے؟ انہوں نے کہا: آپ دونوں طرح کرتے تھے، بسا اوقات بآواز بلند قراءت کرتے تھے اور کبھی کبھار پست آواز میں کرتے تھے۔

2136

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2136

Sahih

۔ (۲۱۳۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا بَدَّنَ وَثَقُلَ یَقْرَأُ مَا شَائَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَھُوَ جَالِسٌ فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّوْرَۃِ ثَلَاثُوْنَ أَوْأَرْبَعُوْنَ آیَۃً قَامَ فَقَرَأَھَا ثُمَّ سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب عمر رسیدہ اور بھاری ہوگئے، تو جتنی اللہ تعالیٰ چاہتا آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے اور جب سورت کی تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے اور ان کی تلاوت کر کے پھر سجدہ کرتے۔

2137

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2137

Sahih

۔ (۲۱۳۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّیْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقَرْآنُ عَلٰی لِسَانِہِ فَلَمْ یَدْرِ مَایَقُولُ فَلْیَضْطَجِعْ)) (مسند احمد: ۸۲۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کاقیام کرے ، لیکن (نیند کے غلبے کی وجہ سے) اس کی زبان پر قرآن مشکل ہوجائے اور اسے یہ سمجھ بھی نہ آ رہی ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، تو وہ لیٹ جائے۔