Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 289

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

مغرب میں قراء ت کا بیان

7 hadiths in this chapter

1626

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1626

Sahih

۔ (۱۶۲۶) حَدَّثَناَ عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَہْزٌ قَالاَ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاھِیْمَ قَالَ سَمِعْتُ بَعْضَ إِخْوَتِیِْیُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْ عَنْ جُبَیْرِ ابْنِ مُطْعِمٍ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی فِدَائِ الْمُشْرِکِیْنَ قَالَ بَہْزٌ فِی فِدَائِ أَھْلِ بَدْرٍ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرِ وَمَا أَسْلَمَ یَوْمَئِذٍ، قَالَ فَانْتَہَیْتُ إِلَیْہِ وَھُوَ یُصَلِّی الْمَغْرِبَ وَھُوَ یَقْرَأُ فِیْہَا بِالطُّوْرِ قَالَ فَکَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِیْ حَیْثُ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ، وَقَالَ بَہْزٌ فِی حَدِیْثِہِ فَکَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِیْ حِیْنَ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بدر والے (قیدی) مشرکوں کے سلسلے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، اس وقت وہ مسلمان نہیں تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا توآپ نمازِ مغرب پڑھا رہے تھے اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے، یہ قرآن سن کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا دل پھٹنے لگا ہے۔

1627

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1627

Sahih

۔ (۱۶۲۷) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْن جَعَفْرٍ ثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِیْ مُلَیْکَۃَ أَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ مَرْوَانَ أَخْبَرَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَاِبتٍ قَالَ لَہُ: مَالِیْ أَرَاکَ تَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ، قَدْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِیْہَا بِطُولَی الطُّولَیَیْنِ، قَالَ ابْنُ أَبِیْ مُلْیَکَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قُلْتُ لِعُرْوَۃَ) مَاطُولَی الطُّوْلَیَیْنِ قَالَ الْأَعْرَافُ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مروان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھے نماز مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتوں کی تلاوت کرتے ہوئے ہی سنتا ہوں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت پڑھتے تھے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: میں نے عروہ سے کہا: دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ سورۂ اعراف ہے۔

1628

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1628

Sahih

۔ (۱۶۲۸) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا وَکِیْعٌ ثَنَا ھِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ أَوْ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأَ فِی الْمَغْرِبِ بِالْأَعْرَافِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ایوب یا سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مغرب کی دو رکعتوں میں سورۂ اعراف کی تلاوت کی۔

1629

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1629

Sahih

۔ (۱۶۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْہُ وَھُوَ یَقْرَأُ {وَالْمَرْسَلاَتِ عُرْفًا} فَقَالَتْ: یَابُنَيَّ لَقَدْ ذَکَّرْتَنِی بِقِرَائَ تِکَ ھٰذِہِ السُّوَرَۃَ، إِنَّہَا لَآخِرُ مَاسَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ بِہَا فِی الْمَغْرِبِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام فضل بنت حار ث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے سورۂ مرسلات کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو نے یہ سورت پڑھ کر مجھے(یہ بات) یاد کرادی ہے کہ یہ آخری سورت ہے، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے سنا تھا۔

1630

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1630

Sahih

۔ (۱۶۳۰) عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ: صَلّٰی بَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بَیْتِہٖ مُتَوَشِّحًا فِیْ ثَوْبٍ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ، مَا صَلّٰی بَعْدَھَا حَتّٰی قُبِضَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام فضل بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹ کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورۂ مرسلات کی تلاوت کی، اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی، حتی کہ فوت ہو گئے۔

1631

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1631

Zaeef

۔ (۱۶۳۱) عَنْ حَنْظَلَۃَ السُّدُوْسِّیِّ قَالَ: قُلْتُ لِعِکْرِمَۃَ: إِنِّیْ أَقْرَأُ فِیْ صَلاَۃِ الْمَغْرِبِ بِـ {قُلْ أَعُوذُبِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُبِرَبِّ النَّاسِ}، وَإِنَّ نَاسًا یَعِیْبُوْنَ ذٰلِکَ عَلَیَّ؟ فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذٰلِکَ، اِقْرَأْھُمَا فَإِنَّہُمَا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِیْ ابْنُ عَبَّاسِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ لَمْ یَقْرَأْ فِیِْہِمَا إِلاَّ بِأُمِّ الْکِتَابِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

حنظلہ سدوسی کہتے ہیں: میں نے عکرمہ سے کہا کہ میں مغرب کی نماز میں سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت کرتا ہوں، لیکن لوگ مجھ پر اس کا عیب لگاتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، تو ان کو پڑھ سکتا ہے، کیونکہ یہ قرآن سے ہیں۔مجھے تو سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ حدیث بھی بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں صرف سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی۔

1632

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1632

Sahih

۔ (۱۶۳۲) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ أَبُوْ عِمْرَانَ أَنَّہُ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ یَقُوْلُ: تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَقْرِئْنِیْ سُوْرَۃَ ھُودٍ وَسُورَۃَیُوسُفَ۔ فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَاعُقْبَۃُ بْنَ عَامِرٍ! لَمْ تُقْرَأْ سُوْرَۃٌ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَ وَلاَ أَبْلَغُ عِنْدَہُ مِنْ {قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} قَالَ یَزِیْدُ لَمْ یَکُنْ أَبُوْ عِمْرَانَ یَدَعُہَا، وَکَانَ لاَ یَزَالُیَقْرَأُھَا فِیْ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہے: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قدم کے ساتھ چمٹ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہود اور سورۂ یوسف پڑھا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے عتبہ بن عامر!کوئی ایسی سورت نہیں پڑھی گئی جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند اور سب سے زیادہ بلیغ ہو، ما سوائے سورۂ فلق کے۔ (یہ حدیث سننے کے بعد) ابو عمران اس سورت کو نہیں چھوڑتے تھے اور ہمیشہ نماز مغرب میں پڑھتے تھے۔