Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 30

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کا بیان

12 hadiths in this chapter

211

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #211

Sahih

۔ (۲۱۱)۔عن أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الْعَمَلُ عَلَی مَا فُرِ غَ مِنْہُ أَوْ عَلَی أَمْرٍ مُؤْتَنَفٍ؟ قَالَ: ((بَلْ عَلَی أَمْرٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: فَفِیْمَ الْعَمَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((کُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو بکر صدیق ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! عمل اس چیز کے مطابق ہے، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے یا اس کے مطابق ہے، جو ازسرِ نو ہو رہی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس معاملے کے مطابق ہے، جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کس چیز میں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر ایک کے لیے وہ عمل آسان کر دیا گیا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔

212

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #212

Sahih

۔ (۲۱۲)۔عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ ؓ قَالَ: سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ أَوْ مُزَیْنَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ، أَفِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی أَوْ فِیْ شَیْئٍ یُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: ((فِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی۔)) فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((أَھْلُ الْجَنَّۃِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ أَہْلُ النَّارِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ جہینہ یا مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس (تقدیر) کے مطابق جو گزر چکی ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے۔ اس آدمی نے یا کسی اور شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کی کیا حقیقت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنتیوں کے لیے اہلِ جنت کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے اور جہنمیوں کے لیے اہلِ جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے۔

213

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #213

Sahih

۔ (۲۱۳)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِؓ أَنَّ سُرَاقَۃَ بْنَ مَالِکِ بْنِ جُعْشَمٍؓ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَ الْعَمَلُ؟ أَفِیْ شَیْئٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ أَوْ فِیْ شَیْئٍ نَسْتَأْنِفُہُ؟ فَقَالَ: ((بَلْ فِیْ شَیْئٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ۔)) قَالَ: فَفِیْمَ الْعَمَلُ اِذًا؟ قَالَ: ((اِعْمَلُوْا! فَکُلٌ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۳۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا سراقہ بن جعشم ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس (تقدیر) کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے، یا اس چیز کے مطابق جو ہم از سرِ نو کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس چیز کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔ انھوں نے کہا: تو پھر عمل کاہے کا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے۔

214

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #214

Sahih

۔ (۲۱۴)۔ عن أَبِیْ الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ(یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ اللّٰہِؓ) أَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَعْمَلُ لِأَمْرٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ أَمْ لِأَمْرٍ نَأْتَنِفُہُ؟ قَالَ: ((لِأَمْرٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ۔)) فَقَالَ سُرَاقَۃُ: فَفِیْمَ الْعَمَلُ اِذًا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((کُلُّ عَامِلٍ مُیَسَّرٌ لِعَمَلِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۶۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں، جس سے فارغ ہو ا جا چکا ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہم کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس چیز کے مطابق جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔ سیدنا سراقہ ؓ نے کہا: تو پھر عمل کی کیا حقیقت ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر عامل کے لیے اس کا عمل آسان کر دیا گیا ہے۔

215

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #215

Sahih

۔ (۲۱۵)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ذَاتَ یَوْمٍ جَالِسًا وَفِیْ یَدِہِ عُوْدٌ یَنْکُتُ بِہِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((مَامِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ اِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُہَا مِنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ۔)) قَالَ: فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَلِمَ نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((اِعْمَلُوْا!فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) {أَمَّا مَنْ أَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی وَکَذَّبَ بِالحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرٰی} (مسند أحمد: ۶۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ میں لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کو کرید رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی منزل کا علم ہو چکا ہے کہ وہ جنت ہے یا جہنم۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر ہم عمل کیوں کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور (اپنے ربّ سے) ڈرا اور نیک بات کی تصدیق کی۔ تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی۔ تو ہم بھی اسی کے لیے اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (سورۂ لیل: ۵ تا۱۰)

