Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 31

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

تقدیر کو جھٹلانے والوں سے قطع تعلقی کرنے اور ان پر سختی کرنے کا بیان

10 hadiths in this chapter

223

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #223

Zaeef

۔ (۲۲۳)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِکُلِّ أُمَّۃٍ مَجُوْسٌ وَمَجُوْسُ أُمَّتِیَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا قَدَرَ، اِنْ مَرِضُوْا فَلَاتَعُوْدُوْہُمْ وَاِنْ مَاتُوْا فَلَا تَشْہَدُوْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۵۵۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور میری امت کے مجوسی لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، اگر یہ لوگ بیمار پڑ جائیں تو ان کی تیمارداری نہ کرنا اور اگر یہ مر جائیں تو ان کے جنازوں میں حاضر نہیں ہونا۔

224

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #224

Zaeef

۔ (۲۲۴) (وَعَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ لِکُلِّ أُمَّۃٍ مَجُوْسًا وَاِنَّ مَجُوْسَ أُمَّتِی الْمُکُذِّبُوْنَ بِالْقَدَرِ، فَاِنْ مَاتُوْا فَلَا تَشْہَدُوْہُمْ وَاِنْ مَرِضُوْا فَلَا تَعُوْدُوْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۶۰۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری روایت) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور میری امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں، جو تقدیر کو جھٹلانے والے ہیں، پس اگر یہ لوگ مر جائیں تو ان کے جنازوںمیں حاضر نہیں ہونا اور اگر یہ بیمار ہو جائیں تو ان کی تیمارداری نہیں کرنی۔

225

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #225

Zaeef

۔ (۲۲۵)۔وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیَکُوْنُ فِیْ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ مَسْخٌ، أَلَا وَذَاکَ فِی الْمُکَذِّبِیْنَ بِالْقَدَرِ وَالزِّنْدِیْقِیَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۵۸۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عنقریب میری امت میں بھی مسخ ہو گا (یعنی شکلیں بگڑ جائیں گی)، خبردار! ایسے تقدیر کو جھٹلانے والوں اور زندیقوں میں ہو گا۔

226

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #226

Zaeef

۔ (۲۲۶)۔عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ لِکُلِّ أُمَّۃٍ مَجُوْسًا، وَمَجُوْسُ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا قَدَرَ، فَمَنْ مَرِضَ مِنْہُمْ فَلَا تَعُوْدُوْہُمْ وَمَنْ مَاتَ مِنْہُمْ فَلَا تَشْہَدُوْہُ، وَہُمْ شِیْعَۃُ الدَّجَّالِ، حَقًّا عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ أَنْ یُلْحِقَہُمْ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۸۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ بن یمان ؓ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ’بیشک ہر امت میں مجوسی ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں، جو یہ کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے، اگر ان میں سے کوئی بیمار پڑ جائے تو اس کی تیمارداری نہیں کرنی اور اگر کوئی مر جائے تو اس کے جنازے میں حاضر نہیں ہونا، یہ لوگ دجال کے پیروکار ہوں گے اور اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اِن کو اُسی کے ساتھ ملا دے۔

227

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #227

Sahih

۔ (۲۲۷)۔عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُکَذِّبٌ بِقَدَرٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نافرمان و بد سلوک، ہمیشہ شراب پینے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔

228

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #228

Sahih

۔ (۲۲۸)۔عَنْ عَمْروٍ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَالنَّاسُ یَتَکَلَّمُوْنَ فِی الْقَدَرِ، قَالَ: وَکَأَنَّمَا تَفَقَّأَ فِیْ وَجْہِہِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ لَہُمْ: ((مَا لَکُمْ تَضْرِبُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ بَعْضَہُ بِبَعْضٍ، بِھٰذَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ۔)) قَالَ: فَمَا غَبَطْتُّ نَفْسِیْ بِمَجْلِسٍ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ أَشْہَدْہُ بِمَا غَبَطْتُ نَفْسِیْ بِذٰلِکَ الْمَجْلِسِ، أَنِّی لَمْ أَشْہَدْہُ۔ (مسند أحمد: ۶۶۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک دن باہر تشریف لائے اور لوگ تقدیر کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اتنا غصہ آیا کہ یوں لگا کہ انار کا دانہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے چہرے پر پھٹ گیا ہے (یعنی غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا)، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے سے ٹکرا رہے ہو، اسی وجہ سے تم سے پہلے والے لوگ ہلاک ہو گئے۔ سیدنا عبد اللہ نے کہا: جس مجلس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہوتے تھے، اس میں حاضر نہ ہونے کا اتنا رشک کبھی نہیں ہوا تھا، جو اس مجلس کے بارے میں ہوا کہ کاش میں اس میں موجود نہ ہوتا (تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے غصے کا مصداق بننے سے بچ جاتا)۔

