Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 28 · Chapter 296

رکوع و سجود اور ان کے متعلقات کے ابواب

رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان

5 hadiths in this chapter

1677

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1677

Sahih

۔ (۱۶۷۷) عَنِ ابْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالْأَ سْوَدِ أَنَّہُمَا کَانَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَتَأَخَّرَ عَلْقَمَۃُ وَالْأَسْوَدُ فَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِأَیْدِیْہِمَا فَأَقَامَ أَحَدَھُمَا عَنْ یَمِیْنِہِ وَالْآخَرَ عَنْ یَسَارِہِ ثُمَّ رَکَعَا فَوَضَعَا أَیْدِیَہُمَا عَلٰی رُکَبِہِمَا فَضَرَبَ أَیْدِیَہُمَا ثُمَّ طَبَّقَ بَیْنَیَدَیْہِ وَشَبَّکَ وَجَعَلَہُمَا بَیْنَ فَخِذَیْہِ وَقاَلَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَہُ۔ (مسند احمد: ۳۹۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابن اسودبیان کرتے ہیں: علقمہ اور اسود دونوں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ تھے، ایک نمازکا وقت ہو گیا، علقمہ اور اسود پیچھے (ہوکر اور صف بنا کر کھڑے) ہوگئے، لیکن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ایک کو دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کر دیا، پھر ان دونوں نے رکوع کیا اور (سنت کے مطابق) اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، لیکن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے ہاتھوں پر مارا اور پھر اپنے ہاتھوں کے درمیان تطبیق اور تشبیک ڈال کر انہیں اپنی رانوں کے درمیان کرلیا اور کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا تھا۔

1678

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1678

Sahih

۔ (۱۶۷۸) عَنِ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (بْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) قَالَ: إِذَا رَکَعَ أَحَدُ کُمْ فَلْیَفْرُشْ ذِرَاعَیْہِ فَخِذَیْہِ وَلْیَحْنَأْ ثُمَّ طَبَّقَ بَیْنَ کَفَّیْہِ، فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی اخْتِلاَفِ أَصَابِعِ رَسُوْلِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ثُمَّ طَبَّقَ بَیْنَ کَفَّیْہِ فَأَرَاھُمْ۔ (مسند احمد: ۳۵۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

اسود اور علقمہ دونوں سے مروی ہے کہ: سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو وہ اپنے بازؤں کو اپنی رانوں پر بچھائے اور کمر کو جھکا لے، پھر انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق ڈالی اور کہا: گویا میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے میں داخل ہیں، پھر انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق ڈال کر انہیں دکھایا۔

1679

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1679

Sahih

۔ (۱۶۷۹) عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (بْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ) قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصَّلاَۃَ فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ رَکَعَ وَطَبَّقَ بَیْنَیَدَیْہِ وَجَعَلَہُمَا بَیْنَ رُکْبَتَیْہِ، فَبَلَغَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِیْ، قَدْ کُنَّا نَفْعَلُ ذٰلِکَ ثُمَّ أُمِرْنَا بِہٰذَا وَأَخَذَ بِرُکْبَتَیْہِ۔ (مسند احمد: ۳۹۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

علقمہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، پھر رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کے درمیان تطبیق ڈال کر انہیں اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ جب اس بات کا سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو علم ہوا تو انھوں نے کہا: میرے بھائی (ابن مسعود) نے سچ کہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ایسا کیا کرتے تھے،پھر ہمیں اس چیز کا حکم دے دیا گیا تھا، پھر انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے اپنے گھٹنے پکڑے۔

1680

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1680

Sahih

۔ (۱۶۸۰) عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ (بِنْ أَبِیْ وَقَّاصٍ) قَالَ: کُنْتُ إِذَا رَکَعْتُ وَضَعْتُ یَدَیَّ بَیْنَ رُکْبَتَیَّ۔ قَالَ: فَرَآنِیْ سَعْدُ بِنُ مَالِکٍ فَنَہَانِیْ وَقَالَ: إِنَّا کُنَّا نَفْعَلُہُ فَنُہِیْنَا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

مصعب بن سعد کہتے ہیں: میں جب رکوع کرتا تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیتا، جب سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے دیکھا تو انھوں نے کہا:: ہم بھی ایسا کیا کرتے تھے، لیکن پھر ہمیں اس سے منع کردیا گیا تھا۔

1681

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1681

Sahih

۔ (۱۶۸۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلاَۃِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : خَلِّلْ أَصَابِعَ یَدَیْکَ وَرِجْلَیْکَ،یَعْنِی إِسْبَاغَ الْوُضُوْئِ، وَکَانَ فِیْمَا قَالَ لَہُ،: إِذَا رَکَعْتَ فَضَعْ کَفَّیْکَ عَلٰی رُکْبَتَیْکَ حَتّٰی تَطْمَئِنَّ ( وَفِی رِوَایَۃٍ حَتّٰی تَطْمَئِنَّا) وَإِذَا سَجَدْتَّ فَأَمْکِنْ جَبْہَتَکَ مِنَ الْأَرْضِ حَتّٰی تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نماز سے متعلقہ کسی امر کا سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کر۔ یعنی اچھی طرح وضو کیا کر، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا تھا: جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ حتی کہ وہ اپنی جگہ پر مطمئن ہو جائیں، پھر جب تو سجدہ کرے تو اپنے ماتھے کو زمین پر جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