Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 294

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے

4 hadiths in this chapter

1659

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1659

Sahih

۔ (۱۶۵۹) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَقْرَأَ الْقُرآنَ رَطْبًا (وَفِی رِوَایَۃٍ غَضًّا) کَمَا أُنْزِلَ فَلْیَقْرَأْہُ عَلٰی قِرَائَ ۃِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ قرآن کو اس طرح تروتازہ پڑھے، جس طرح یہ نازل ہوا تو وہ وہ ام عبد کے بیٹے کی قراءت پر تلاوت کیا کرے۔

1660

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1660

Sahih

۔ (۱۶۶۰) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِیْ شُعْبَۃُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَۃَیُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأُبَّیِّ بْنِ کَعْبِ، قَالَ حَجَّاجٌ: حِیْنَ أُنْزِلَ {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} وَقاَلاَ جَمِیْعًا: إِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ أَمَرَنِیْ أَنْ أَقْرَأَ عَلَیْکَ {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا} قَالَ: وَقَدْ سَمَّانِیْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَبَکٰی۔ (مسند احمد: ۱۳۹۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} یعنی سورۂ بینہ نازل ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر اس سورت {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} کی تلاوت کروں۔ انھوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پس وہ رونے لگ گئے۔

1661

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1661

Sahih

۔ (۱۶۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْیَعْلٰی ثَنَا الْأَ عْمَشُ عَنْ أَبِیْ وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوْقٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو فَذَکَرَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ ذَاکَ الرَّجُلَ لاَ أَزَالُ أُحِبُّہُ أَبَدًا، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((خُذُوْا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَۃٍ عَنِ ابْنِ أَمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِہِ، وَعَنْ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلٰی أَبِیْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ یَعْلٰی وَنَسِیْتُ الرَّابِعَ۔ (مسند احمد: ۶۵۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو نے سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ کیا اور پھر کہا: یہ ایسا آدمی ہے، جس سے میں ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا، (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: چار آدمیوں سے قرآن کی تعلیم حاصل کرو:ام عبد کے بیٹے، معاذ اور مولائے ابی حذیفہ سالم سے۔ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے اِن کا ذکر کیا۔ یعلی راوی کہتے ہیں: میں چوتھے شخص کا نام بھول گیا۔

1662

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1662

Sahih

۔ (۱۶۶۲) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ یُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوعَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِسْتَـقْرِئُ وْا الْقُرْآنَ مِنْ أَرَبَعَۃٍ: مِنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلٰی أَبِیْ حُذَیْفَۃَ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأَبِیِّ بْنِ کَعْبٍ۔)) (مسند احمد: ۶۷۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار آدمیوں سے قرآن مجید پڑھو: عبد اللہ بن مسعود، مولائے ابی حذیفہ سالم، معاذ بن جبل اور اُبی بن کعب سے۔