Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 25

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

تقدیر کے ثبوت اور حقیقت کا بیان

13 hadiths in this chapter

180

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #180

Sahih

۔ (۱۷۹)۔ (وَ عَنْہُ أَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ رَحَی الْاِسْلَامِ سَتَزُوْلُ بِخَمْسٍ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سِتٍّ وَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ سَبْعٍ وَ ثَلَاثِیْنَ، فَاِنْ یَہْلِکُوْا فَکَسَبِیْلِ مَنْ ہَلَکَ وَ اِنْ یَقُمْ لَہُمْ دِیْنُہُمْ یَقُمْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ عَامًا، قَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَبِمَا مَضَی أَمْ بِمَا بَقِیَ؟ قَالَ: بَلْ بِمَا بَقِیَ۔ (مسند أحمد: ۳۷۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے تقدیر کا اندازہ لگا لیا تھا۔

181

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #181

Sahih

۔ (۱۸۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَہُ فِی ظُلْمَۃٍ ثُمَّ أَلْقٰی عَلَیْہِمْ مِنْ نُّوْرِہِ یَوْمَئِذٍ،فَمَنْ أَصَابَہُ مِنْ نُوْرِہِ یَوْمَئِذٍ اہْتَدَی وَمَنْ أَخْطَأَہُ ضَلَّ، فَلِذٰلِکَ أَقُوْلُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلٰی عِلْمِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا، پھر اسی دن ان پر اپنا نور ڈالا، جس شخص تک اس دن وہ نور پہنچ گیا، وہ ہدایت پا گیا اور جس سے تجاوز کر گیا، وہ گمراہ ہو گیا، اسی لیے میں کہتا ہوں: اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق قلم خشک ہو گیا۔

182

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #182

Sahih

۔ (۱۸۲)۔عَنْ طَائُ وْسٍ بْنِ الْیَمَانِیِّ قَالَ: أَدْرَکْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُوْنَ: کُلُّ شَیْئٍ بِقَدَرٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَؓ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : کُلُّ شَیْئٍ بِقَدَرٍ حَتَّی الْعَجْزُ وَالْکَیْسُ۔ (مسند أحمد: ۵۸۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

طاوس یمانی کہتے ہیں: جتنے صحابۂ کرام سے میری ملا قات ہوئی، وہ سب کہتے تھے: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے اور میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے سنا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہر چیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے، حتی کہ بے بسی و لاچارگی اور عقل و دانش بھی۔

183

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #183

Zaeef

۔ (۱۸۳)۔عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَلَقَ اللّٰہُ آَدَمَ حِیْنَ خَلَقَہُ فَضَرَبَ کَتِفَہُ الْیُمْنَی فَأَخْرَجَ ذُرِّیَّۃً بَیْضَائَ کَأَنَّہُمُ الذَّرُّ وَ ضَرَبَ کَتِفَہُ الْیُسْرَی فَأَخْرَجَ ذُرِّیَّۃً سَوْدَائَ کَأَنَّہُمْ الْحُمَمُ، فَقَالَ لِلَّذِیْ فِی یَمِیْنِہِ: اِلَی الْجَنَّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ قَالَ لِلَّذِی فِی کَفِّہِ الْیُسْرٰی: اِلَی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو پیدا کیا تو اس کے دائیں کندھے پر ضرب لگائی اور وہاں سے سفید رنگ کی اولاد نکالی، وہ چھوٹی چیونٹیوں کی جسامت کی تھی، پھر بائیں کندھے پر ضرب لگائے اور کوئلوں کی طرح سیاہ اولاد نکالی، پھر دائیں طرف والی اولاد کے بارے میں کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا اور بائیں کندھے سے نکلنے والے اولاد کے بارے میں کہا: یہ جہنم میں جائیں گے اور میں بے پرواہ ہوں۔

