Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 20

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے

10 hadiths in this chapter

123

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #123

Sahih

۔ (۱۲۳)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَإِذَا قَالُوْہَا عَصَمُوْا دِمَائَہُمْ وَ اَمْوَالَہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا وَ حِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ تَعَالٰی۔)) قَالَ: فَلَمَّا کَانَتِ الرَّدَّۃُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِیْ بَکْرٍؓ: تُقَاتِلُہُمْ وَ قَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ کَذَا وَ کَذَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍؓ: نُقَاتِلُہُمْ وَ اللّٰہِ، لَا أُفَرِّقُ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَ الزَّّکَاۃِ وَ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا، قَالَ: فَقَاتَلْنَا مَعَہُ فَرَأَیْنَا ذَالِکَ رَشَدًا۔ (مسند أحمد: ۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک لوگ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اقرار نہیں کریں، میں ان سے لڑتا رہوں، جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو اپنے خون اور مال بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ جب سیدنا ابو بکر ؓ کے زمانے میں زکاۃ کے انکار کا سلسلہ شروع ہوا اور (سیدنا ابو بکر ؓ نے ایسے لوگوں سے لڑنا چاہا تو) سیدنا عمر ؓ نے ان سے کہا: آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کریں گے، جب کہ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا (کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کے بعد مال اور خون محفوظ ہو جاتے ہیں)، لیکن سیدنا ابو بکرؓ نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ایسے لوگوں سے لڑیں گے، میں نماز اور زکوۃ میں کوئی فرق نہیں کرتا اور میں اس سے لڑوں گا جو ان کے درمیان فرق کرے گا۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: پھر ہم نے سیدنا ابو بکر ؓ کے ساتھ مل کر ایسے لوگوں سے قتال کیا اور ہمیں یہ سمجھ آ گئی تھی کہ یہی معاملہ ہدایت والا ہے۔

124

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #124

Sahih

۔ (۱۲۴)۔وَ عَنْہُ فِی أُخْرَی قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُوْلُوا لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ یُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَ یُؤْتُواالزَّکَاۃَ ثُمَّ قَدْ حَرُمَ عَلَیَّ دِمَائُہُمْ وَ أَمْوَالُہُمْ وَ حِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۸۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری روایت) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کرتا رہوں، جب تک ایسا نہ ہوجائے کہ وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ کہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، اس طرح سے ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو جائیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہوگا۔

125

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #125

Sahih

۔ (۱۲۵)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَشْہَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَإِذَا شَہِدُوْا وَاسْتَقْبَلُوْا قِبْلَتَنَا وَ أَکَلُوْا ذَبِیْحَتَنَا وَ صَلَّوْا صَلَاتَنَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْنَا دِمَائُہُمْ وَ أَمْوَالُہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، لَہُمْ مَا لِلْمُسْلِمِیْنَ وَ عَلَیْہِمْ مَا عَلَیْہِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۳۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ یہ اقرار نہ کر لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس کے رسول ہیں، جب وہ یہ گواہی دیں گے اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کریں گے اور ہمارا ذبیحہ کھائیں گے اور ہمارے والی نماز پڑھیں گے تو ان کے خون اور مال ہم پر حرام ہو جائیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کو وہی حقوق ہوں گے، جو دوسرے مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی، جو دوسرے مسلمانوں پر ہیں۔

126

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #126

Sahih

۔ (۱۲۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أُوَیْسًا (یَعْنِی بْنَ أَبِی أُوَیْسٍ الثَّقَفِیِّؓ) یَقُوْلُ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ فِی وَفْدِ ثَقِیْفٍ فَکُنَّا فِی قُبَّۃٍ فَقَامَ مَنْ کَانَ فِیْہَا غَیْرِیْ وَ غَیْرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَجَائَ رَجُلٌ فَسَارَّہُ فَقَالَ: اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَلَمَّا وَلَّی الرَّجُلُ دَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) قَالَ: بَلٰی! وَلٰکِنَّہُ یَقُوْلُہَا تَعَوُّذًا، فَقَالَ: ((رُدُّوْہُ۔)) (وَفِی رِوَایَۃٍ: اذْہَبُوْا فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُ) ثُمَّ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی یَقُوْلُو ا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّّٰہُ، فَاِذَا قَالُوْہَا حَرُمَتْ عَلَیَّ دِمَائُہُمْ وَ أَمْوَالُہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، فَقُلْتُ لِشُعْبَۃَ: أَلَیْسَ فِی الْحَدِیْثِ ثُمَّ قَالَ: أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ؟ قَالَ شُعبَۃُ: أَظُنُّہَا مَعَہَا وَلَا أَدْرِیْ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا اویس بن ابو ایس ثقفی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ثقیف کے وفد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، ہم ایک قبّہ میں تھے، ہوا یوں کہ میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے علاوہ سارے لوگ چلے گئے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی سرگوشی کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو پھر جاؤ اور اس کو قتل کر دو۔ ایک روایت میں ہے: جب وہ بندہ جانے لگا تورسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا وہ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، لیکن وہ یہ کلمہ تو محض بچنے کے لیے کہتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ ایک روایت میں ہے: جاؤ اور اس کو جانے دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ نہیں کہہ دیتے، جب وہ یہ کلمہ کہہ دیتے ہیں تو ان کے خون اورمال مجھ پر حرام ہو جاتے ہیں، مگر ان کے حق کے ساتھ۔ میں (محمد بن جعفر) نے امام شعبہ سے کہا: کیا حدیث کے الفاظ اس طرح نہیں تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پوچھا کہ کیا وہ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَ نِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ کی گواہی دیتا ہے۔ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ الفاظ بھی تھے، لیکن اب مجھے یاد نہیں ہے۔

