Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 29 · Chapter 308

دعائے قنوت کے ابواب

صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟

10 hadiths in this chapter

1756

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1756

Sahih

۔ (۱۷۵۶) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا اِبْنُ أَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ سَعِیْدٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ ثَنَا سَعِیْدٌ الْمَعْنٰی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَّبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ رِعْلٌ وَذَکْوَانُ وَعُصَیَّۃُ وَبَنُو لِحْیَانَ فَزَعَمُوْا أَنَّہُمْ قَدْأَسْلَمُوْا فَاسْتَمَدُّوْہُ عَلٰی قَوْمِہِمْ فَأَمَدَّھُمْ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ بِسَبْعِیْنَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ أَنَسٌ کُنَّا نُسَمِّیْہِمْ فِیْ زَمَانِہِمُ الْقُرَّائَ، کَانَوا یَحْتَطِبُوْنَ بِالنَّھَارِ وَیُصَلُّوْنَ بِاللَّیْلِ، فَانْطَلَقُوْا بِہِمْ حَتّٰی إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُوْنَۃَ غَدَرُوْا بِہِمْ فَقَتَلُوْھُمْ، فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا فِیْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَدْعُوْا عَلٰی ھٰذِہِ الْأَحْیَائِ رِعْلٍ وَ ذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَبَنِیْ لِحْیَانَ قَالَ قَتَادَۃَ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّہُمْ قَرَأُوْا بِہِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِیْ حَدِیْثِہِ إِنَّا قَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔ ثُمَّ رُفِعَ ذٰلِکَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ أَوْ رُفِعَ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مدد مانگی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے، کیونکہ یہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔

1757

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1757

Sahih

۔ (۱۷۵۷) (وَمِنَ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَاوَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی سَرِیَّۃٍ مَاوَجَدَ عَلَیْہِمْ، کَانُوْا یُسَمُّوْنَ الْقُرَّائَ، قَالَ سُفْیَانُ نَزَلَ فِیْہِمْ: بَلِّغُوْا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِیْنَا وَرَضِیَ عَنَّا۔ قِیْلَ لِسُفْیَانَ: فِیْمَنْ نَزَلَتْ؟ قَالَ: فِیْ أَھْلِ بِئْرِ مَعُوْنَۃَ ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی دستے پر اتنا غم محسوس نہیں کیا جتنا ان لوگوں پر محسوس کیا، ان کو قراء کہا جاتا تھا،سفیان کہتے ہیں: ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {بَلِّغُوْا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِیْنَا وَرَضِیَ عَنَّا} یعنی: ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم (اپنے رب سے) راضی ہو گئے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے۔ کسی نے امام سفیان سے پوچھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: بئر معونہ والوں کے بارے میں۔

1758

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1758

Sahih

۔ (۱۷۵۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا بَعْدَ الرُّکُوْعِ یَدْعُوْا عَلٰی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ، وَقَالَ: ((عُصَیَّۃُ عَصَتِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ تک دعائے قنوت کی، اس میں آپ رعل اور ذکوان قبیلوں پر بد دعا کرتے تھے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔

1759

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1759

Sahih

۔ (۱۷۵۹) (وَعَنْہُ أَیْضًا) قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا یَدْعُوْا بَعَدَ الرُّکُوْعِ عَلٰی حَیٍّ مِنْ أَحْیَائِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۷۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد دعائے قنوت کی، اس میں آپ عرب قبائل میں سے ایک قبیلہ پر بددعا کرتے تھے، پھر اسے ترک کر دیا تھا۔

1760

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1760

Sahih

۔ (۱۷۶۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ حِیْنَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ، قَالَ: ((رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ)) فِی الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ، ثُمَّ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ الْعَنْ فُلاَنَا…۔)) دَعَا عَلٰی نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِیْنَ، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْیَتُوْبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ۔} (مسند احمد: ۶۳۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر میں جب رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ یہ آخری رکعت کی بات تھی، پھر یہ بد دعا کرنے لگے: اے اللہ! تو فلاں پر لعنت کر، …۔ منافق لوگوں پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بددعا کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: (اے پیغمبر!) آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

