Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 23

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

اس وقت کا بیان، جس میں ایمان انحطاط پذیر ہو جائے گا

11 hadiths in this chapter

165

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #165

Sahih

۔ (۱۶۵)۔عَنْ سَعْدٍ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْاِیْمَانَ بَدَأَ غَرِیْبًا وَسَیَعُوْدُ کَمَا بَدَأَ، فَطُوْبٰی یَوْمَئِذٍ لِلْغُرَبَائِ اِذَا فَسَدَ الزَّمَانُ، وَالَّذِیْ نَفْسُ أَبِی الْقَاسِمِ بِیَدِہِ لَیَأْرِزَنَّ الْاِیْمَانُ بَیْنَ ہَذَیْنِ الْمَسْجِدَیْنِ کَمَاتَأْرِزُ الْحَیَّۃُ فِی جُحْرِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فرماتے ہوئے سنا: بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کا ظہور شروع ہوا تھا اور عنقریب یہ ایسے ہی ہو جائے، جیسے ابتداء کے وقت تھا، بہرحال اُس وقت کے اجنبیت والوں کے لیے خوشخبری ہے، جبکہ باقی زمانے میں فساد آ چکا ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! ایمان ان دومسجدوں کی طرف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ پکڑتا ہے۔

166

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #166

Zaeef

۔ (۱۶۶)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سَنَّۃَؓ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بَدَاَ الْاِسْلَامُ غَرِیْبًا ثُمَّ یَعُوْدُ غَرِیْبًا کَمَا بَدَا، فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَنِ الْغُرَبَائُ؟ قَالَ: ((اَلَّذِیْنَ یُصْلِحُوْنَ اِذَا فَسَدَ النَّاسُ وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیَنْحَازَنَّ الاِیْمَانُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ کَمَا یَحُوْزُ السَّیْلُ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَیَأْرِزَنَّ الْاِسْلَامُ اِلَی مَا بَیْنَ الْمَسْجِدَیْنِ کَمَا تَأْرِزُ الْحَیَّۃُ اِلَی جُحْرِہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۸۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد الرحمن بن سَنَّہ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم نے فرمایا: بیشک اجنبیت کی حالت میں اسلام کی ابتدا ہوئی تھی اور عنقریب یہ ایسے ہی اجنبیت والا ہو جائے گا، جیسے ابتداء کے وقت تھا، بہرحال (اسلام والے) نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! نامانوس سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جب لوگوں میں فساد آ جائے تو وہ اصلاح کرتے ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ایمان، مدینہ منورہ کی طرف سیلاب (کے نچلی جگہ کی طرف آگے بڑھنے) کی طرح پناہ لے گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اسلام ان دو مسجدوں کی طر ف اس طرح پناہ لے گا، جیسے سانپ اپنے بل کی طرف پناہ لیتا ہے۔

167

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #167

Sahih

۔ (۱۶۷)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ الدِّیْنَ بَدَأَ غَرِیْبًا وَ سَیَعُوْدُ غَرِیْبًا کَمَا بَدَأَ فَطُوْبٰی لِلْغُرَبَائِ۔)) (مسند أحمد: ۹۰۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دین اپنی ابتداء کے وقت بھی نامانوس تھا اور عنقریب یہ نامانوس ہو جائے گا، پس اس کو اپنانے والے نامانوس لوگوں کے لیے خوشخبری ہے۔

168

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #168

Sahih

۔ (۱۶۸)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (بِلَفْظِ) اِنَّ الْاِسْلَامَ فَذَکَرَ مِثْلَہُ وَزَادَ، وَقِیْلَ: وَمَنِ الْغُرَبَائُ؟ قَالَ: ((اَلنُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ۔)) (مسند أحمد: ۳۷۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہی حدیث دین کے بجائے اسلام کے لفظ کے ساتھ بیان کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: کسی نے کہا: نامانوس کون لوگ ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: قبیلوں (اور رشتہ داروں) سے دور ہو جانے والے۔

169

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #169

Zaeef

۔ (۱۶۹)۔عَنْ عَلْقَمَۃَ الْمُزَنِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ قَالَ: کُنْتُ فِی مَجْلِسِ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ بِالْمَدِیْنَۃِ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: یَا فُلَانُ! کَیْفَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْعَتُ الْاِسْلَامَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْاِسْلَامَ بَدَأَ جَذْعًا، ثُمَّ ثَنِیًّا، ثُمَّ رَبَاعِیًّا، ثُمَّ سُدَاسِیًّا، ثُمَّ بَازِلًا۔)) فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا بَعْدَ الْبُزُوْلِ اِلَّا النُّقْصَانُ۔ (مسند أحمد: ۱۵۸۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

علقمہ مزنی کہتے ہیں: مجھے ایک بندے نے بیان کرتے ہوئے کہا: میں مدینہ منورہ میں سیدنا عمر بن خطابؓ کی مجلس میں تھا، انھوں نے ایک شخص سے کہا: اے فلاں! تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو کیا فرماتے ہوئے سنا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اسلام کی کیفیت بیان کر رہے تھے؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اسلام کی ابتدا(پانچویں سال میں داخل ہونے والے) نوجوان اونٹ کی طرح ہوئی، پھر وہ چھٹے سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح قوی ہو گا، پھر وہ ساتویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت ور بنے گا، پھر آٹھویں سال میں داخل ہونے والے اور پھر نویں سال میں داخل ہونے والے اونٹ کی طرح طاقت حاصل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے کہا: اونٹ کی عمر کے نویں کے بعد تو کمزوری شروع ہو جاتی ہے۔

