Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 288

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان

11 hadiths in this chapter

1615

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1615

Sahih

۔ (۱۶۱۵) عَنْ أَبِیْ مَعْمَرٍ قَالَ قُلْنَا لَخَبَّابٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِی الظُّھْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقُلْنَا بِأَیِّ شَیْئٍ کُنْتُمْ تَعَرِفُوْنَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: فَقَالَ: بِاضْطِرَ ابِ لِحْیَتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو معمر کہتے ہیں: ہم نے سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر و عصر میں قراءت کرتے تھے ؟ انہوں فرمایا: جی ہاں۔ ہم نے کہا: تم اس کو کیسے پہچانتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی کے حرکت کرنے سے۔

1616

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1616

Sahih

۔ (۱۶۱۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَفِتْیَۃٌ مِنْ قُرَیْشٍ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فََسَأَلُوْہٗھَلْکَانَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: لاَ، فَقَالُوْا: فَلَعَلَّہُ کَانَ یَقْرَأُ فِیْ نَفْسِہِ؟ قَالَ: خَمْشًا، ھٰذِہِ شَرٌّ۔ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ عَبْدًا مَأُمُوْرًا بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِہِ، وَإِنَّہُ لَمْ یَخُصَّنَا دُوْنَ النَّاسِ إِلاَّ بِثَلَاثٍ أَمَرَناَ أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوئَ وَلاَ نَأْکُلَ الصَّدَقَۃَ وَلَا نُنْزِیَ حِمَارًا عَلٰی فَرَسٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد اللہ بن عبید اللہ بن عباس کہتے ہیں: میں اور کچھ قریشی نوجوان سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور یہ سوال کیا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر و عصر میں قراءت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ وہ کہنے لگے: شاید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے دل میں پڑھتے ہوں۔انہوں نے کہا:تمہارا چہرہ چھل جائے، یہ تو اس سے بھی بری بات ہے، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مامور بندے تھے، جو چیز دے کر بھیجے گئے وہ آپ نے پہنچا دی ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں لوگوں میں سے کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا، ماسوائے اِن تین چیزوں کے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اچھی طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور (خچر پیدا کرنے کے لیے) گدھے کو گھوڑی پر نہ چڑھائیں۔

1617

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1617

Sahih

۔ (۱۶۱۷) عَنْ عِکْرَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَرَأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَلَوَاتٍ وَسَکَتَ فَنَقْرَأُ فِیْمَا قَرَأَ فِیْہِنَّ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَسْکُتُ فِیْمَا سَکَتَ، فَقِیْلَ لَہُ: فَلَعَلَّہُ کَانَ یَقْرَأُ فِی نَفْسِہِ، فَغَضِبَ مِنْہَا وَقَالَ: أَیُتَّہَمُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَتَتَّہِمُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟) (مسند احمد: ۱۸۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بعض نمازوں میں قراءت کرتے اور بعض میں خاموش رہتے، اس لیے ہم ان نمازوں میں قراءت کرتے ہیں، جن میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کی اور ان میں خاموش رہتے ہیں، جن میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے۔ کسی نے ان سے کہا: شاید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دل میں پڑھتے ہوں، لیکن وہ غصہ میں آگئے اور کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر تہمت لگائی جا رہی ہے؟

1618

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1618

Sahih

۔ (۱۶۱۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّۃَ کُلَّھَا غَیْرَ أَنِّیْ لَا أَدْرِیْ أَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا؟ (زَادَفِی رِوَایَۃٍ وَلٰکِنَّا نَقْرَأُ) وَلَا أَدْرِی کَیْفَ کَانَ یَقْرَأُ ھٰذَا الْحَرْفَ {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْکِبَرِ عِتِیًّا أَوْ عُسِیًّا۔} (مسند احمد: ۲۲۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے ساری سنتیں یاد کی ہیں، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ آیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر و عصر کی نمازوں میں قراءت کرتے تھے یا نہیں؟ بہرحال ہم تو قراءت کرتے ہیں، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے تھے: {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْکِبَرِ عِتِیًّایا عُسِیًّا۔}

1619

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1619

Sahih

۔ (۱۶۱۹) عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: تَمَارَوْا فِی الْقِرَائَ ۃِ فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ فَأَرْسَلُوْا إِلَی خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ، فَقَالَ: قَالَ أَبِیْ: قَامَ أَوْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُطِیْلُ الْقِیَامَ وَیُحَرِّکُ شَفَتَیْہِ، فَقَدْ أَعْلَمُ ذٰلِکَ لَمْ یَکُنْ إِلاَّ لِقِرَائَ ۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

مطلب بن عبد اللہ کہتے ہیں: ظہر اور عصر میں قراءت کے بارے میں لوگوں میں بحث ہونے لگی، انھوں نے (فیصلہ کروانے کے لیے) خارجہ بن زید کی طرف پیغام بھیجا، اس نے کہا: میرے باپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لمبا قیام کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے، میں جانتا ہوں کہ یہ حرکت صرف قراءت کرنے کے لیے ہی ہوتی تھی۔

1620

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1620

Sahih

۔ (۱۶۲۰) عَنْ أَبِی الْأَ حْوَصِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَتْ تُعْرَفُ قِرَائَ ۃُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الظُّہْرِ بِتَحْرِیْکَ لِحْیَتِہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتا ہے کہ: ظہر کی نماز میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قراءت آپ کی داڑھی کی حرکت سے پہنچانی جاتی تھی۔