216

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #216

Sahih

۔ (۲۱۶) (وَ عَنْہُ فِیْ أُخْرٰی)۔عَنْ عَلِیٍّ (ؓ) قَالَ: کُنَّا مَعَ جَنَازَۃٍ فِیْ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ فَأَتَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَہُ وَمَعَہُ مِخْصَرَۃٌ یَنْکُتُ بِہَا، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَہُ فَقَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوْسَۃٍ اِلَّا وَقَدْ کُتِبَ مََقْعَدُہَا مِنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ، اِلَّا قَدْ کُتِبَتْ شَقِیَّۃً أَوْ سَعِیْدَۃً۔)) فَقَالَ الْقَوْمُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَفَلَا نَمْکُثُ عَلَی کِتَابِنَا وَ نَدَعُ الْعَمَلَ، فَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ السَّعَادَۃِ فَسَیَصِیْرُ اِلَی السَّعَادَۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الشِّقْوَۃِ فَسَیَصِیْرُ اِلیَ الشِّقْوَۃِ؟ فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِعْمَلُوْا! فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الشِّقْوَۃِ فَاِنَّہُ مُیَسَّرٌ لِعَمَلِ الشِّقْوَۃِ، وَأَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ السَّعَادَۃِ فَاِنَّہُ مُیَسَّرٌ لِعَمَلِ السَّعَادَۃِ۔)) ثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰی وَاتَّقٰی} اِلٰی قَوْلِہِ {فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرٰی}۔ (مسند أحمد: ۱۰۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری روایت)سیدنا علی ؓ کہتے ہیں: ہم بقیع غرقد میں ایک جنازے کے ساتھ تھے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ارد گرد بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ایک چھڑی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس سے زمین کو کرید، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی نگاہ اوپر اٹھائی اور فرمایا: تم میں سے ہر ایک کا جنت اور جہنم کی صورت میں ٹھکانہ لکھا جا چکا ہے اور یہ بھی لکھا جا چکا ہے کہ وہ خوش بخت ہے یا بد بخت۔ لوگوں نے کہا: کیا ہم اپنی کتاب پر اعتماد کر کے عمل ترک نہ کر دیں، کیونکہ جو خوش بختوں میں سے ہو گا، وہ خوش بختی تک رسائی حاصل کرلے گا اور جو بدبختوں میں سے ہو گا، وہ بدبختی تک پہنچ جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عمل کرو، ہر ایک کو آسان کر دیا گیا ہے، جو بد بختوں میں سے ہے، اس کے لیے بدبختی کے عمل آسان کر دیئے گئے ہیں اور جو خوش بختوںمیں سے ہے، اس کے لیے خوش بختی کے عمل آسان کر دیئے گئے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے یہ آیات تلاوت کیں: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی ۔ وَاَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی ۔ وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرٰی ۔} … جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے ربّ سے)، اور نیک بات کی تصدیق کی، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی، اور نیک بات کی تکذیب کی، تو ہم بھی اس کے لیے تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔

217

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #217

Sahih

۔ (۲۱۷)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَا نَعْمَلُ فِیْہِ، أَفِیْ أَمْرٍ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ أَوْ مُبْتَدَأٍ أَوْ مُبْتَدَعٍ؟ قَالَ: ((فِیْمَا قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ، فَاعْمَلْ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَاِنَّ کُلًّا مُیَسَّرٌ، أَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ السَّعَادَۃِ فَاِنَّہُ یَعْمَلُ لِلسَّعَادَۃِ، وَأَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الشَّقَائِ فَاِنَّہُ یَعْمَلُ لِلشَّقَائِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اس (تقدیر) کے مطابق ہیں، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، یا اب ان کی ابتداء ہو رہی ہے اور ان کو ایجاد کیا جا رہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ اس (تقدیر)کے مطابق ہے، جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، اے ابن خطاب! عمل کر، پس ہر ایک کو آسان کر دیا گیا ہے، پس جو شخص خوش بختوں میں سے ہو، وہ خوش بختی کے لیے عمل کرتا ہے اور جو بد بختوںمیں سے ہو، وہ بد بختی کے لیے عمل کرتا ہے۔

