Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 295

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

تکبیرات الانتقال کا بیان

14 hadiths in this chapter

1663

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1663

Sahih

۔ (۱۶۶۳) عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ قَالَ: قُلْتُ لِاْبْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنِیْ عَنْ صَلاَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَیْفَ کَانَتْ؟ قَالَ: فَذَکَرَ التَّکْبِیْرَ کُلَّمَاوَضَعَ رَأَسَہُ وَکُلَّمَا رَفَعَہُ وَذَکَرَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمْۃُ اللّٰہِ عَنْ یَمِیْنِہِ السَّلَامُ عَلَیْکُمْ عَنْ یَسَارِہِ۔ (مسند احمد: ۵۴۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

واسع بن حبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیسی تھی؟ انہوں نے (جواب میں) یہ چیز بھی ذکر کی کہ آپ جب بھی اپنا سر جھکاتے اور اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر انھوں نے دائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمْۃُ اللّٰہ ِاور بائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کا ذکر کیا۔

1664

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1664

Sahih

۔ (۱۶۶۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ کَانُوْا یُتِمُّوْنَ التَّکْبِیْرَ فَیَکُبِّرُوْنَ إِذَا سَجَدُوْا وَ إِذَا رَفَعُوْا أَوْخَفَضُوْا کَبَّرُوْا۔ (مسند احمد: ۱۲۳۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما جب سجدہ کرتے اور جب اٹھتے اور جھکتے تھے تو تکبیر کہتے تھے۔

1665

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1665

Zaeef

۔ (۱۶۶۵) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ أَبِیْ مَالِکٍ الْأَ شْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ جَمَعَ أَصْحَابَہٗفَقَالَ: ھَلُمَّأُصَلِّیْ صَلاَۃَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: وَکَانَ رَجُلاً مِنَ الْأَشْعَرِیِّیْنَ، قَالَ فَدَعَا بِجَفْنَۃٍ مِنْ مَائٍ فَغَسَلَیَدَیْہِ ثَلاَثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا، وَ ذِرَاعَیْہِ ثَلاَثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ، وَأُذُنَیْہِ، وَغَسَلَ قَدَمَیْہِ، قَالَ: فَصَلَّی الظُّھْرَ فَقَرَأَ فِیْہَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَکَبَّرَ ثِنْتَیْنِ وَعِشْرِیْنَ تَکْبِیْرَۃً۔ (مسند احمد: ۲۳۲۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے کہا: آؤ میں تمہیں اللہ کے نبی کی نماز پڑھاتا ہوں، وہ اشعری قبیلے کے آدمی تھے، پھر انھوں نے ایک ٹب منگوایا، اپنے ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر تین بار دونوں بازو دھوئے اور اس کے بعد اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا اور پھر اپنے پاؤں دھوئے، پھر نماز ِ ظہر پڑھائی، اس میں سورۂ فاتحہ پڑھی اور بائیس دفعہ اللہ اکبر کہا۔

1666

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1666

Zaeef

۔ (۱۶۶۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَظَہْرِ قَدَمَیْہِ ثُمَّ صَلّٰی بِہِمْ ثِنْتَیْنِ وَعِشْرِیْنَ تَکْبِیْرَۃً،یُکَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ، وَقَرَأَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ وَأَسْمَعَ مَنْ یَلِیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)اس میں ہے: اور انہوں نے اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے پر مسح کیا، پھر ان کو نماز پڑھائی اور بائیس تکبیریں کہیں، جب وہ سجدہ کرتے اور سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، انھوں نے دونوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی اور (اپنی آواز کو ہلکا بلند کرکے) اپنے قریب والوں کو سنائی۔

1667

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1667

Sahih

۔ (۱۶۶۷) عَنْ أَبِیْ مَالِکٍ الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ کَانَ یُسَوِّیْ بَیْنَ الْأَرْبَعِ رَکَعَاتٍ فِی الْقِرَائَۃِ وَالْقِیَامِ، وَیَجْعَلُ الرَّکْعَۃَ الْأُولٰی ھِیَ أَطْوَلُھُنَّ لِکَیْیَثُوْبَ النَّاسُ، وَیَجْعَلُ الِرّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ، وَالْغِلْمَانَ خَلْفَھُمْ وَالنِّسَائَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَیُکَبِّرُ کُلَّمَا سَجَدَ وَکُلَّمَا رَفَعَ، وَیُکَبِّرُ کُلَّمَا نَہَضَ بَیْنَ الرَّکْعَتَیْنِ إِذَا کَانَ جَالِسًا۔ (مسند احمد: ۲۳۲۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چاروں رکعتوں کی قراءت اور قیام برابر برابر ہوتے تھے، البتہ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے تاکہ لوگ پہنچ جائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مردوں کو بچوں کے آگے ، بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے کھڑا کرتے تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی سجدہ کرتے اور اس سے اٹھتے تو تکبیر کہتے ، اسی طرح جب دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ کر (تیسری رکعت) کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے۔

