Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 36 · Chapter 368

نفل نماز کے ابواب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان

13 hadiths in this chapter

2043

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2043

Sahih

۔ (۲۰۴۳، ۲۰۴۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِکُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْھَا قُبُوْرًا۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((صَلُّوْافِیْ بُیُوْتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْھَا قُبُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ ایک روایت میں ہے: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنا لو۔

2044

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2044

Sahih

۔ (۲۰۴۳، ۲۰۴۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِکُمْ فِیْ بُیُوْتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْھَا قُبُوْرًا۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((صَلُّوْافِیْ بُیُوْتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوْھَا قُبُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۴۶۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ ایک روایت میں ہے: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنا لو۔

2045

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2045

Sahih

۔ (۲۰۴۵) عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّہَارِ، فَقَالَ: إِنَّکُمْ لَا تُطِیْقُوْنَہُ، قَالَ: قُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِہِ، نَأْخُذُ مِنْہُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا صَلَّی الْفَجْرَ أَمْھَلَ حَتّٰی إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِی مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَ ھَا مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِی مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ یُمْہِلُ حَتّٰی إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِی مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَھَا مِنْ صَلَاۃِ الظُّہْرِ مِنْ ھٰہُنَا یَعْنِیْ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلّٰی أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّہْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَھَا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ یَفْصِلُ بَیْنَ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ بِالتَّسْلِیْمِ عَلَی الْمَلَائِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَالنَّبِیِّیْنَ وَمَنْ تَبِعَہُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ، قَالَ: قَالَ عَلَیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: تِلْکَ سِتَّ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً تَطَوُّعُ النَّبِیِّ ّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّہَارِ وَقَلَّ مَنْ یُدَاوِمُ عَلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۶۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

عاصم بن ضمرۃ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے وقت کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تم تو اس کی ادائیگی کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں بتا تو دیں، جتنی طاقت ہم میں ہوئی، ہم اس کے مطابق عمل کریں گے، انہوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو ٹھہر جاتے حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کی نماز کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے، اس وقت آپ اٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہر جاتے، حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں وہاں آ جاتا، جہاں ظہر کے وقت مغرب میں ہوتا ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چار رکعت ادا کرتے، پھر چار رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھتے، جبکہ سورج ڈھل چکا ہوتا تھا، ظہر کے بعد دو رکعتیں اورعصر سے پہلے چار رکعت ادا کرتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے درمیان مقرب فرشتوں، نبیوں اور ان کی پیروی کرنے والے مومنوں اور مسلمانوں کے لیے سلامتی کی دعا کرنے کے ساتھ فرق کرتے (یعنی سلام پھیرتے)۔ پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ سولہ رکعتیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دن کے وقت نفل نماز ہے اور ایسے لوگ کم ہی ہیں، جو ان پر ہمیشگی کرتے ہیں۔

2046

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2046

Sahih

۔ (۲۰۴۶) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ حَبِیْبُ بْنُ أَبِیْ ثَابِتٍ لِأَبِیْ إِسْحَاقَ حِیْنَ حَدَّثَہُ: یَا اَبَا إِسْحَاقَ! یَسْوٰی حَدِیْثُکَ ھٰذَا مِلْئَ مَسْجِدِکَ ذَھَبًا، (وَفِی لَفْظٍ:) قَالَ حَبِیْبُ بْنُ أَبِیْ ثَابِتٍ: یَا أَبَا إِسْحَاقَ! مَاأُحِبُّ أَنَّ لِیْ بِحَدِیْثِکَ ھٰذَا مِلْئَ مَسْجِدِکَ ھَذَا ذَھَبًا۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اے ابو اسحاق! اے ابو اسحاق! آپ کی یہ حدیث تو آپ کی سونے سے بھری ہوئی مسجد کے برابر ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اے ابو اسحاق! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے لئے آپ کی اس حدیث کے بدلے سونے سے بھری ہوئی مسجد ہو۔

2047

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2047

Sahih

۔ (۲۰۴۷) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ مِنَ التَّطَوُّعِ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ وَبِالنَّھَارِ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

اور اس سے یہ بھی روایت ہے فرمایا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کے وقت نوافل آٹھ رکعت اور دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔

2048

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2048

Sahih

۔ (۲۰۴۸) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی عَلٰی کُلِّ إِثْرِصَلَاۃٍ (وَفِیْ رِوایَۃٍ: فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ) مَکْتُوْبَۃٍ رَکْعَتَیْنِ اِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔

2049

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2049

Sahih

۔ (۲۰۴۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الظُّہْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ ھَا، وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِیْ بَیْتِہِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ فِیْ بَیْتِہِ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِیْ حَفْصَۃُ أَنَّہُ کَانَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ حِیْنَیَطْلُعُ الْفَجْرُ وَیُنَادِی الْمُنَادِیْ بِا لصَّلَاۃِ قَالَ أَیُّوبُ (أَحَدُالرُّوَاۃِ) أُرَاہُ قَالَ خَفِیْفَتَیْنٍ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْجُمْعَۃِ فِی بَیْتِہِ۔ (مسند احمد: ۴۵۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت، اس کے بعد دو رکعت، مغرب کے بعد دو رکعت گھر میں، عشاء کے بعد دو رکعت گھر میں نماز پڑھی، اور مجھے سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوجاتی اور مؤذن نماز کے لئے اذان کہہ دیتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں ادا کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں گھر میں پڑھتے تھے۔