218

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #218

Sahih

۔ (۲۱۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِیْ یَدِہِ کِتَابَانِ فَقَالَ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا ہٰذَانِ الْکِتَابَانِ؟۔)) قَالَ: قُلْنَا: لَا اِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ لِلَّذِیْ فِیْ یَدِہِ الْیُمْنٰی: ((ھٰذَا کِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِأَسْمَائِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ أَسْمَائِ آبَائِ ہِمْ وَ قَبَائِلِہِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰی آخِرِہِمْ لَا یُزَادُ فِیْھِمْ وَلَا یُنْقَصُ مِنْہُمْ أَبَدًا۔)) ثُمَّ قَالَ لِلَّذِیْ فِیْ یَسَارِہِ: ((ھٰذَا کِتَابُ أَہْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِ ہِمْ وَ أَسْمَائِ آبَائِہِمْ وَقَبَائِلِہِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰی آخِرِہِمْ لَا یُزْادُ فِیْھِمْ وَلَا یُنْقَصُ مِنْہُمْ أَبَدًا۔))فقَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: فَلِاَیِّ شَیْئٍ اِذَنْ نَعْمَلُ اِنْ کَانَ ھٰذَا أَمْرٌ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا! فَاِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّۃِ یُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ وَ اِنْ عَمِلَ أَیَّ عَمَلٍ، وَاِنَّ صَاحِبَ النَّارِ لَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ وَاِنْ عَمِلَ أَیَّ عَمَلٍ۔)) ثُمَّ قَالَ بِیَدِہِ فَقَبَضَہَا، ثُمَّ قَالَ: ((فَرَغَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ۔)) ثُمَّ قَالَ بِالْیُمْنٰی فَنَبَذَہَا فَقَالَ: ((فَرِیْقٌ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) وَ نَبَذَ بِالْیُسْرٰی فَقَالَ: ((فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ مبارک میں دو کتابیں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سی دو کتابیں ہیں؟ ہم نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! الّا یہ کہ آپ ہمیں بتا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا: یہ کتاب ربّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں اہل جنت اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں اور اخیر پر ان کی میزان جوڑ دی گئی ہے (ٹوٹل)نہ ان میں بیشی ہو سکتی ہے، نہ کمی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں کہا: یہ جہنمیوں کی کتاب ہے، اس میں ان کے نام اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں اور اخیر پر ان کی میزان جوڑ دی گئی، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ صحابہ نے کہا: اگر اس معاملے سے اس قدر فارغ ہوا جا چکا ہے تو پھر ہم کس چیز کے لیے عمل کریں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: راہِ صواب پر چلتے رہو اور میانہ روی اختیار کرو، بیشک جنتی آدمی کا اختتام جنت والوں کے عمل کے ساتھ ہو گا، اگرچہ وہ جون سا مرضی عمل کرتا رہے اور جہنمی آدمی کا اختتام اہلِ جہنم کے عمل کے ساتھ ہو گا، اگرچہ وہ جو مرضی عمل کرتا رہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور فرمایا: تمہارا ربّ اپنے بندوں سے فارغ ہو گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دائیں سے اس کتاب کو پھینکا اور فرمایا: ایک فریق جنت میں جائے گا۔ پھر بائیں ہاتھ سے کتاب کو پھینکا اور فرمایا: ایک فریق جہنم میں جائے گا۔

219

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #219

Sahih

۔ (۲۱۹)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ قَتَادَۃَ السُّلَمِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَہْرِہِ وَقَالَ: ہٰؤُلَائِ فِی الْجَنَّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ ہٰؤُلَائِ فِی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَعَلٰی مَاذَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((عَلَی مَوَاقِعِ الْقَدْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد الرحمن بن قتادہ سلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: یہ جنت کے لئے ہیں اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم کے لئے ہیں او رمیں کوئی پروا نہیں کرتا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تقدیر کے مطابق۔