127

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #127

Sahih

۔ (۱۲۷)۔عَنْ أَبِیْ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّ عَنْ أَبِیْہِ (طَارِقِ بْنِ أَشْیَمَ ؓ) أَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُوْلُ لِقَوْمٍ: ((مَنْ وَحَّدَ اللّٰہَ وَ کَفَرَ بِمَا یُعْبَدُ مِنْ دُوْنِہٖ حَرَّمَ اللّٰہُ مَالَہٗ وَدَمَہٗ وَ حِسَابُہٗ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۷۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا طارق بن اشیم ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے لوگوں کے بارے میں فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو یکتا و یگانہ قرار دے گا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی پوجاپاٹ کی جاتی ہے، ان سب کا انکار کر دے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے مال اور خون کو حرام قرار دے گا اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔

128

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #128

Zaeef

۔ (۱۲۸)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِبْتَعَثَ نَبِیَّہٗ لِاِدْخَالِ رَجُلٍ اِلَی الْجَنَّۃِ فَدَخَلَ الْکَنِیْسَۃَ فَاِذَا ہُوَ بِیَہُوْدَ وَاِذَا یَہُوْدِیٌّ یَقْرَأُ عَلَیْہِمُ التَّوْرَاۃَ، فَلَمَّا أَتَوْا عَلٰی صِفَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمْسَکُوْا، وَفِیْ نَاحِیَتِہَا رَجُلٌ مَرِیْضٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَا لَکُمْ أَمْسَکْتُمْ؟)) قَالَ الْمَرِیْضُ: اِنَّہُمْ أَتَوْا عَلٰی صِفَۃِ نَبِیٍّ فَأَمْسَکُوْا،ثُمَّ جَائَ الْمَرِیْضُ یَحْبُوْ حَتّٰی أَخَذَ التَّوْرَاۃَ فَقَرَأَ حَتّٰی أَتٰی عَلٰی صِفَۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ أُمَّتِہٖ فَقَالَ: ہٰذِہٖ صِفَتُکَ وَ صِفَۃُ أُمَّتِکَ أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَصْحَابِہٖ : ((لُوْا أَخَاکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۳۹۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ایک بندے کو جنت میں داخل کرنے کے لیے بھی بھیجا ہے، بات یہ ہے کہ وہ (نبی) گرجا گھر میں داخل ہوا، وہاں یہودی لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک یہودی ان پر تورات پڑھ رہا تھا، جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی صفات تک پہنچے تو رک گئے، کونے میں ایک بیمار آدمی بیٹھا ہوا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے کہا: تم کیوں رک گئے ہو؟ اس مریض آدمی نے کہا: آگے ایک نبی کا ذکر ہے، اس لیے یہ رک گئے ہیں، پھر وہ مریض گھسٹتا ہوا آگے کو بڑھا، یہاں تک تورات پکڑ لی اور اس کو پڑھنا شروع کر دیا، یہاں تک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور آپ کی امت کی صفات بھی پڑھ دیں اور پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کی اور آپ کی امت کی صفات ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور آپ اس کے رسول ہیں، پھر وہ آدمی فوت ہو گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اپنے بھائی کو سنبھالو (اور اس کی تجہیزو تکفین کا انتظام وانصرام کرو)۔

129

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #129

Sahih

۔ (۱۲۹)۔عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ حَدَّثَہٗ أَنَّہٗ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ وَہُوَ فِیْ مَجْلِسٍ فَسَارَّہٗ یَسْتَأْذِنُہٗ فِیْ قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ، فَجَہَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ؟)) قَالَ الْأَنْصَارِیُّ: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَا شَہَادَۃَ لَہٗ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ؟)) قَالَ: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((أَلَیْسَ یُصَلِّیْ۔)) قَالَ: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَا صَلَاۃَ لَہٗ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُولٰئِکَ الَّذِیْنَ نَہَانِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۰۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

عبید اللہ بن عدی بن خیار کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی نے اس کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک مجلس میں تھے، پس اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کوئی سرگوشی کی، دراصل وہ ایک آدمی کو قتل کرنے کی اجازت لے رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بآواز بلند فرمایا: کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟ اس انصاری نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! لیکن اس کی کوئی شہادت نہیں ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! لیکن اس کی کوئی نماز نہیں ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے لوگوں (کو قتل کرنے) سے منع کر دیا ہے ۔

