Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 24

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

امانت اور ایمان کے اٹھ جانے کا بیان

4 hadiths in this chapter

176

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #176

Sahih

۔ (۱۷۶)۔عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ؓ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَدِیْثَیْنِ قَدْ رَأَیْتُ أَحَدَہُمَا وَ أَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا أَنَّ الْأَمَانَۃَ نَزَلَتْ فِی جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوْا مِنَ الْقُرْآنِ وَ عَلِمُوْا مِنَ السُّنَّۃِ،ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَۃِ فَقَالَ: ((یَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَۃَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَۃُ مِنْ قَلْبِہِ فَیَظَلُّ أَثَرُہَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَکْتِ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَۃُ مِنْ قَلْبِہِ فَیَظَلُّ أَثَرُہَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ کَجَمْرٍ دَحْرَجْتَہُ عَلٰی رِجْلِکَ فَتَرَاہُ مُنْتَبِرًا وَلَیْسَ فِیْہِ شَیْئٌ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَصًا فَدَحْرَجَہُ عَلٰی رِجْلِہِ قَالَ: ((فَیُصْبِحُ النَّاسُ یَتَبَایَعُوْنَ لَا یَکَادُ أَحَدٌ یُؤَدِّی الْأَمَانَۃَ حَتَّی یُقَالَ: اِنَّ فِیْ بَنِیْ فُـلَانٍ رَجُلًا أَمِیْنًا حَتّٰی یُقَالَ لِلرَّجُلِ:مَا أَجْلَدَہُ وَ أَظْرَفَہُ وَ أَعْقَلَہُ وَمَا فِیْ قَلْبِہِ حَبَّۃٌ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ اِیْمَانٍ۔)) وَلَقَدْ أَتٰی عَلَیَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِیْ أَیَّکُمْ بَایَعْتُ، لَئِنْ کَانَ مُسْلِمًا لَیَرُدَّنَّہُ عَلَیَّ دِیْنُہُ وَلَئِنْ کَانَ نَصْرَانِیًّا أَوْ یَہُوْدِیًّا لَیَرُدَّنَّہُ عَلَیَّ سَاعِیْہِ، فَأَمَّا الْیَوْمَ فَمَا کُنْتُ لِأُبَایِعَ مِنْکُمْ اِلَّا فُلَانًاوَ فُلَانًا۔ (مسند أحمد: ۲۳۶۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حذیفہ بن یمانؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں دو حدیثیں بیان کی، میں نے ایک کا مصداق تو دیکھ لیا ہے اور دوسرے کا انتظار کر رہا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں بیان کیا تھا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی اصل میں داخل ہوئی، پھر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے قرآن مجید اور سنت کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں اس امانت کے اٹھ جانے کے بارے میں بتلاتے ہوئے فرمایا: آدمی سوئے گا اور اس کے دل سے یہ امانت کھینچ لی جائے گی اور ہلکے سے نشان اور دھبّے کی طرح اس کا اثر باقی رہ جائے گا، پھر جب اس کے دل سے رہی سہی امانت کو اٹھا لیا جائے گا تو چھالے اور آبلے کی طرح اس کا اثر باقی رہ جائے گا، بالکل ایسے ہی جیسے تو انگارے کو اپنے پاؤں پر لڑھکائے اور پھر تو اس کے نتیجے میں ورم کے نشان دیکھے، جب کہ اس میں کوئی چیز بھی نہیں ہوتی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضاحت کرنے کے لیے ایک کنکری کو اپنے پاؤں پر لڑھکایا، پھر فرمایا: پھر لوگ خریدو فروخت تو کریں گے، لیکن کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہو گا، جوامانت ادا کرے گا، حتی کہ لوگ کہیں گے: بنو فلاں میں ایک امانت دار آدمی ہے، (لیکن یہ شہادت بھی اس طرح کی ہو گی کہ) لوگ ایک آدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہیں گے: وہ کس قدر باہمت و با استقلال ہے، وہ کیسا زیرک اور خوش اسلوب آدمی ہے، وہ کتنا عقل مند شخص ہے، جبکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان نہیں ہو گا۔ پھر سیدنا حذیفہؓ نے کہا: ایک زمانہ ایسا تھا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ میں کس سے سودا کر رہا ہوں، اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کا دین اس کو میری امانت لوٹانے پر مجبور کرتا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتا تو اس سے جزیہ وصول کرنے والا میرا حق لوٹا دیتا تھا، لیکن یہ زمانہ، تو اس میں میں صرف اور صرف فلاں فلاں آدمی سے لین دین کروں گا۔

177

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #177

Sahih

۔ (۱۷۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ؓ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: تَدُوْرُ رَحَی الْاِسْلَامِ بِخَمْسٍ (وَفِی رِوَایَۃٍ: عَلٰی رَأْسِ خَمْسٍ) وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَسَبِیْلُ مَنْ قَدْ ہَلَکَ وَاِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمِمَّا مَضٰی أَمْ مِمَّا بَقِیَ؟ قَالَ: مِمَّا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی، اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر ان کے لیے اُن کا دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ میں نے کہااور ایک روایت کے مطابق سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے نبی! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مستقل ستر سال۔

178

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #178

Sahih

۔ (۱۷۸)۔ (وَعَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا مَضٰی أَمْ مَا بَقِیَ؟ (مسند احمد)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمرؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ماضی مستقل یا مستقل اتنا عرصہ ہے

179

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #179

Sahih

۔ (۱۷۹)۔ (وَ عَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ رَحَی الْاِسْلَامِ سَتَزُوْلُ بِخَمْسٍ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ، فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَکَسَبِیْلِ مَنْ ہَلَکَ وَ اِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَبِمَا مَضَی أَمْ بِمَا بَقِیَ؟ قَالَ: بَلْ بِمَا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سالوں کے بعد اسلام کی چکی گھومے گی ،اس کے بعد اگر وہ (گمراہ رہ کر) ہلاک ہوئے تو وہ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح ہوں گے اور اگر دین قائم رہا تو وہ ستر سال تک قائم رہے گا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ماضی سمیت یا مستقل ستر سال ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مستقل ستر سال۔