Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 4 · Chapter 32

علم کے ابواب

علم اور علماء کی فضیلت کا بیان

7 hadiths in this chapter

233

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #233

Sahih

۔ (۲۳۳)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا حَسَدَ اِلَّا فِیْ اثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلَی ہَلَکَتِہِ فِیْ الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتاہ اللّٰہُ حِکْمَۃً فَہُوَ یَقْضِی بِہَا وَیُعَلِّمُہَاالنَّاسَ۔)) (مسند أحمد: ۳۶۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف دو چیزوں میں رشک ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر اس کو حق کے لیے بھرپور خرچ کرنے کی توفیق بھی دی اور دوسرا وہ آدمی کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو حکمت (یعنی علمِ نافع) عطا اور وہ اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔

234

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #234

Zaeef

۔ (۲۳۴)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَائِ فِی الْأَرْضِ کَمَثَلِ النُّجُوْمِ فِی السَّمَائِ یُہْتَدٰی بِھِمْ فِیْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، فَاِذَا انْطَمَسَتِ النُّجُوْمُ یُوْشِکُ أَنْ تَضِلَّ الْہُدَاۃُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: زمین میں اہل علم کی مثال، آسمان میں ستاروں کی سی ہے، اِن علماء کے ذریعے خشکی اور سمندری اندھیروں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے، جب یہ ستارے مٹ جائیں گے تو جلدی ہی رہنمائی کرنے والے گمراہ ہو جائیں گے۔

235

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #235

Sahih

۔ (۲۳۵)۔عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا بَعَثَ اَحَدًا مِنْ أَصْحَابِہِ فِیْ بَعْضِ أَمْرِہِ قَالَ: ((بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا وَیَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا۔)) (مسند أحمد: ۱۹۹۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو کسی کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے: (لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے وقت) خوشخبریاں سنانا اور متنفر نہ کر دینا اور آسانیاں پیدا کرنا اور (دین میں) مشکلات پیدا نہ کر دینا۔

236

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #236

Sahih

۔ (۲۳۶)وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِیَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہِ مِنَ الْہُدٰی وَالْعِلْمِ کَمَثَلِ غَیْثٍ أَصَابَ الْأَرْضَ، فَکَانَتْ مِنْہُ طَائِفَۃٌ قَبِلَتْ فَأَنْبَتَتِ الْکَلَاَ وَالْعُشْبَ الْکَثِیْرَ، وَکَانَتْ مِنْہَا أَجَادِبُ أَمْسَکَتِ الْمَائَ فَنَفَعَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہَا نَاسًا فَشَرِبُوْا فَرَعَوْا وَسَقَوْا وَ زَرَعُوْا وَأَسْقَوْا، وَأَصَابَتْ طَائِفَۃً مِنْہَا أُخْرٰی، اِنَّمَا ہِیَ قِیْعَانٌ لَا تُمْسِکُ مَائً وَلَا تُنْبِتُ کَلََأً، فَذٰلِکَ مَثَلُ مَنْ فَقُہَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَنَفَعَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِمَا بَعَثَنِیْ بِہِ وَنَفَعَ بِہِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ یَرْفَعْ بِذٰلِکَ رَأْسًا وَلَمْ یَقْبَلْ ہُدَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ الَّذِیْ أُرْسِلْتُ بِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۸۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم عطا کر کے بھیجا ہے، اس کی مثال اس بارش کی سی ہے، جو زمین پر نازل ہوئی، زمین کے ایک حصے نے اس کا پانی قبول کیا اور بہت زیادہ گھاس اگائی اور ایک حصہ سخت تھا، اس نے پانی کو روک لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے کئی لوگوں کو فائدہ پہنچایا، پس انھوں نے پانی پیا، مویشیوں کو پلایا، کھیتی کاشت کی اور اس کو سیراب کیا۔ پھر یہی بارش اس زمین پر بھی برسی، جو چٹیل میدان تھی، وہ نہ پانی کو روک سکی اور نہ گھاس اگا سکی۔ پس اول الذکر اس شخص کی مثال ہے جس نے دین میں فقہ حاصل کی، (یعنی دین کو سمجھا اور اس کا علم حاصل کیا)، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے جس چیز کے ساتھ بھیجا ہے، اس کو اس کے ذریعے نفع دیا اور پھر اس کے ذریعے لوگوں کو نفع دیا، سو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور لوگوں کو بھی اس کی تعلیم دی اور مؤخر الذکر اس آدمی کی مثال ہے، جس نے (علم اور ہدایت قبول کرنے کیلئے) سرے سے سر ہی نہیں اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی وہ ہدایت قبول نہیں کی، جس کے ساتھ اس نے مجھے مبعوث کیا۔