170

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #170

Sahih

۔ (۱۷۰)۔عَنْ کُرْزِ بْنِ عَلْقَمَۃَ الْخُزَاعِیِّؓ قَالَ: قَالَ أَعْرَابِیٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلْ لِلْاِسْلَامِ مُنْتَہًی؟ قَالَ: ((نَعَمْ، أَیُّمَا أَہْلِ بَیْتٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوِ الْعَجَمِ أَرَادَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِہِمْ خَیْرًا أَدْخَلَ عَلَیْہِمُ الْاِسْلَامَ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ کَأَنَّہَا الظُّلَلُ، قَالَ الْأَعْرَابِیُّ: کَلَّا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَلَّا وَاللّٰہِ اِنْ شَائَ اللّٰہُ) قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((بَلٰی وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَتَعُوْدُنَّ فِیْہَا أَسَاوِدَ صُبًّا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا کرز بن علقمہ خزاعیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اسلام کی کوئی انتہا بھی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، عرب و عجم کے جس گھر والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر و بھلائی کا ارادہ کرے گا، ان پر اسلام کو داخل کر دے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کیا ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پھر سایوں (یعنی پہاڑوں اور بادلوں) کی طرح فتنے رونما ہو جائیں گے۔ اس نے کہا: ہر گز نہیں، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو ایسے ہر گز نہیں ہو گا۔ لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم خبیث ترین بڑے سانپ کی طرح ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے کے لیے جھپٹ پڑو گے۔

171

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #171

Sahih

۔ (۱۷۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہِ ((یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ)) وَقَرَأَ عَلٰی سُفْیَانَ قَالَ الزُّہْرِیُّ: أَسَاوِدَ صُبًّا، قَالَ سُفْیَانُ: الْحَیَّۃُ السَّوْدَائُ تَنْصَبُّ أَیْ تَرْتَفِعُ۔ (مسند أحمد: ۱۶۰۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اس میں تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے کے بعد یہ الفاظ ہیں: امام زہری نے امام سفیان پر یہ الفاظ پڑے: أَسَاوِدَ صُبًّا ، اور امام سفیان نے کہا: بڑا اور کالا سانپ جو بلند ہوتا ہے۔

172

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #172

Sahih

۔ (۱۷۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ)۔وَ زَادَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَأَفْضَلُ النَّاسِ یَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِی شَعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ یَتَّقِیْ رَبَّہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَیَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا شخص وہ مؤمن ہو گا، جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو جائے گا اور اپنے ربّ سے ڈرے گا اور لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ کر دے گا۔

173

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #173

Sahih

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُنْقَضَنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ عُرْوَةً عُرْوَةً فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا وَأَوَّلُهُنَّ نَقْضًا الْحُكْمُ وَآخِرُهُنَّ الصَّلَاةُ (۲۱۱۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی اسلام کے احکام کو ایک ایک کر کے گرایا جاتا رہے گا، جب ایک کنڈا گر جائے گا تو لوگ اگلے کنڈے کے درپے ہو جائیں گے، سب سے پہلے جس حکم کو توڑا جائے گا، وہ عدل ہو گا اور سب سے آخر میں نماز کو منہدم کر دیا جائے گا۔

174

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #174

Sahih

۔ (۱۷۴)۔عَنِ ابْنِ فَیْرُوْزٍ الدَّیْلَمِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیُنْقَضَنَّ الْاِسْلَامُ عُرْوَۃً عُرْوَۃً کَمَا یُنْقَضُ الْحَبْلُ قُوَّۃً قُوَّۃً۔)) (مسند أحمد: ۱۸۲۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا فیروز دیلمیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی احکام کو ایک ایک کر کے گرا دیا جائے گا، بالکل ایسے ہی جیسے ایک ایک لڑی کرتے کرتے رسی کو توڑ دیا جاتا ہے۔

175

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #175

Sahih

۔ (۱۷۵)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍؓ قَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِیْثًا مُنْذُ زَمَانٍ اِذَا کُنْتَ فِی قَوْمٍ عِشْرِیْنَ رَجُلًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَکْثَرَ فَتَصَفَّحْتَ فِی وُجُوْہِہِمْ فَلَمْ تَرَ فِیْہِمْ رَجُلًا یُہَابُ فِی اللّٰہِ فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن بسرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : کافی عرصہ ہو گیا ہے کہ میں نے ایک بات سنی تھی، جب تو بیس یا اس سے کم یا زیادہ لوگوں میں ہو اور پھر ان کے چہروں کو غور سے دیکھے، اگر ان میں تجھے ایک چہرہ بھی ایسا نہ لگے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جس کی تعظیم و تکریم کی جاتی ہو، تو جان لینا کہ ایمان کمزور پڑ چکا ہے۔