Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 18

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

اس آدمی کے حکم کا بیان،جس کے ہاتھ پر کافروں میں سے کوئی آدمی مسلمان ہو جاتا ہے

3 hadiths in this chapter

114

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #114

Sahih

۔ (۱۱۴)۔عَنْ تَمِیْمٍ الدَّارِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا السُّنَّۃُ فِی الرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ (وَفِی رِوَایَۃٍ: مِنْ أَہْلِ الْکُفْرِ) یُسْلِمُ عَلٰی یَدَیْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ؟ قَالَ: ((ہُوَ أَوْلَی النَّاسِ بِمَحْیَاہُ وَ مَمَاتِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۰۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا تمیم داریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اہل کِتَابُ یا اہل کفر میں سے کوئی آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے بارے میں کیا سنت ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا۔

115

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #115

Sahih

۔ (۱۱۵)۔عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: إِنِّی لَتَحْتَ رَاحِلَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْ مَ الْفَتْحِ فَقَالَ قَوْلًا حَسَنًا جَمِیْلًا وَکَانَ فِیْمَا قَالَ: ((مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ فَلَہُ أَجْرُہُ مَرَّتَیْنِ وَلَہُ مَا لَنَا وَ عَلَیْہِ مَا عَلَیْنَا وَمَنْ أَسْلَمَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ فَلَہُ أَجْرُہُ وَلَہُ مَا لَنَا وَ عَلَیْہِ مَا عَلَیْنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۲۵۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سواری کے نیچے کھڑا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بڑی خوبصورت اور حسین باتیں ارشاد فرمائیں تھیں، ایک بات یہ بھی تھی: اہل کِتَابُ میں سے جو آدمی مسلمان ہو گا، اس کے دو اجر ہوں گے اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔ اور جو آدمی مشرکوں میں سے مسلمان ہو گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔

116

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #116

Sahih

۔ (۱۱۶)۔عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ أَمَۃٌ فَعَلَّمَہَا فَأَحْسَنَ تَعْلِیْمَہَا وَ أَدَّبَہَا فَأَحْسَنَ تَأْدِیْبَہَا وَ أَعْتَقَہَا فَتَزَوَّجَہَا فَلَہُ أَجْرَانِ، وَعَبْدٌ أَدَّی حَقَّ اللّٰہِ وَ حَقَّ مَوَالِیْہِ وَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بِمَا جَائَ بِہِ عِیْسٰی وَمَا جَائَ بِہِ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَہُ أَجْرَانِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو آدمی اپنی لونڈی کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے اور اس کی اخلاقی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کرے تو اس کو دو اجر ملیں گے، (اسی طرح اس کے لیے دو اجر ہیں) جو غلام اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے آقا کا بھی اور اہل کتاب کا وہ آدمی جو پہلے حضرت عیسی ؑکی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا اور پھر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