Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 22

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

مومن کی فضیلت، صفات اور اس کی مثالوں کا بیان

22 hadiths in this chapter

143

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #143

Sahih

۔ (۱۴۳)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِلَالًا فَنَادٰی فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَۃٌ۔ (مسند أحمد: ۸۰۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا بلال ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں اس بات کی منادی کرے کہ جنت میں صرف اور صرف مسلمان جان داخل ہو گی۔

144

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #144

Sahih

۔ (۱۴۴، ۱۴۵)۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا (یَعْنِی بْنَ عَبْدِ اللّٰہِؓ) عَنِ الْقَتِیْلِ الَّذِیْ قُتِلَ فَأَذَّنَ فِیْہِ سُحَیْمٌ؟ قَالَ: کُنَّا بِحُنَیْنٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُحَیْمًا أَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَ لَا لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ) اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے اس مقتول کے بارے میں سوال کیا کہ جس کے بارے میں سیدنا سحیم نے اعلان کیا تھا؟ انھوں نے کہا: ہم حنین میں تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا سحیم ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ صرف اور صرف جنت میں مومن داخل ہو گا۔

145

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #145

Zaeef

۔ (۱۴۴، ۱۴۵)۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا (یَعْنِی بْنَ عَبْدِ اللّٰہِؓ) عَنِ الْقَتِیْلِ الَّذِیْ قُتِلَ فَأَذَّنَ فِیْہِ سُحَیْمٌ؟ قَالَ: کُنَّا بِحُنَیْنٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُحَیْمًا أَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَ لَا لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ) اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے اس مقتول کے بارے میں سوال کیا کہ جس کے بارے میں سیدنا سحیم نے اعلان کیا تھا؟ انھوں نے کہا: ہم حنین میں تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سیدنا سحیم ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ صرف اور صرف جنت میں مومن داخل ہو گا۔

146

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #146

Sahih

۔ (۱۴۴، ۱۴۵)۔عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا (یَعْنِی بْنَ عَبْدِ اللّٰہِؓ) عَنِ الْقَتِیْلِ الَّذِیْ قُتِلَ فَأَذَّنَ فِیْہِ سُحَیْمٌ؟ قَالَ: کُنَّا بِحُنَیْنٍ فَأَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُحَیْمًا أَنْ یُؤَذِّنَ فِی النَّاسِ أَنَّہُ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَ لَا لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ) اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا محمود بن لبیدؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو دنیا (اور اس کے مال و اسباب) سے بچاتا ہے، حالانکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے، اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے تم اپنے بیمار آدمی پر ڈرتے ہوئے اور اس کو کھانے پینے سے بچاتے ہو۔

147

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #147

Zaeef

۔ (۱۴۷)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرَیِّ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُوْنَ فِی الدُّنْیَا عَلٰی ثَلَاثَۃِ أَجْزَائٍ، الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَ الَّذِیْ یَاْمَنُہُ النَّاسُ عَلٰی أَمْوَالِہِمْ وَ أَنْفُسِہِمْ ،ثُمَّ الَّذِیْ اِذَا أَشْرَفَ عَلٰی طَمَعٍ تَرَکَہُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعیدخدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: دنیا میں مومنوں کی تین اقسام ہیں: (۱) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کسی شک میں نہ پڑے اور اللہ کے راستے میں مال و جان سے جہاد کیا، (۲) وہ آدمی کہ جس کے بارے میں دوسرے لوگوں کو اپنے مالوں اور جانوں پر امن رہتا ہے اور (۳)پھر وہ آدمی جو حرص پر جھانکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے لیے اسے ترک کر دیتا ہے۔

148

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #148

Sahih

۔ (۱۴۸)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: اِنَّ الْمُؤْمِنَ غِرٌّ کَرِیْمٌ وَ اِنَّ الْفَاجِرَ خَبٌّ لَئِیْمٌ۔ (مسند أحمد: ۹۱۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور بزرگی والا ہوتاہے اور فاجر آدمی مکار، (دغاباز) اور کمینہ ( اور رذیل) ہوتا ہے۔

149

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #149

Sahih

۔ (۱۴۹)۔وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَلْمُؤْمِنُ عِنْدِیْ بِمَنْزِلَۃِ کُلِّ خَیْرٍ یَحْمَدُنِیْ وَ أَنَا أَنْزِ عُ نَفْسَہُ مِنْ بَیْنِ جَنْبَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میرے نزدیک مومن ہر قسم کی خیروبھلائی کی منزلت پر ہے، میں اس کے پہلوؤں سے اس کی جان کو کھینچ رہا ہوتا ہوں اور وہ اس وقت بھی میری تعریف کر رہا ہوتا ہے۔