1668

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1668

Sahih

۔ (۱۶۶۸) عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: صَلَّیْتُ الظُّہْرَ بِالْبَطْحَائِ خَلْفَ شَیْخٍ أَحْمَقَ فَکَبَّرَ ثِنْتَیْنِ وَعِشْرِیْنَ تَکْبِیْرَۃً،یُکَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْکَ صَلَاۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

عکرمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میں نے بطحاء میں ایک شیخ کی اقتداء میں ظہر کی نماز پڑھی ہے، اس بیوقوف نے تو بائیس تکبیریں کہہ دی ہیں، جب وہ سجدہ کرتا اور اس سے سر اٹھاتا تو تکبیر کہتا تھا۔ (یہ سن کر) سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تو ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز ہے۔

1669

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1669

Sahih

۔ (۱۶۶۹) عَنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَنَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکَبِّرُ فِی کُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِیَامٍ وَقُعُودٍ، وَیُسِلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْ یَسَارِہِ حَتّٰییُرٰی بَیَاضُ خَدَّیْہِ، أَوْخَدِّہِ، وَرَأَیْتُ أَبَا بَکْرٍوَ عُمَرَ یَفْعَلَانِ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۳۶۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑا ہونے اوربیٹھنے پر تکبیر کہتے اور دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت (چہرۂ مبارک کو اتنا پھیرتے کہ) رخساروں کی سفیدی نظر آ جاتی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔

1670

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1670

Sahih

۔ (۱۶۷۰) عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: کَانَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَیُصَلِّیْ بِنَا فَیُکَبِّرُ حِیْنَیَقُوْمُ وَحِیْنَیَرْکَعُ، وَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّسْجُدَ بَعْدَ مَا یَرْفَعُ مِنَ الرُّکُوْعِ وَإِذَ أَرَادَ أَنْ یَسْجُدَ بَعْدَ مَایَرْ فَعُ مِنَ السُّجُودِ وَإِذَا جَلَسَ،وَإِذَا أَ رَادَ أَنْ یَرْفَعَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ کَبَّرَ، وَیُکِبِّرُ مِثْلَ ذٰلِکَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُخْرَیَیْنِ، فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ إِنِّیْ لَأَقْرَبُکُمْ شَبَہًا بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِی صَلاَتَہُ، مَازَالَتْ ھٰذِہِ صَلَاتُہٗحَتّٰی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ (مسند احمد: ۷۶۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں نماز پڑھاتے تھے، جب وہ کھڑے ہوتے، جب رکوع کرتے، جب رکوع سے اٹھنے کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے، جب سجدے سے سر اٹھانے کے بعد دوبارہ سجدہ کرتے ، جب بیٹھتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، دوسری دو رکعتوں میں بھی اسی طرح تکبیریں کہتے، جب سلام پھیرتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز میں تم سب کی بہ نسبت زیادہ مشابہت رکھنے والا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی یہی کیفیت رہی، حتی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے جدا ہو گئے۔

1671

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1671

Sahih

۔ (۱۶۷۱) عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہٗکَانَیُکَبِّرُ کُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ وَیُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۹۳۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو صالح کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں تکبیر کہتے تھے اور پھر بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ایسے ہی کرتے تھے۔

1672

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1672

Sahih

۔ (۱۶۷۲) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ َسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِیُکَبِّرُ حَیْنَیَقُوْمُ، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَیَرْکَعُ، ثُمَّ یَقُوْلُ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ حِیْنَیَرْفَعُ صُلْبَہُ مِنَ الرَّکْعَۃِ، ثُمَّ یَقُولُ وَھُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَیَہْوِیْ سَاجِدًا، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَیَرْفَعُ رَأَسَہُ، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَیَہْوِیْ سَاجِداً، ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَیَرْفَعُ رَأَسَہُ، ثُمَّ یَفْعَلَ ذٰلِکَ فِی الصَّلاَۃِ کُلِّہَا حَتَّییَقْضِیَھَا، وَیُکَبِّرُحِیْنَیَقُوْمُ مِنَ اللَّتَیْنِ بَعْدَ الْجُلُوْسِ۔ (مسند احمد: ۹۸۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب نماز کے لئے اٹھتے تو تکبیر کہتے، جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے، جب رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے، پھر کھڑے کھڑے رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہتے،پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (دوسرے) سجدے کے لیے گرتے تو تکبیر کہتے، پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر آپ ساری نماز میں اسی طرح کا (تکبیرات کہنے کا) عمل کرتے، یہاں تک کہ اسے پورا کر لیتے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی اللہ اکبر کہتے تھے۔