1761

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1761

Sahih

۔ (۱۷۶۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لَمَّا رَفَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ مِنْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ الْفَجْرِ) قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ أَنْجِ الْوَلِیْدَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْجِ الْوَلِیْدَ) ابْنَ الْوَلِیْدِ وَسَلَمَۃَ ابْنَ ھِشَامٍ وَعَیَّاشَ بْنَ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ بِمَکَّۃَ، اَللّٰہُمَّ اشْدُدْ وَطَأَتَکَ عَلٰی مُضَرَ وَاجْعَلْہَا عَلَیْہِمْ سِنِیْنَ کَسِنِیْیُوسُفَ۔)) (مسند احمد: ۷۲۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز میں آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ دعا کی: اے اللہ: ہمارے رب! اورتیرے لئے ہی ساری تعریف ہے، تو ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اورمکہ کے کمزوروں کو نجات دے دے، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنا عذاب سخت کردے اوراسے ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی کی طرح قحط کر دے۔

1762

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1762

Sahih

۔ (۱۷۶۲) عَنْ خُفَافِ بْنِ إِیْمَائِ بْنِ رَحْضَۃَ الْغِفَارِیِّ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ وَنَحْنُ مَعَہُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ الْأَخِیْرَۃِ قَالَ: ((لَعَنَ اللّٰہُ لِحْیَانَ وَرِعْلًا وَذَ کْوَانَ وَعُصَیَّۃَ، عَصَوُا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ، أَسْلَمُ سَالَمَھَا اللّٰہُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللّٰہُ لَھَا، ثُمَّ وَقَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَاجِدًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَرَأَ عَلَی النَّاسِ: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّیْ أَنَا لَسْتُ قُلْتُہُ، وَلٰکِنَّ اللّٰہَ عَزْوَجَلَّ قَالَہُ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ حُفَافٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَۃُ الْکَفَرَۃِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۶۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا خفاف بن ایماء غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جبکہ ہم آپ کے ساتھ تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ بد دعا کی: اللہ لعنت کرے، لحیان پر، رعل پر، ذکوان پر اور عصیہ پر، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اورغفار کو اللہ معاف فرمائے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدے میں گر پڑے،جب آپ (نماز سے)فارع ہوئے تو فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کلمات نہیں کہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے کہے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: خفاف نے کہا: اسی وجہ سے کافروں پر لعنت کرنا بنا دیا گیا۔

1763

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1763

Sahih

۔ (۱۷۶۳) عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ھَلْ قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ بَعْدَ الرُّکُوْعِ، ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِکَ مَرَّۃً أُخْرٰی ھَلْ قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ قَالَ بَعْدَ الرُّکُوْعِ یَسِیْرًا۔ (مسند احمد: ۱۲۱۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن سیرین کہتے ہیں کہ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا:ہاں رکوع کے بعد کی ہے۔ اس کے بعد پھر ایک دفعہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی، رکوع کے بعد کچھ عرصہ تک کی ہے۔

1764

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1764

Sahih

۔ (۱۷۶۴) عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلْتُہُ عَنِ الْقُنُوْتِ أَقَبْلَ الرُّکُوْعِ أَوْبَعْدَ الرُّکُوْعِ؟ فَقَالَ: قَبْلَ الرُّکُوْعِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّہُمْ یَزْعُمُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَنَتَ بَعْدَ الرُّکُوْعِ؟ فَقَالَ: کَذَبُوْا، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا یَدْعُوْا عَلَی نَاسٍ قَتَلُوْا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِہِ یُقَالُ لَھُمُ الْقُرَّائُ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

عاصم احول کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے قنوت کے متعلق سوال کیا کہ آیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟ انہوں نے جواب دیا: رکوع سے پہلے ہے۔ میں نے کہا: لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رکوع کے بعد قنوت کی تھی،یہ سن کرانہوں نے کہا: لوگوں سے غلطی ہوئی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صرف ایک مہینہ قنوت کی ہے جس میں آپ ان لوگوں پربد دعا کرتے تھے جنہوں نے آپ کے ان صحابہ کو قتل کر دیا تھا، جن کو قرّاء کہا جاتا تھا۔

1765

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1765

Zaeef

۔ (۱۷۶۵) عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَازَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْنُتُ فِی الْفَجْرِ حَتّٰی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ (مسند احمد: ۱۲۶۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر میں ہمیشہ قنوت کرتے رہے حتی کہ آپ دنیا سے جدا ہوگئے۔