150

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #150

Zaeef

۔ (۱۵۰)۔وَ عَنْہُ فِیْ أُخْرٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَیُنْضِی شَیَاطِیْنَہُ کَمَا یُنْضِی أَحَدُکُمْ بَعِیْرَہُ فِی السَّفَرِ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک مؤمن اپنے شیطانوں کو اس طرح تھکا دیتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی اپنے اونٹ کو سفر میں تھکا دیتا ہے۔

151

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #151

Sahih

۔ (۱۵۱)۔عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((أَ لَا أُخْبِرُکُمْ بِالْمُؤْمِنِ، مَنْ أَمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی أَمْوَالِہِمْ وَ أَنْفُسِہِمْ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ، وَالْمُجَاہِدُ مَنْ جَاہَدَ نَفْسَہُ فِی طَاعَۃِاللّٰہِ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ الْخَطَایَا وَ الذُّنُوْبَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا فضالہ بن عبیدؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: کیا میں تم کو مؤمن کے بارے میں نہ بتلا دوں، مؤمن وہ ہے کہ لوگ اپنے مالوں اور جانوں کے معاملے میں جس سے امن میں رہیں ،مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو ترک کر دے۔

152

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #152

Sahih

۔ (۱۵۲)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَدْرُوْنَ مَاالْمُسْلِمُ؟)) قَالُوا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہْ أَعْلَمُ،قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((مَنْ أَمِنَہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَ أَمْوَالِہِمْ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ السُّوْئَ فَاجْتَنَبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مؤمن کون ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مؤمن وہ ہے کہ دوسرے مؤمن اپنی جانوں اور مالوں کے سلسلے میں جس سے امن میں رہیں اور مہاجر وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے اور اس سے اجتناب کرے۔

153

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #153

Sahih

۔ (۱۵۲)۔عَنْ مُوْسَی بْنِ عَلِیٍّ سَمِعْتُ أَبِیْ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَدْرُوْنَ مَاالْمُسْلِمُ؟)) قَالُوا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہْ أَعْلَمُ،قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) قَالَ: ((تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟)) قَالُوْا: اَللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((مَنْ أَمِنَہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ وَ أَمْوَالِہِمْ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ السُّوْئَ فَاجْتَنَبَہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

اور اس سے ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے کہ دوسرے مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان امور کو چھوڑ دے، جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔

154

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #154

Sahih

۔ (۱۵۴)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ، وَلَا خَیْرَ فِیْمَنْ لَا یَأْ لَفُ وَلَا یُؤْلَفُ۔)) (مسند أحمد: ۹۱۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مؤمن ایسا وجود ہے، جس میں مانوسیت پائی جاتی ہے اور اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہے، جو نہ کسی سے انس کرتا ہے اور نہ اس سے مانوس ہوا جاتا ہے۔

155

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #155

Zaeef

۔ (۱۵۵)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِیْ: ((یَا أَبَا أُمَامَۃَ! اِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ مَنْ یَلِیْنُ لِیْ قَلْبُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۶۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوامامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے فرمایا: ابو امامہ! بیشک بعض مؤمن ایسے ہیں کہ ان کے دل میرے لیے (بہت) نرم ہو جاتے ہیں۔

156

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #156

Zaeef

۔ (۱۵۶)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِؓ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَـلَاأَجِدُ قَلْبِیْ یَعْقِلُ عَلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ قَلْبَکَ حُشِیَ الْاِیْمَانَ وَ اِنَّ الْاِیْمَانَ یُعْطَی الْعَبْدَ قَبْلَ الْقُرْآنِ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں قرآن کی تلاوت تو کرتا ہوں، لیکن میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل اس کو سمجھ نہیں پا رہا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تیرا دل ایمان سے بھرا ہوا ہے اور بندہ قرآن سے پہلے ایمان دیا جاتا ہے۔

157

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #157

Sahih

۔ (۱۵۷)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّی أُحَدِّثُ نَفْسِیْ بِالْحَدِیْثِ، لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَائِ أَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ أَنْ أَتَکَلَّمَ بِہِ، قَالَ: ((ذَالِکَ صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۹۱۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے نفس میں بعض باتیں تو ایسی آ جاتی ہیں کہ مجھے آسمان سے گرنا اس سے زیادہ پسند لگتا ہے کہ میں ان کے ساتھ کلام کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو صریح ایمان کی علامت ہے۔