1673

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1673

Sahih

۔ (۱۶۷۳) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اِشْتَکٰی أَبُوْھُرَیْرَۃَ أَوْغَابَ فَصَلّٰی بِنَا أَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَجَہَرَ بِالتَّکْبِیْرِ حِیْنَ افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ وَحِیْنَ رَکَعَ وَحِیْنَ قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ وَحِیْنَ رَفَعَ رَأَسَہُ مِنَ السُّجُوْدِ وَحِیْنَ سَجَدَ وَحِیْنَ قَامَ بَیْنَ الرَّکْعَتَیْنِ حَتّٰی قَضٰی صَلاَتَہُ عَلٰی ذٰلِکَ، فَلَمَّا صَلّٰی، قِیْلَ لَہُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلٰی صَلاَتِکَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ، وَاللّٰہِ مَاأُبَالِیْ، اِخْتَلَفَتْ صَلاَتُکُمْ أَوْلَمْ تَخْتَلِفْ، ھٰکَذَا رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن حارث کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیمار ہوگئے تھے یا کہیں گئے ہوئے تھے، بہرحال ہمیں سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، رکوع سے اٹھنے کے لیے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدہ سے سر اٹھاتے وقت، سجدہ کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا، حتی کہ انھوں نے اسی طریقے پر نماز پوری کی، جب انھوں نے نماز پڑھ لی تو کسی نے ان سے کہا: لوگوں نے آپ کی نماز پر اعتراض کیا ہے، (یہ سن کر) وہ نکل کر منبر کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ تمہاری نماز مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔

1674

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1674

Sahih

۔ (۱۶۷۴) عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَقَدْ ذَکَّرَنَا عَلِیُّ ابْنُ أَبِیْ طَالِبٍ صَلاَۃً کُنَّا نُصَلِّیْہَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِمَّا نَسِیْنَاھَا وَإِمَّا تَرَکْنَاھَا عَمَدًا یُکَبِّرُ کُلَّمَا رَکَعَ وَکُلَّمَا رَفَعَ وَکُلَّمَا سَجَدَ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدناعلی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تو ہمیں وہ نماز یاد کرا دی ہے، جو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، یا تو ہم اسے بھول گئے ہیں یا جان بوجھ کر اسے چھوڑ دیا ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب رکوع کرتے،(رکوع سے) اٹھتے اور سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔

1675

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1675

Sahih

۔ (۱۶۷۵) عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّیْرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ صَلاَۃً ذَکَّرَنِیْ صَلاَۃً صَلَّیْتُہَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْخَلِیْفَتَیْنِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَصَلَّیْتُ مَعَہُ فَإِذَا ھُوَ یُکَبِّرُ کُلَّمَا سَجَدَ وَکُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ، فَقُلْتُ: یَا أَبَا نُجَیْدٍ مَنْ أَوَّلُ مَنْ تَرَکَہُ؟ قَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حِیْنَ کَبُرَ وَضَعُفَ صَوْتُہُ تَرَکَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اقتدا میں ایک نماز پڑھی، انہوں نے تو مجھے وہ نماز یاد دلا دی، جسے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور دو خلیفوں کے ساتھ پڑھا تھا۔ مطرف کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں چلا گیا اور ان کے ساتھ نماز پڑھی، (میں نے دیکھا کہ) جب وہ سجدہ کرتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر میں نے پوچھا: اے ابو نجید! سب سے پہلے کس نے اس طریقے کو ترک کیا؟ انھوں نے کہا: جب سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بوڑھے ہوئے اور ان کی آواز کمزور ہو گئی تو انھوں نے اس کو ترک کر دیا تھا۔

1676

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1676

Zaeef

۔ (۱۶۷۶) عَنَ شُعْبَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ رَجُلٌ کَانَ بِوَاسِطٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزٰییُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہُ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ لَایُتِمُّ التَّکْبِیْرَ،یَعْنِیْ إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ۔ (مسند احمد: ۱۵۴۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد الرحمن بن ابزی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،آپ تکبیر نہیں کہتے تھے، یعنی جب جھکتے اور اٹھتے تھے۔