Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 19

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان

6 hadiths in this chapter

117

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #117

Sahih

۔ (۱۱۷)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ: لَمَّا أَلْقَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فِی قَلْبِیَ الْاِسْلَامَ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِیُبَایِعَنِیْ فَبَسَطَ یَدَہُ إِلَیَّ فَقُلْتُ: لَا أُبَایِعُکَ حَتّٰی یُغْفَرَ لِیْ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِیْ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْہِجْرَۃَ تَجُبُّ مَا قَبْلَہَا مِنَ الذُّنُوْبِ، یَا عَمْرُو! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْاسْلَامَ یَجُبُّ مَا قَبْلَہُ مِنَ الذُّنُوْبِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کا خیال ڈال دیا تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیعت کرنے کے لیے آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنا ہاتھ میری طرف پھیلادیا، لیکن اس وقت میں نے کہا: میں اس وقت تک آپ کی بیعت نہیں کروں گا، جب تک میرے سابقہ گناہ بخش نہیں دیئے جاتے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: عمرو! کیا تو نہیں جانتا کہ ہجرت پہلے والے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، عمرو! کیا تجھے یہ علم نہیں ہے کہ اسلام بھی پہلے والے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔

118

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #118

Sahih

۔ (۱۱۸)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِذَا أَحْسَنْتُ فِی الْاِسْلَامِ أُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْتُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ؟ قَالَ: ((إِذَا أَحْسَنْتَ فِی الْاِسْلَامِ لَمْ تُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلْتَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَ إِذَا أَسَأْتَ فِی الْاِسْلَامِ أُخِذْتَ بِالْأَوَّلِ وَالآخِرِ۔)) (مسند أحمد: ۳۵۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں (اسلام قبول کر کے)اس دین میں نیکیاں کرتا رہوں تو کیا جاہلیت والی میری برائیوں کی وجہ سے میرا محاسبہ ہو گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تو بظاہر اور بباطن اسلام قبول کرے گا تو جاہلیت میں جو کچھ کیا ہو گا، اس کی بنا پر تیرا مؤاخذہ نہیں ہو گا، لیکن اگرتو بظاہر اسلام قبول کرے گا، نہ کہ بباطن تو اگلی پچھلی یعنی ہر برائی پر مؤاخذہ کیا جائے گا۔

119

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #119

Sahih

۔ (۱۱۹)۔عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ یَزِیْدَ الْجُعْفِیِّؓ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَ أَخِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أُمَّنَا مُلَیْکَۃَ کَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَقْرِی الضَّیْفَ وَ تَفْعَلُ وَ تَفْعَلُ ہَلَکَتْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَہَلْ ذَالِکَ نَافِعُہَا شَیْئًا؟ قَالَ: ((لَا۔)) قَالَ: قُلْنَا: فَإِنَّہَا کَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَنَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَہَلْ ذَالِکَ نَافِعُہَا شَیْئًا؟ قَالَ: (( الْوَائِدَۃُ وَالْمَوْئُ وْدَۃُ فِی النَّارِ إِلَّا أَنْ تُدْرِکَ الْوَائِدَۃُ الْاِسْلَامَ فَیَعْفُوَ اللّٰہُ عَنْہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سلمہ بن یزید جعفیؓ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی، ہم دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری اماں جان مُلیکہ صلہ رحمی کرتی تھی، مہمانوں کی میزبانی کرتی تھی اور اس قسم کی کئی نیکیاں کرتی تھی، لیکن دورِ جاہلیت میں ہی فوت ہو گئی ہے، تو کیا یہ اعمال اسے فائدہ دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہیں۔ ہم نے کہا: اس نے دورِ جاہلیت میں ہی ہماری ایک بہن کو زندہ درگور کر دیا تھا، تو یہ چیز اس کو نفع دے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: زندہ درگور کرنے والی اور زندہ درگور ہونے والی، دونوں جہنمی ہیں، الا یہ کہ درگور کرنے والی اسلام کو پا لے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے۔

120

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #120

Sahih

۔ (۱۲۰)۔عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِیِّؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ أَبِیْ کَانَ یَصِلُ الرَّحِمَ وَ یَفْعَلُ وَ یَفْعَلُ، فَہَلْ لَہُ فِی ذَالِکَ یَعْنِیْ مِنْ أَجْرِہِ؟ قَالَ: ((إنَّ أَبَاکَ طَلَبَ أَمْرًا فَأَصَابَہُ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عدی بن حاتمؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا اور اس کے علاوہ بھی کئی نیک کام کرتا تھا، تو اس کو ان کا اجر ملے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک تیرا باپ (شہرت اور تعریف کی صورت میں) جس چیز کا طلبگار تھا، وہ اس کو مل گئی تھی۔

121

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #121

Sahih

۔ (۱۲۱)۔عَنْ حَکِیْمٍ بْنِ حِزَامٍؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ أُمُوْرًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مِنْ عَتَاقَۃٍ وَ صِلَۃِ رَحِمٍ ہَلْ لِیْ فِیْہَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَسْلَمْتَ عَلٰی مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَیْرٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۳۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غلاموں کی آزادی اور صلہ رحمی جیسے ان امور کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو میں دورِ جاہلیت میں عبادت کے طور پر کرتا تھا، کیا مجھے ان کا اجر ملے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تو جو امورِ خیر سرانجام دے چکا ہے، اس سمیت مسلمان ہوا ہے۔

122

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #122

Sahih

۔ (۱۲۲)۔عَنْ عَمْرٍو بْنِ عَبَسَۃَؓ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْخٌ کَبِیْرٌ یَدَّعِمُ عَلٰی عَصًا لَہُ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی غَدَرَاتٍ وَ فَجَرَاتٍ فَہَلْ یُغْفَرُ لِی؟ قَالَ: ((أَلَسْتَ تَشْہَدُ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ؟)) قَالَ: بَلٰی! وَ أَشْہَدُ أَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، قَالَ: ((قَدْ غُفِرَ لَکَ غَدَرَاتُکَ وَفَجَرَاتُکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۶۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمرو بن عبسہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بوڑھا آدمی لاٹھی کے سہارے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں نے دھوکے، خیانتیں اور برائیاں کی تھیں، کیا پھر بھی مجھے بخش دیا جائے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تو یہ شہادت نہیں دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، بلکہ میں تو یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تیرے دھوکوں، خیانتوں اور برائیوں کو بخش دیا گیا ہے۔