229

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #229

Sahih

۔ (۲۲۹)۔عَنْ عُمَرَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تُجَالِسُوْا أَہْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوْہُمْ۔)) وَقَالَ أَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ مَرَّۃً: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہ تم اہلِ قدر (یعنی تقدیر کو جھٹلانے والوں) کی مجلس اختیار کرو اور نہ ان کو حاکم بناؤ (یا ان سے بحث مباحثہ نہ کرو۔

230

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #230

Sahih

۔ (۲۳۰)۔عَنْ نَافِعٍ قَالَ: کَانَ لِابْنِ عُمَرَ (ؓ) صَدِیْقٌ مِنْ أَھْلِ الشَّامِ یُکَاتِبُہُ، فَکَتَبَ اِلَیْہِ مَرَّۃً عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ أَنَّہُ بَلَغَنِیْ تَکَلَّمْتَ فِیْ شَیْئٍ مِنَ الْقَدَرِ فَاِیَّاکَ أَنْ تَکْتُبَ اِلَیَّ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((سَیَکُوْنُ فِیْ أُمَّتِیْ أَقْوَامٌ یُکَذِّبُوْنَ بِالْقَدْرِ۔)) (مسند أحمد: ۵۶۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکا شام میں ایک دوست تھا، وہ اِن کو خط لکھتا رہتا تھا، ایک دفعہ سیدنا عبد اللہ ؓ نے ان کی طرف یہ بات لکھی: مجھے تمہارے بارے میں یہ بات موصول ہوئی ہے کہ تم نے تقدیر کے مسئلے پر کچھ (ناجائز) گفتگو کی ہے، اس لیے اب مجھے خط لکھنے سے گریز کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے، جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔

231

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #231

Sahih

۔ (۲۳۱)۔عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ الْمَکِّیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قِیْلَ لِابْنِ عَبَّاسٍؓ: اِنَّ رَجُلًا قَدِمَ عَلَیْنَا یُکَذِّبُ بِالْقَدَرِ، فَقَالَ: دُلُّوْنِیْ عَلَیْہِ، وَھُوَ یَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِیَ، قَالُوْا: وَمَا تَصْنَعُ بِہِ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَئِنِ اسْتَمْکَنْتُ مِنْہُ لَأَعَضَّنَّ أَنْفَہُ حَتَّی أَقْطَعَہُ وَلَئِنْ وَقَعَتْ رَقَبَتُہُ فِیْ یَدَیَّ لَأَدُقَّنَّہَا، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((کَأَنِّیْ بِنِسَائِ بَنِیْ فِہْرٍ یَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ تَصْطَفِقُ أَلْیَاتُہُنَّ مُشْرِکَاتٍ۔)) ھٰذَا أَوَّلُ شِرْکِ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیَنْتَہِیَنَّ بِھِمْ سُوْئُ رَأْیِہِمْ حَتّٰی یُخْرِجُوْا اللّٰہَ مِنْ أَنْ یَکُوْنَ قَدَّرَ خَیْرًا، کَمَا أَخْرَجُوْہُ مِنْ أَنْ یَکُوْنَ قَدَّرَ شَرًّا۔ (مسند أحمد: ۳۰۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن عبید مکی کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے کہا: ہمارے پاس ایک آدمی آیا ہے، وہ تقدیر کو جھٹلاتا ہے، انھوں نے کہا: مجھے اس کے پاس لے جاؤ، وہ اس وقت نابینا ہو چکے تھے، لوگوں نے کہا: اے ابن عباس! آپ اس کو کیا کریں گے؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اس پر قابو پا لیا تو اس کے ناک پر کاٹوں گا، یہاں تک کہ اس کو کاٹ دوں گا اور اگر میرے ہاتھوں میں اس کی گردن آ گئی تو اس کو توڑ دوں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: گویا کہ میں بنو فہر کی ان خواتین کو دیکھ رہا ہوں، جو خزرج کا طواف کر رہی ہیں اور ان کے سرین حرکت کر رہے ہیں اور وہ مشرک ہیں۔ یہ اس امت کا پہلا شرک ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان لوگوں کی یہ گھٹیا رائے اِن کو اس مقام تک پہنچا دے گی کہ یہ اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے بھی نکال دیں کہ اس نے خیر کو مقدّر کیا ہے، جیسا کہ انھوں نے اُس کو اس چیز سے سے نکال دیا کہ اس نے شرّ کو مقدّر کیا ہے۔

232

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #232

Sahih

۔ (۲۳۲)۔عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ: أَنَا رَأَیْتُ غَیْلَانَ یَعْنِیْ الْقَدَرِیَّ مَصْلُوْبًا عَلَی بَابِ دِمَشْقَ۔ (مسند أحمد: ۵۸۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عون کہتے ہیں: میں نے غَیلان قدری کو دیکھا تھا، اس حال میں کہ اس کو بابِ دمشق پر پھانسی دی ہوئی تھی۔