1621

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1621

Sahih

۔ (۱۶۲۱) عَنْ أَبِیْ سَعْیِدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ کُنَّا نَحْزِرُ قِیَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ فَحَزَرْنَا قِیَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الظُّہْرِ الَّرکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ قَدْرَ قِرَائَ ۃِ ثَـلَاثِیْنَ آیَۃً قَدْرَ قِرَائَ ۃِ سُورَۃِ {الٓم تَنْزِیْلُ} السَّجْدَۃ، قَالَ وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الْأُخْرَیَیْنِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذٰلِکَ قَالَ وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الْعَصْرِفِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذٰلِکَ قَالَ وَحَزَرْنَا قِیَامَہُ فِی الْأُخْرَیَیْنِ عَلَی النِّصْفِ مِنَ الْأُوْلَیَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۰۹۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے، تو ہم نے ظہرکی پہلی دو رکعتوں میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام کا تیس آیتیں یعنی سورۂ سجدہ کے پڑھنے کے برابر اندازہ لگایا اور ہم نے آپ کے قیام کا دوسری دو رکعتوں میں اس کے نصف کااندازہ لگایا ،ہم نے عصر میں پہلی دو رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ (ظہر کی پہلی دو رکعتوں) کے نصف کے برابر لگایا۔ اور دوسری دو رکعتوں میں پہلی دو کے نصف کا اندازہ لگایا۔؎

1622

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1622

Sahih

۔ (۱۶۲۲) عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: حَدَّثَنِیْ قَزْعَۃُ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا سَعِیْدٍ وَھُوَ مَکْثُوْرٌ عَلَیْہِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْہُ قُلْتُ إِنِّیْ لَا أَسْأَلُکَ عَمَّا یَسْأَلُکَ ھٰؤُلَائِ عَنْہُ، قُلْتُ أَسْأَلُکَ عَنْ صَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: مَالَکَ فِیْ ذٰلِکَ مِنْ خَیْرٍ فَأَعَادَھَا عَلَیْہِ، فَقَالَ: کَانَتْ صَلَاۃُ الظُّہْرِ تُقَامُ فَیَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَی الْبَقِیْعِ فَیَقْضِیْ حَاجَتَہُ ثُمَّ یَأَتِی أَھْلَہُ فَیَتَوَضَّأُ ثُمَّ یَرْجِعُ إِلیَ الْمَسْجِدِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فیِ الرَّ کْعَۃِ الْأُوْلٰی۔ (مسند احمد: ۱۱۳۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

قزعہ کہتے ہیں: میں سیدنا أبو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، ان کے پاس بہت لوگ آئے ہوئے تھے، جب وہ ان سے علیحدہ ہو ئے تو میں نے کہا: جس چیز کے بارے میں یہ لوگ سوال کر رہے تھے، میں اس کے بارے میں پوچھنے کے لیے نہیں آیا، میں تو آپ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں، انھوں نے کہا: اس میں تو تیرے لیے کوئی خیر نہیں ہے۔لیکن جب میں نے اپنی بات کو دوہرایا تو انھوں نے کہا: ظہر کی نماز کھڑی کر دی جاتی، ہم میں سے ایک آدمی بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، پھر مسجد کی طرف آتا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی تک پہلی رکعت میں ہوتے۔

1623

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1623

Zaeef

۔ (۱۶۲۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ أَبِیْ أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْمُ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی مِنْ صَلَاۃِ الظُّہْرِ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ وَقْعَ قَدَمٍ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں قیام جاری رکھتے، حتی کہ کسی (داخل ہونے والے کے) قدم کی آواز نہ سنتے۔

1624

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1624

Sahih

۔ (۱۶۲۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فیِ الظُّہْرِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَ عْلٰی} وَنَحْوِ ھَا، وَفِی الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کی نماز میں سورۂ اعلی اور اس جیسی سورتوں کی اور نماز فجر میں اس سے لمبی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔

1625

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1625

Sahih

۔ (۱۶۲۵) عَنْ أَبِیْ الْعَالِیَۃِ قَالَ: اِجْتَمَعَ ثَـلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا أَمَّا مَا یَجْہَرُ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْقِرَائَ ۃِ فَقَدْ عَلِمْنَاہُ، وَمَا لَایَجْھَرُ فِیْہِ فَلاَ نَقِیْسُ بِمَا یَجْہَرُ بِہِ ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْہُمْ اثْنَانِ أَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقْرأُ فِیْ صَلَاۃِ الظُّہْرِ قَدْرَ ثَلاَثِیْنَ آیَۃً فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِفِی کُلِّ رَکْعَۃٍ، وَفِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُخْرَیَیْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ، وَیَقْرَأُ فِی الْعَصْرِ فِی الْأُوْلَیَیْنِ بِقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَائَ تِہِ فِی الرَّ کْعَتَیْنِ الْأُ وَلَیَیْنِ مِنَ الظُّہْرِ، وَفِی الْأُخْرَیَیْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو العالیہ کہتے ہیں: تیس صحابہ جمع ہوئے اور انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (جن نمازوں) میں بلند آواز سے قراءت کرتے تھے، اس کو تو ہم جانتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (جن نمازوں میں) جہری قراءت نہیں کرتے تھے، اب ان کو جہر والی نمازوں پر قیاس تو نہیں کرتے۔ پھر وہ اس امر پر متفق ہو گئے اور ان میں کوئی دو بھی اختلاف کرنے والے نہیں تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز ظہرکی پہلی دو رکعتوں میں تیس تیس آیتوں کے بقدر اور دوسری دو رکعتوں میں اس سے نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے، اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر اور اس کی آخری دو رکعتوں میں اس سے بھی نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے۔