184

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #184

Sahih

۔ (۱۸۴)۔عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِیْلَ بِأَعْمَالِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ثُمَّ یَخْتِمُ اللّٰہُ لَہُ بِأَعْمَالِ أَہْلِ النَّارِ فَیَجْعَلُہُ مِنْ أَہْلِ النَّارِ، وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِیْلَ بِأَعْمَالِ أَہْلِ النَّارِ ثُمَّ یَخْتِمُ اللّٰہُ لَہُ عَمَلَہُ بِأَعْمَالِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیَجْعَلُہُ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۲۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک آدمی عرصۂ دراز تک جنتی لوگوں والے اعمال کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جہنمی لوگوں والے اعمال کے ساتھ اس کی زندگی کا اختتام کرتا ہے اور اس طرح اس کو آگ والوں میں سے بنا دیتا ہے، دوسری طرف ایک آدمی کافی عرصے تک آگ والے لوگوں کے اعمال کرتا رہتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جنتی لوگوں کے افعال کے ساتھ اس کی زندگی کا اختتام کرتا ہے اور اس طرح اس کو اہل جنت میں سے بنا دیتا ہے۔

185

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #185

Sahih

۔ (۱۸۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا عَلَیْکُمْ أَنْ لَّا تُعْجَبُوْا بِأَحَدٍ حَتّٰی تَنْظُرُوْا بِمَ یُخْتَمُ لَہُ، فَاِنَّ الْعَامِلَ یَعْمَلُ زَمَانًا طَوِیْلًا مِنْ عُمُرِہِ أَوْ بُرْہَۃً مِنْ دَہْرِہِ بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ عَلَیْہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، ثُمَّ یَتَحَوَّلُ فَیَعْمَلُ عَمَلًا سَیِّئًا، وَاِنَّ الْعَبْدَ لَیَعْمَلُ الْبُرْہَۃَ مِنْ دَہْرِہِ بِعَمَلٍ سَیِّئٍ لَوْ مَاتَ عَلَیْہِ دَخَلَ النَّارَ ثُمَّ یَتَحَوَّلُ فَیَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا، وَاِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِعَبْدٍ خَیْرًا اِسْتَعْمَلَہُ قَبْلَ مَوْتِہِ)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ یَسْتَعْمِلُہُ؟ قَالَ: ((یُوَفِّقُہُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ یَقْبِضُہُ عَلَیْہِ)) (مسند أحمد: ۱۲۲۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم پر اس چیز میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم (کسی کے اچھے عمل کی وجہ سے)اس پر خوش نہ کیے جاؤ، یہاں تک کہ تم دیکھ لو کہ کس عمل پر اس کا خاتمہ ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ عمل کرنے والا اپنی عمر کے طویل حصے میں یا کچھ زمانے میں ایسے نیک عمل کرتا ہے کہ اگر ان پر اس کی موت واقع ہو جائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا،لیکن ہوتا یوں ہے کہ وہ اپنی روٹین تبدیل کر لیتا ہے اور برے عمل شروع کر دیتا ہے، اسی طرح ایک آدمی کچھ عرصہ تک ایسے برے عمل کرتا رہتا ہے کہ اگر اسی حالت میں اس کی موت واقع ہو جائے تو وہ جہنم میں داخل ہو جائے گا، لیکن پھر وہ بدل جاتا ہے اور نیک عمل شروع کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کی موت سے پہلے استعمال کر لیتا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اس کو کیسے استعمال کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کو نیک عمل کی توفیق دے دیتا ہے اور پھر اس کو اس (اچھے عمل) پر موت دے دیتا ہے۔

