Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 21

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان

10 hadiths in this chapter

133

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #133

Sahih

۔ (۱۳۳)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! لَا یَسْمَعُ بِیْ أَحَدٌ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ یَہُوْدِیٌّ وَلَا نَصْرَانِیٌّ وَمَاتَ وَلَمْ یُؤْمِنْ بِالَّذِی أُرْسِلْتُ بِہٖ اِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت کا جو یہودی اور عیسائی میرے بارے میں سنے گا اور پھر اس چیز پر ایمان نہیں لائے گا، جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے، تو وہ جہنمیوں میں سے ہو گا۔

134

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #134

Sahih

۔ (۱۳۴)۔عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ وَ فِیْہِ ((لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّۃَ)) بَدْلَ قَوْلِہِ ((اِلَّا کَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسی اشعریؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں وہ جہنمیوں میں سے ہو گا کی بجائے یہ الفاظ ہیں: وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔

135

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #135

Sahih

۔ (۱۳۵)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَو آمَنَ بِیْ عَشَرَۃٌ مَنْ أَحْبَارِ الْیَہُوْدِ لَآمَنَ بِیْ کُلُّ یَہُودِیٍّ عَلٰی وَجْہِ الْأَرْضِ۔)) قَالَ کَعْبٌ: اِثْنَا عَشَرَ مِصْدَاقُہُمْ فِی سُوْرَۃِ الْمَائِدَۃِ۔ (مسند أحمد: ۹۳۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر یہودیوں کے دس علماء مجھ پر ایمان لے آئیں تو روئے زمین پر موجود ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے گا۔ سیدنا کعب ؓ نے کہا: بارہ کا مصداق سورۂ مائدہ میں ہے۔

136

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #136

Zaeef

۔ (۱۳۶)۔عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ حُوَیْطِبٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِیْ جَدَّتِیْ أَنَّہَا سَمِعَتْ أَبَاہَا یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: لَا صَلَاۃَ لِمَنْ لَّا وُضُوْئَ لَہٗ، وَلَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَمْ یَذْکُرِ اللّٰہَ تَعَالٰی، وَلَا یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْ بِیْ، وَلَا یُؤْمِنُ بِیْ مَنْ لَّا یُحِبُّ الْأَنْصَارَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

رباح بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ ان کی دادی نے اپنے باپ (سیدنا سعید بن زیدؓ) سے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس آدمی کا وضو نہیں اس کی کوئی نماز نہیں اور جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کیا، اس کا کوئی وضو نہیں اور جو شخص مجھ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌) پر ایمان نہیں لایا، وہ اللہ تعالیٰ پرایمان نہیں لا سکے گا اور جس بندے نے انصار سے محبت نہ کی، وہ مجھ پر ایمان نہیں لا سکے گا۔

137

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #137

Sahih

۔ (۱۳۷)۔عَنْ أَبِیْ مُحَیْرِیْزٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ جُمْعَۃَ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَۃِ ؓحَدِّثْنَا حَدِیْثًا سَمِعْتَہٗ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، قَالَ؛ نَعَمْ أُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا جَیِّدًا، تَغَدَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَنَا أَبُوْ عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ہَلْ أَحَدٌ خَیْرٌ مِنَّا؟ أَسْلَمْنَا مَعَکَ وَجَاہَدْنَا مَعَکَ، قَالَ: ((نَعَمْ قَوْمٌ یَکُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِکُمْ یُؤْمِنُوْنَ بِیْ وَلَمْ یَرَوْنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو محیریز کہتے ہیں: میں نے ایک صحابی ابو جمعہ ؓ سے کہا: آپ ہمیں ایسی حدیث بیان کریں، جو آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سنی ہو، انھوں نے کہا: جی ہاں، میں تم لوگوں کو بڑی عمدہ حدیث بیان کرتا ہوں، ایک دفعہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ صبح کا کھانا کھایا، ہمارے ساتھ سیدنا ابو عبیدہ بن جراح بھی تھے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ہم سے بھی بہتر ہو سکتا ہے ؟ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مشرف باسلام ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ مل کر جہاد کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، وہ لوگ بہتر ہیں، جو تمہارے بعد آئیں گے اور بِن دیکھے مجھ پر ایمان لے آئیں گے۔