2050

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2050

Sahih

۔ (۲۰۵۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ الظُّہْرِ سَجْدَتَیْنِ وَبَعْدَھَا سَجْدَتَیْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَیْنِ وَبَعْدَ الْعِشَائِ سَجْدَتَیْنِ وَبَعْدَ الْجُمْعَۃِ سَجْدَ تَیْنِ، فَأَمَّا الْجُمْعَۃُ وَالْمَغْرِبُ فِی بَیْتِہِ، قاَلَ: وَأَخْبَرَ تْنِی أُخْتِی حَفْصَۃُ أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی سَجْدَتَیْنِ خَفِیْفَتَیْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ وَکَانَتْ سَاعَۃً لَا أَدْخُلُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۴۶۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو ،اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ اور مغرب کے بعد والی نماز گھر میں پڑھتے تھے۔ اور مجھے میری بہن سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ ایسی گھڑی تھی کہ میں اس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس نہیں جاتاتھا۔

2051

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2051

Sahih

۔ (۲۰۵۱) عَنْ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّتِیْ لَایَدَعُ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الظُّہْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَھَا وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۵۱۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ظہر سے پہلے دو، اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو رکعتیں،یہ ایسی نماز تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس کو ترک نہیں کرتے تھے۔

2052

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2052

Sahih

۔ (۲۰۵۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ التَّطَوُّعِ فَقَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَ الظُّہْرِ أَرْبَعًا فِیْ بَیْتِی ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی بَیْتِیْ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلَی بَیْتِہِ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ بِہِمُ الْعِشَائَ ثُمَّ یَدْخُلُ بَیْتِیْ فَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ، وَکَانَ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تِسْعَ رَکَعَاتٍ فِیْہْنَّ الْوِتْرُ، وَکَانَ یُصَلِّی لَیْلاً طَوِیْلاً قَائِمًا وَلَیْلاً طَوِیْلاً جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَھُوَ قَائِمٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَھُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ وَھُوَ قَاعِدٌ رَکَعَ وَسَجَدَ وَھُوَ قَاعِدٌ وَکَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھ کر نکلتے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھا کر میرے گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا کرتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر میں واپس آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے،پھر آپ عشاء کی نماز پڑھاکر میرے گھر میں داخل ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو وتر سمیت نو رکعت نماز پڑھتے تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو کافی وقت کھڑے ہو کر اور کافی وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو کر قراءت کر رہے ہوتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر ہی ادا کرتے تھے اور جب قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی اداکرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعت نماز ادا کر کے چلے جاتے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے۔

2053

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2053

Sahih

۔ (۲۰۵۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَۃَ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّھْرِ وَثِنْتَیْنِ بَعْدَھَا، وَثِنْتَیْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَثِنْتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَثِنْتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ، ثُمَّ یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ تِسْعًا۔ قُلْتُ أَقَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: یُصَلِّیْ لَیْلاً طَوِیْلاً قَائِمًا وَلَیْلاً طَوِیْلاً قَاعِدًا۔ قُلْتُ کَیْفَیَصْنَعُ إِذَا کَانَ قَائِمًا وَکَیْفَیَصْنَعُ إِذَا کَانَ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَکَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَکَعَ قَاعِدًا، وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر سے پہلے چار،اس کے بعد دو، عصر سے پہلے دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اوررات کو نو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔میں نے کہا: کھڑے ہو کر پڑھتےیا بیٹھ کر؟ انہوں نے کہا: کافی دیر کھڑے ہوکر اور کافی دیر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، میں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوکر اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو کیسے کرتے؟ انہوں نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے اور نمازِ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

2054

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2054

Zaeef

۔ (۲۰۵۴) عَنْ قَابُوْسٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَرْسَلَ أَبِیْ اِمْرَأَۃً إِلٰی عَائِشَۃَیَسْأَلُھَا أَیُّ الصَّلَاۃِ کَانَتْ أَحَبَّ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُوَاظِبَ عَلَیْہَا؟ قَالَتْ: کَانَ یُصَلِّیْ قَبْلَ الظُّہْرِ أَرْبَعًا یُطِیْلُ فِیْہِنَّ الْقِیَامَ وَیُحْسِنُ فِیْہِنَّ الرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ، فَأَمَّا مَالَمْ یَکُنْیَدَعُ صَحِیْحًا وَلَا مَرِیْضًا وَلَا غَائِبًا وَلَا شَاھِدًا، فَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

قابوس کے باپ نے ایک عورت کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے یہ پوچھ کر آئے کہ کون سی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھی کہ آپ اس پر ہمیشگی کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور ان میں لمبا قیام کرتے اور اچھے انداز میں رکوع و سجود ادا کرتے، رہا مسئلہ اس نماز کا کہ جسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تندرستی کی حالت میں، بیماری کی حالت میں، اور سفر میں اور حضر میں نہ چھوڑتے ہوں، وہ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ہیں۔

2055

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #2055

Sahih

۔ (۲۰۵۵) عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِعَنْبَسَۃَ بْنِ أَبِیْ سُفْیَانَ الْمَوْتُ، اِشْتَدَّ جَزَعُہُ، فَقِیْلَ لَہُ: مَا ھٰذَا الْجَزَعُ؟ قَالَ إِنِّی سَمِعْتُ أُمَّ حَبِیْبَۃَیَعْنِی أُخْتَہُ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلّٰی أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّہْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَھَا حَرَّمَ اللّٰہُ لَحْمَہُ عَلَی النَّارِ۔)) فَمَا تَرْکْتُہُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُہُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

حسان بن عطیہ کہتے ہیں: جب عنبسہ بن ابی سفیان کی موت کا وقت آیا تو ان کی گھبراہٹ بڑھ گئی، کسی نے ان سے کہا: یہ گھبراہٹ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اپنی بہن سیدہ ام حبیبہ سے سنا ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار اورا س بعد چار رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے گوشت کو آگ پر حرام کردے گا۔ اور میں نے جب سے ان سے یہ حدیث سنی ہے، ان آٹھ رکعتوں کو ترک نہیں کیا۔