130

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #130

Sahih

۔ (۱۳۰)۔(وَ عَنْہُ أَیْضًا)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَدِیٍّ الْأَنْصَارِیِّؓ حَدَّثَہٗ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَمَا ہُوَ جَالِسٌ اِذْ جَائَ ہٗ رَجُلٌ یَعْنِیْ یَسْتَأْذِنُہٗ أَیْ یُسَارُّہٗ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۰۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری روایت) اس عبیداللہ بن عدی بن خیار یہ بھی مروی ہے کہ عبداللہ بن عدی انصاری نے اسے بیان کیا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اجازت طلب کی، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سرگوشی کی، باقی روایت مذکورہ بالا کی طرح ہی ہے۔

131

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #131

Sahih

۔ (۱۳۱)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓأَنَّ عِتْبَانَ اشْتَکٰی عَیْنُہٗ فَبَعَثَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ لَہٗ مَا أَصَابَہٗ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! تَعَالَ صَلِّ فِیْ بَیْتِیَ حَتّٰی أَتَّخِذَہٗ مُصَلًّی، قَالَ: فَجَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَنْ شَائَ اللّٰہُ مِنْ أَصْحَابِہٖ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ وَ أَصْحَابُہٗ یَتَحَدَّثُوْنَ بَیْنَہُمْ فَجَعَلُوْا یَذْکُرُوْنَ مَا یَلْقَوْنَ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ فَأَسْنَدُوْا عُظْمَ ذٰلِکَ اِلٰی مَالِکِ بْنِ دُخَیْشِمٍ، فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((أَلَیْسَ یَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) فَقَالَ قَائِلٌ: بَلٰی وَمَا ہُوَ فِیْ قَلْبِہٖ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ شَہِدَ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَلَنْ تَطْعَمَہُ النَّارُ، أَوْ قَالَ: لَنْ یَّدْخُلَ النَّارَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ سیدناعتبان ؓکی آنکھ میں تکلیف ہو گئی، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لاحق ہونے والی تکلیف کا پیغام بھیجا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ تشریف لائیں، میرے گھر میں ایک مقام پرنماز پڑھیں، تاکہ میں اس کو جائے نماز بنا سکوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق چند صحابہ تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور صحابہ گفتگو میں مصروف ہو گئے، پھر وہ منافقوں کی طرف سے ہونے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے اور اس کا بڑا سبب مالک بن دخیشم کو قرار دیا، اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ فارغ ہوئے اور فرمایا: کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ ایک آدمی نے جواب دیا: جی کیوں نہیں، وہ یہ گواہی تو دیتا ہے، لیکن اس کے دل میں اس کے مطابق عقیدہ نہیں ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس بندے نے یہ شہادت دی کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اس کا رسول ہوں، تو ہرگز آگ اس کو نہیں کھائے گی یا (فرمایا) وہ ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا۔

132

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #132

Sahih

۔ (۱۳۲)۔عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِؓأَنَّہٗ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ اِنْ لَقِیْتُ رَجُلًا مِنَ الْکُفَّارِ فَقَاتَلَنِیْ فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَیْنِ فَضَرَبَ اِحْدٰی یَدَیَّ بِالسَّیْفِ فَقَطَعَہَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّیْ بِشَجَرَۃٍ فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلّٰہِ، أُقَاتِلُہٗ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: أَقْتُلُہٗ أَمْ أَدَعُہٗ بَعْدَ أَنْ قَالَہَا) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقْتُلْہُ فَاِنْ قَتَلْتَہٗ فَاِنَّہٗ بِمَنْزِلَتِکَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَہٗ وَ أَنْتَ بِمَنْزِلَتِہٖ قَبْلَ أَنْ یَقُوْلَ کَلِمَتَہٗ الَّتِیْ قَالَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مقداد بن اسود ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک کافر آدمی سے میرا ٹاکرا ہو جائے، وہ مجھ سے لڑ پڑے، ہم دونوں ایک دوسرے کو ایک ایک ضرب لگائیں، لیکن وہ میرے ہاتھ کو تلوار سے ایسی ضرب لگائے کہ اس کو کاٹ دیے اور پھر مجھ سے پناہ طلب کرنے کے لیے ایک درخت کی اوٹ میں جا کر یہ کہنے لگ جائے: میں اللہ کے لیے مسلمان ہو گیا ہوں، اے اللہ کے رسول! اب کیا میں اس سے لڑائی کروں؟ ایک روایت میں ہے: یہ بات کہنے کے بعد کیا میں اس کو قتل کر دوں یا چھوڑ دوں۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو اس کو قتل نہ کر، اگر تو نے اس کو قتل کر دیا تو اِس قتل سے پہلے اسلام والی جو تیری حالت تھی، وہ اس میں آ جائے گا اور اِس قبولیت ِ اسلام والی بات سے پہلے جو اُس کی حالت تھی، تو اُس میں چلا جائے گا۔