186

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #186

Sahih

۔ (۱۸۶)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ وَ اِنَّہُ لَمَکْتُوْبٌ مِنْ أَہْلِ النَّارِ فَاِذَا کَانَ قَبْلَ مَوْتِہِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ، وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ وَ اِنَّہٗ لَمَکْتُوْبٌ فِی الْکِتَابِ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَاِذَا کَانَ قَبْلَ مَوْتِہِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَمَاتَ فَدَخَلَہَا)) (مسند أحمد: ۲۵۲۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کر رہا ہوتا ہے، جبکہ وہ جہنمی لوگوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت ہوتا ہے تو اس کی حالت تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ جہنمی لوگوں والے عمل شروع کردیتا ہے اور اسی حالت پر مرجاتا ہے اور جہنم میں داخل ہو جاتا ہے اور دوسری طرف ایک آدمی جہنمی لوگوں والے عمل کررہا ہوتا ہے، جبکہ وہ جنتی لوگوں میں لکھا ہوا ہوتا ہے، جب اس کی موت سے پہلے کا وقت ہوتا ہے تو وہ پہلی حالت سے منتقل ہو جاتا ہے اور اہل جنت کے عمل شروع کر دیتا ہے اور اسی حالت پر مر کر جنت میں داخل ہو جاتاہے۔

187

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #187

Sahih

۔ (۱۸۷)۔عَنْ أَبِیْ نَضْرَۃَ قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَصْحَابُہُ یَعُوْدُوْنَہُ فَبَکبٰی، فَقِیْلَ لَہُ مَا یُبْکِیْکَ یَا عَبْدَاللّٰہِ؟ أَلَمْ یَقُلْ لَکَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((خُذْ مِنْ شَارِبِکَ ثُمَّ أَقِرَّہُ حَتَّی تَلْقَانِیْ)) قَالَ: بَلٰی، وَلَکِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَبَضَ قَبْضَۃً بِیَمِیْنِہِ فقَالَ: ہٰذِہِ لِہٰذِہِ وَلَا أُبَالِیْ وَ قَبَضَ قَبْضَۃً أُخْرٰی یَعْنِیْ بِیِدِہِ الْأُخْرٰی فَقَالَ: ہٰذِہِ لِہٰذِہِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) فَـلَا أَدْرِیْ فِیْ أَیِّ الْقَبْضَتَیْنِ أَنَا۔ (مسند أحمد:۱۷۷۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو نضرہ کہتے ہیں: ایک صحابی بیمار ہوا، جب اس کے ساتھی اس کی تیمارداری کرنے کے لیے اس کے پاس گئے تو وہ رونے لگ گیا، کسی نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! تو کیوں رو رہا ہے؟ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تجھے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اپنی مونچھوں کو کاٹ دے، پھر اسی حالت پر برقرار رہنا، یہاں تک کہ مجھے آ ملے۔ ؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، ایسے ہی ہوا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھری اور کہا: یہ جنت کے لیے ہیں اور میں بے پروا ہوں، پھر دوسرے ہاتھ سے ایک مٹھی بھری اور کہا: یہ جہنم کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔ اب میں یہ نہیں جانتا کہ میں کون سی مٹھی میں تھا۔

188

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #188

Zaeef

۔ (۱۸۸)۔ عَنْ مُعَاذٍ بْنِ جَبَلٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: ((فَقَبَضَ بِیَدَیْہِ قَبْضَتَیْنِ فقَالَ: ہٰذِہِ فِی الْجَنّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ ہٰذِہِ فِی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے بھی نبی ٔکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: پس اللہ تعالیٰ نے دونوں ہاتھوں سے دو مٹھیاں بھریں اور کہا: یہ جنت میں جائیں گے اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔

189

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #189

Sahih

۔ (۱۸۹)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: مَا رَأَیْتُ شَیْئًا أَشْبَہَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ کَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّہُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَکَہُ لَا مَحَالَۃَ، وَزِنَا الْعَیْنِ النَّظْرُ وَزِنَا اللِّسَانِ النُّطْقُ وَ النَّفْسُ تَمَنّٰی وَ تَشْتَہِیْ وَ الْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذٰلِکَ أَوْ یُکَذِّبُہُ۔)) (مسند أحمد: ۷۷۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہے: میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی، جو صغیرہ گناہوں سے زیادہ ملتی جلتی ہو، اس چیز کی بہ نسبت، جس کو سیدنا ابو ہریرہؓ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کے ہر بیٹے پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے، وہ اس کو لا محالہ طور پر پا لے گا، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا کرتا ہے اور چاہتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔

190

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #190

Zaeef

۔ (۱۹۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ ابْنِ أَبِیْ خُزَامَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَأَیْتَ دَوَائً نَتَدَاوٰی بِہِ وَرُقًی نَسْتَرْقِیْ بِہَا وَ تُقًی نَتَّقِیْہَا تَرُدُّ مِنْ قَدْرِاللّٰہِ شَیْئًا؟ قَالَ: ((اِنَّہَا مِنْ قَدْرِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) (مسند أحمد: ۱۵۵۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو خزامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ جو ہم دوا کے ذریعے علاج کرتے ہیں، دم کرواتے ہیں، بچاؤ استعمال کرتے ہیں، ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو ردّ کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے ہیں۔

191

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #191

Sahih

۔ (۱۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ أَنَّہُ رَکِبَ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَا غُلَامُ! اِنِّیْ مُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ(یَنْفَعُکَ اللّٰہُ ِبہِنَّ) اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ، اِحْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاہَکَ، وَاِذَا سَأَلْتَ فَاسْئَلِ اللّٰہَ، وَاِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِاجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَنْفَعُوْکَ لَمْ یَنْفَعُوْکَ اِلَّا بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَضُرُّوْکَ لَمْ یَضُرُّوْکَ اِلَّا بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ، رُفِعَتِ الْاَقْلَامُ وَ جَفَّتِ الصُّحُفُ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ وہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پیچھے سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان کو فرمایا: اولڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھانے والا ہوں، اللہ تعالیٰ تجھے ان کے ذریعے نفع دے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، وہ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت کر، اس کو اپنے سامنے پائے گا، جب بھی تو سوال کرے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کر اور جب بھی تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر، اور جان لے کہ اگر پوری امت تجھے کوئی فائدہ دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نفع نہیں دیں سکے گی، مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا ہے، اسی طرح اگر پوری امت تجھے کوئی نقصان دینے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے کوئی نقصان نہیں دے سکے گی،مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں لکھ دیا، قلمیں اٹھا لی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں۔

192

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #192

Sahih

۔ (۱۹۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ زَیَادَۃُ: ((تَعَرَّفْ اِلَی اللّٰہِ فِی الرَّخَائِ یَعْرِفْکَ فِی الشِّدَّۃِ (وَفِیْہِ أَیْضًا) فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ کُلَّہُمْ جَمِیْعًا أَرَادُوْا أَنْ یَنْفَعُوْکَ بِشَیْئٍ لَمْ یَکْتُبْہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ لَمْ یَقْدِرُوْا عَلَیْہِ، وَاِنْ أَرَادُوْا أَنْ یَضُرُّوْکَ بِشَیْئٍ لَمْ یَکْتُبْہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ لَمْ یَقْدِرُوْا عَلَیْہِ، وَاعْلَمْ أَنَّ فِی الصَّبْرِ عَلٰی مَا تَکْرَہُ خَیْرًا کَثِیْرًا وَ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَ أَنَّ الْفَرْجَ مَعَ الْکَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ان الفاظ کی زیادتی ہے: تو خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کو پہنچان کے رکھ، وہ تنگ دستی میں تجھے پہنچان لے گا، پس اگر ساری مخلوق تجھے کسی ایسی چیز کا فائدہ دینے کا ارادہ کر لے، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے حق میں نہیں لکھی تو (وہ جو… مرضی کر لیں، بہرحال) ان کو یہ قدرت نہیں ہو گی، اسی طرح اگر وہ تجھے ایسا نقصان دینے پر تُل جائیں، جو اللہ تعالیٰ نے تیرے نصیب میں نہیں لکھا، تو وہ ایسا کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھیں گے، تو جان لے کہ ناپسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے اور مدد صبر کے ساتھ، کشادگی تنگی کے ساتھ اور آسانی مشکل کے ساتھ ہوتی ہے۔