138

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #138

Sahih

۔ (۱۳۸)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓقَال: قَال رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَدِدْتُّ أَنِّیْ لَقِیْتُ اِخْوَانِیْ۔)) قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : نَحْنُ اِخْوَانُکَ، قَالَ: (( أَنْتُمْ أَصْحَابِیْ وَلٰکِنْ اِخْوَانِیَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِیْ وَلَمْ یَرَوْنِیْ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو ملوں۔ صحابۂ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہم ‌ نے کہا: ہم آپ کے بھائی ہی ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم تو میرے ساتھی ہو، میرے بھائی تو وہ ہے، جو بِن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔

139

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #139

Sahih

۔ (۱۳۹)۔عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((طُوْبٰی لِمَنْ رَأنِیْ وَ آمَنَ بِیْ وَ طُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ بِیْ وَلَمْ یَرَنِیْ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۶۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور جو آدمی مجھ پر ایمان لایا، جب کہ اس نے مجھے دیکھا ہی نہیں، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے۔

140

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #140

Sahih

۔ (۱۴۰)۔عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((طُوْبٗی لِمَنْ آمَنَ بِیْ وَ رَآنِیْ مَرَّۃً وَ طُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ بِی وَلَمْ یَرَنِیْ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۶۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس شخص کے لیے ایک دفعہ خوشخبری ہے، جو مجھ پر ایمان لایا اور میرا دیدار کیا، لیکن جو آدمی بِن دیکھے مجھ پر ایمان لایا، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے۔

141

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #141

Sahih

۔ (۱۴۱)۔عَنْ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْجُہَنِیِّؓ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَلَعَ رَاکِبَانِ فَلَمَّا رَآہُمَا قَالَ: ((کِنْدِیَّانِ مَذْحِجِیَّانِ۔)) حَتَّی أَتَیَاہُ فَاِذَا رِجَالٌ مِنْ مَذْحِجٍ۔ قَالَ: فَدَنَا اِلَیْہِ أَحَدُہُمَا لِیُبَایِعَہُ قَالَ: فَلَمَّا أَخَذَ بِیَدِہِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَنْ رَآکَ فَآمَنَ بِکَ وَصَدَّقَکَ وَاتَّبَعَکَ مَا ذَا لَہُ؟ قَالَ: ((طُوْبٰی لَہُ۔)) قَالَ: فَمَسَحَ عَلٰی یَدِہٖ فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَقْبَلَ الْآخَرُ حَتَّی أَخَذَ بِیَدِہِ لِیُبَایِعَہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ مَنْ آمَنَ بِکَ وَصَدَّقَکَ وَاتَّبَعَکَ وَلَمْ یَرَکَ قَالَ: ((طُوْبٰی لَہُ، ثُمَّ طُوْبٰی لَہُ، ثُمَّ طُوْبٰی لَہُ۔)) قَالَ: فَمَسَحَ عَلٰی یَدِہِ فَانْصَرَفَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۵۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو عبد الرحمن جہنیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک طرف سے دو سوار نمودار ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: یہ دو کندی مذحجی آدمی ہیں۔ جب وہ دونوں پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ واقعی ان کا تعلق مذحج قبیلے سے ہے، پھر ان میں سے ایک بیعت کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے قریب ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی آپ کا دیدار کرتا ہے، آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتاہے، اس کے لیے اجر میں کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا، پھر دوسرا بندہ آگے آیا اور بیعت کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ جو آپ پر ایمان لاتا ہے، آپ کی تصدیق کرتا ہے اور آپ کی پیروی کرتا ہے، لیکن وہ آپ کو دیکھ نہیں پاتا تو اس کے لیے کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے، پھر اس کے لیے خوشخبری ہے۔ پھراس نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے مبارک ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹ گیا۔

142

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #142

Sahih

۔ (۱۴۲)۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرٍبْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: جَلَسْنَا اِلَی الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ؓ یَوْمًا، فَمَرَّ بِیْ رَجُلٌ فَقَالَ: طُوْبٰی لِہَاتَیْنِ الْعَیْنَیْنِ الَّلتَیْنِ رَأَتَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاللّٰہِ! لَوَدِدْنَا أَنَّنَا رَأَیْنَا مَا رَأَیْتَ وَ شَہِدْنَا مَا شَہِدْتَّ فَاسْتُغْضِبَ، فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ، مَا قَالَ اِلَّا خَیْرًا،ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْہِ فَقَالَ: مَا یَحْمِلُ الرَّجُلَ عَلٰی أَنْ یَّتَمَنّٰی مَحْضَرًا غَیَّبَہُ اللّٰہُ عَنْہُ لَا یَدْرِی لَوْ شَہِدَہُ کَیْفَ یَکُوْنُ فِیْہِ، وَاللّٰہِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْوَامٌ أَکَبَّہُمُ اللّٰہُ عَلٰی مَنَاخِرِہِمْ فِیْ جَہَنَّمَ لَمْ یُجِیْبُوْہُ وَلَمْ یُصَدِّقُوْہُ، أَوَلَا تَحْمَدُوْنَ اللّٰہَ اِذْ أَخْرَجَکُمْ لَا تَعْرِفُوْنَ اِلَّا رَبَّکُمْ مُصَدِّقِیْنَ لِمَا جَائَ بِہِ نَبِیُّکُمْ قَدْ کُفِیْتُمُ الْبَلَائَ بِغَیْرِکُمْ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ بَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی أَشَدِّ حَالٍ بَعَثَ عَلَیْہَا نَبِیًّا مِنَ الْأَنْبِیَائِ فِی فَتْرَۃٍ وَجَاہِلِیَّۃٍ مَا یَرَوْنَ أَنَّ دِیْنًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَۃِ الْأَوْثَانِ فَجَائَ بِفُرْقَانٍ فَرَقَ بِہِ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَ فَرَّقَ بَیْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِہِ حَتَّی اِنْ کَانَ الرَّجُلُ لَیَرٰی وَالِدَہُ وَوَلَدَہُ وَأَخَاہُ کَافِرًا وَقَدْ فَتَحَ اللّٰہُ قُفْلَ قَلْبِہِ لِلْاِیْمَانِ یَعْلَمُ أَنَّہُ اِنْ ہَلَکَ دَخَلَ النَّارَ فَـلَا تَقِرُّ عَیْنُہُ وَہُوَ یَعْلَمُ أَنَّ حَبِیْبَہُ فِی النَّارِ وَ أَنَّہَا الَّتِیْ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ أَعْیُنٍ}۔ (مسند أحمد: ۲۴۳۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

جبیر بن نفیر کہتے ہے: ہم ایک دن سیدنا مقداد بن اسودؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثنا میں ایک آدمی کا گزر ہوا اور اس نے سیدنا مقداد ؓ کو دیکھ کر کہا: خوشخبری ہے ان دو آنکھوں کے لیے، جنھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا دیدار کیا، اللہ کی قسم! ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہم نے بھی وہ کچھ دیکھا ہوتا جو تم نے دیکھا اور ہم نے بھی ان چیزوں کا مشاہدہ کیا ہوتا، جن کا تم نے مشاہدہ کیا۔ یہ سن کر سیدنا مقداد ؓغصے میں آگئے، مجھے بڑا تعجب ہونے لگا کہ اس بندے نے بات تو خیر والی ہی کی تھی، اتنے میں وہ اس پر متوجہ ہو کر کہنے لگے: کون سی چیز بندے کو اس خیال پر آمادہ کر دیتی ہے کہ وہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ ایسی جگہ پر حاضر ہوا ہوتا، جہاں سے اللہ تعالیٰ نے اسے غائب رکھا، وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ اس مقام پر موجود ہوتا تو اس کی کیفیت کیا ہوتی، اللہ کی قسم ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ایسے لوگ بھی موجود تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو نتھنوں کے بل جہنم میں گرا دیا، ان لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بات کو قبول نہیں کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی تصدیق نہیں کی تھی، کیا تم اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی تعریف نہیں کرتے کہ جب اس نے تم کو پیدا کیا تو تمہاری حالت یہ تھی کہ صرف اپنے ربّ کو پہچانتے تھے اور اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کرنے والے تھے، تم سے پہلے والے لوگوں نے تمہیں آزمائشوں سے کفایت کیا۔ اللہ کی قسم! جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو مبعوث کیا تھا تو اس وقت بڑے سخت حالات تھے، فترت اور جاہلیت کا ایسا دور تھا کہ جس میں مشرک لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ بت پرستی والا دین سب سے بہتر ہے، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایسا فرقان لے کر آئے، جس نے حق و باطل کے مابین فرق کیا اور باپ اور اس کی اولاد میں اس طرح فرق کیا کہ ایک آدمی دیکھ رہا ہوتا کہ اس کے والدین، اولاد اور بھائی کافر ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کا تالہ ایمان کے لیے کھول دیا ہے، اس کو یہ علم ہو جاتا تھا کہ اگر وہ اس دین کو قبول کیے بغیر مر گیا تو وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا اور اس طرح اس کی آنکھ کبھی بھی ٹھنڈی نہیں ہو گی، جب کہ اسے یہ سمجھ ہوتی تھی کہ اس کا پیارا جہنم میں جا رہا ہے، یہی چیز ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ أَعْیُنٍ} … اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ (سورۂ فرقان: ۷۴)