158

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #158

Sahih

۔ (۱۵۸)۔ (وَ عَنْہُ بِلَفْظٍ آخَرَ)۔قَالَ: قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَجِدُ فِی أَنْفُسِنَا مَا یَسُرُّنَا نَتَکَلَّمُ بِہِ وَ اِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ، قَالَ: ((أَوَجَدْتُّمْ ذَالِکَ؟)) قَالُوا: نَعَم، قَالَ: ((ذَاکَ صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۹۶۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

ان سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت مروی ہے لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے نفسوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہمیں دنیا کی وہ تمام چیزیں دے دی جائیں، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے تو پھر بھی ہمیں یہ بات خوش نہیں کرے گی کہ ہم ان کے ساتھ گفتگو کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا: کیا تم نے اس چیز کو محسوس کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ صریح ایمان کی علامت ہے۔

159

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #159

Sahih

۔ (۱۵۹)۔وَ أَیْضًا عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقُلْ أَحَدُکُمْ لِلْعِنَبِ الْکَرْمَ، اِنَّمَا الْکَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کوئی آدمی انگوروں کو کَرْم نہ کہا کرے، بیشک کرم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔

160

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #160

Sahih

۔ (۱۶۰)۔ (وَ عَنْہُ فِیْ أُخْرٰی)۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَقُوْلُوْنَ الْکَرْمَ، وَ اِنَّمَا الْکَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ۔)) (مسند أحمد: ۷۲۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ان سے مروی ایک اور روایت میں ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لوگ انگوروں کو کرم کہہ دیتے ہیں، حالانکہ کرم تو صرف مومن کا دل ہوتا ہے۔

161

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #161

Sahih

۔ (۱۶۱)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! اِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَکَمَثَلِ الْقِطْعَۃِ مِنَ الذَّہَبِ، نَفَخَعَلَیْہَا صَاحِبُہَا فَلَمْ تَغَیَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! اِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ لَکَمَثَلِ النَّحْلَۃِ أَکَلَتْ طَیِّبًا وَوَضَعَتْ طَیِّبًا وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَکْسِرْ وَلَمْ تُفْسِدْ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو فرماتے ہوئے سنا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) کی جان ہے! بیشک مؤمن کی مثال سونے کی ٹکڑے کی طرح ہے، جب مالک (اسے بھٹی میں ڈال کر) اس پر پھونک مارتا ہے تو نہ وہ تبدیل ہوتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) کی جان ہے! بیشک مؤمن کی مثال شہد کی مکھی کی طرح ہے، جو (پھول جیسی) پاکیز ہ چیز کھاتی ہے، (شہد جیسی) پاکیزہ چیز نکالتی ہے اور جب وہ کسی چیز پر بیٹھتی ہے تو وہ اسے نہ توڑتی ہے، نہ خراب کرتی ہے۔

162

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #162

Sahih

۔ (۱۶۲)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ السُّنْبُلَۃِ تَخِرُّ مَرَّۃً وَ تَسْتَقِیْمُ مَرَّۃً، وَ مَثَلُ الْکَافِرِ کَمَثَلِ الْأَرْزِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: الْأَرْزَۃِ) لَا یَزَالُ مُسْتَقِیْمًا حَتَّی یَخِرَّ وَلَا یَشْعُرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۸۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مؤمن کی مثال گندم کے پودے کی طرح ہے، جو کبھی گر جاتا ہے اور کبھی کھڑا ہو جاتا ہے اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے، جو ہمیشہ سیدھا کھڑا ہی رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ گر جاتا ہے، جبکہ اسے کوئی شعور ہی نہیں ہوتا۔

163

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #163

Zaeef

۔ (۱۶۳)۔عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ کَمَثَلِ الْفَرَسِ عَلٰی آخِیَّتِہِ یَجُوْلُ ثُمَّّ یَرْجِعُ عَلٰی آخِیَّتِہِ، وَاِنَّ الْمُؤْمِنَ یَسْہُوْ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلَی الْاِیْمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۳۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم نے فرمایا: مؤمن کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے، جو حلقہ دار رسی کے ساتھ بندھا ہوا ہو، وہ گھومتا ہے، لیکن بالآخر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے، بیشک مؤمن بھول جاتا ہے، لیکن پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے۔

164

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #164

Zaeef

۔ (۱۶۴)۔عَنْ أَبِیْ ذَرٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اَلْاِسْلَامُ ذَلُوْلٌ لَا یَرْکَبُ اِلَّا ذَلُوْلًا۔)) (مسند أحمد: ۲۱۶۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذرؓ سے مروی ہے کہ نبی ٔکریم نے فرمایا: اسلام سہولت والا ہے اور یہ سہولت والے کو ہی نصیب ہوتا ہے۔