220

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #220

Sahih

۔ (۲۲۰)۔عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ سُئِلَ أَوْ قِیْلَ لَہُ: أَیُعْرَفُ أَہْلُ النَّارِ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَلِمَ یَعْمَلُ الْعَامِلُوْنَ؟ قَالَ: ((یَعْمَلُ کُلٌّ لِمَا خُلِقَ لَہُ أَوْ لِمَا یُسِّرَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۰۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمران بن حصین ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا جہنمیوں کو جنتیوں سے پہچان لیا گیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے عمل کیوں کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر کوئی وہی عمل کر رہا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا یا جو اس کے لیے آسان کر دیا گیا۔

221

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #221

Sahih

۔ (۲۲۱)۔عَنْ أَبِیْ الْأَسْوَدِ الدِّیْلِیِّ قَالَ: غَدَوْتُ عَلَی عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍؓ یَوْمًا مِنَ الْأَیَامٍ فَقَالَ: یَا أَبَاالْأَسْوَدِ! فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُہَیْنَۃَ أَوْ مِنْ مُزَیْنَۃَ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَا یَعْمَلُ النَّاسُ الْیَوْمَ وَیَکْدَحُوْنَ فِیْہِ،شَیْئٌ قُضِیَ عَلَیْہِمْ أَوْمَضٰی عَلَیْہِمْ فِیْ قَدْرٍ قَدْ سَبَقَ أَوْ فِیْمَا یُسْتَقْبَلُوْنَ مِمَّا أَتَاہُمْ بِہِ نَبِیُّہُمْ وَاتُّخِذَتْ عَلَیْہِمْ حُجَّۃٌ؟ قَالَ: ((بَلْ شَیْئٌ قُضِیَ عَلَیْہِمْ وَمَضٰی عَلَیْہِمْ۔)) قَالَ: فَلِمَ یَعْمَلُوْنَ اِذًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَنْ کَانَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَہُ لِوَاحِدَۃٍ مِنَ الْمَنْزِلَتَیْنِ یُہَیِّئُہُ لِعَمَلِہَا، وَتَصْدِیْقُ ذٰلِکَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {فَأَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَ تَقْوَاہَا} (مسند أحمد: ۲۰۱۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو اسود دیلی کہتے ہیں: میں ایک دن صبح صبح سیدنا عمران بن حصین ؓ کے پاس گیا ، انھوں نے کہا: اے ابو اسود، پھر پوری حدیث ذکر کی، اس میں ہے: بیشک جہینہ یا مزینہ قبیلے کا ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آجکل لوگ اپنے نبی کی لائی تعلیمات پر جو عمل اور محنت کر رہے ہیں اور جن کے ذریعے ان پر حجت قائم ہو چکی ہے، کیا یہ ایسی چیز ہے کہ جس کا تقدیر میں فیصلہ ہو چکا ہے، یا یہ از سرِ نو ہو رہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے کہ جس کا فیصلہ ہو چکا ہے اور جو اِن لوگوں پر جاری ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر لوگ عمل کیوں کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو دو منزلوں میں سے ایک کے لیے پیدا کیا ہے تو وہ اس کو اس کے عمل کے لیے تیار بھی کر تا ہے، اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب کی اس آیت میں ہے: پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر نکلنے کی۔ (سورۂ شمس: ۸)

222

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #222

Sahih

۔ (۲۲۲)۔عن أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: قَالَوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَا نَعْمَلُ، أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْہُ أَمْ أَمْرٌ نَسْتَأْنِفُہُ؟ قَالَ: ((بَلْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْہُ۔)) قَالُوْا: فَکَیْفَ بِالْعَمَلِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((کُلُّ امْرِیئٍ مُہَیَّأٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ جو عمل کر رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ ایسی چیز ہے، جس (کا فیصلہ کر کے) اس سے فارغ ہو اجا چکا ہے، یا از سرِ نو ہو رہا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے کہ جس سے فارغ ہوا جا چکا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کرنے کی کیا حقیقت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر بندے کو اس چیز کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