237

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #237

Sahih

۔ (۲۳۷)۔عَنْ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِالْحٰرِثِ أَنَّہُ لَقِیَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِؓ بِعُسْفَانَ، وَکَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَہُ عَلٰی مُلْکِہِ، فقَالَ لَہُ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَی أَھْلِ الْوَادِیْ؟ قَالَ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَیْہِمُ ابْنَ أَبْزٰی، قَالَ: وَمَا ابْنُ أَبْزٰی؟ فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ مَوَالِیْنَا، فَقَالَ عُمَرُ: اسْتَخْلَفْتَ عَلَیْہِمْ مَولًی! فَقَالَ: اِنَّہُ قَارِیئٌ لِکِتَابِ اللّٰہِ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَاضٍ، فَقَالَ عُمَرُؓ: أَمَا اِنَّ نَبِیَّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِیْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

نافع بن عبدالحارث سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطابؓ کو عُسفان مقام پر ملے، سیدنا عمر ؓ نے اُس کو اس کے سابقہ ملک کا عامل بنایا ہوا تھا، سیدنا عمر ؓ نے اس سے کہا: تم وادی والوں پر کس کو نائب بنا کر آئے ہو؟ اس نے کہا: جی میں ابن ابزی کو نائب بنا کر آیا ہوں، انھوں نے کہا: ابن ابزی کون ہے؟ اس نے کہا: یہ ہمارا ایک غلام ہے، انھوں نے کہا: تم غلام کو نائب بنا آئے ہو! اس نے کہا: جی وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پڑھنے والا، فرائض کو جاننے والا اور فیصلہ کرنے والا ہے، سیدنا عمرؓ نے کہا: خبردار! تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو رفعت عطا کرتا ہے اور اسی کے ذریعے بعضوں کو ذلیل کر دیتا ہے۔

238

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #238

Sahih

۔ (۲۳۸)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ: أَنَّ أھَلَ الْیَمَنِ قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ فَقَالُوْا: ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا یُعَلِّمُنَا، فَأَخَذَ بِیَدِ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِؓ فَأَرْسَلَہُ مَعَہُمْ فَقَالَ: ((ھٰذَا أَمِیْنُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۸۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ یمن کے لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے اور کہا: ہمارے پاس ایسا آدمی بھیجیں، جو ہمیں دین کی تعلیم دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ؓکا ہاتھ پکڑا اور ان کو ان کے ساتھ بھیجا اور فرمایا: یہ اس امت کا امین ہے۔

239

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #239

Sahih

۔ (۲۳۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا ہٰرُوْنَ ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِیْ مَالِکُ بْنُ الْخَیْرِ الزِیَادِیُّ عَنْ أَبِیْ قَبِیْلِ نِ الْمَعَافِرِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ(ؓ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنْ أُمَّتِیْ مَنْ لَمْ یُجِلَّ کَبِیْرَنَا وَ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَ یَعْرِفْ لِعَالِمِنَا۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: وَسَمِعْتُہُ أَنَا مِنْ ہَارُوْنَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۱۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عباد ہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ آدمی میری امت میں سے نہیں ہے، جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہیں کرتا، چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے اہل علم کا حق نہیں پہنچانتا۔