Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 287

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان

5 hadiths in this chapter

1610

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1610

Sahih

۔ (۱۶۱۰) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَارَأَیْتُ رَجُلاً (وَفِی رِوَایَۃٍ مَاصَلَّیْتُ وَرَائَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) أَشْبَہَ صَلاَۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ فُلَانٍ، الإِْمَامِ کَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ: فَصَلَّیْتُ خَلْفَہُ فَکَانَ یُطِیْلُ الْأُوْلَیَیْنِ (وَفیِ رِوَایَۃٍ: الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ) مِنَ الظُّہْرِ وَیُخَفِّفُ الْأُخْرَیَیْنِ وَیُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَیَقْرَأُ فِی الْأُوْلَیَیْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفْصَّلِ، وَیَقَرَأُ فِی الْأُوْلَیَیْنِ مِنَ الْعِشَائِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَیَقْرَأُ فِی الْغَدَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِی الصُّبْحِ) بِطِوَالِ الْمُفْصَّلِ، قَالَ الضَّحَّاکُ وَحَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ مَارَأَیْتُ أَحَدًا أَشْبَہَ صَلَاۃً بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا الْفَتٰییَعْنِیْ عُمَرَبْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ، قَالَ الضَّحَّاکُ فَصَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَکَانَ یَصْنَعُ مِثْلَ مَاقَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ۔ (مسند احمد: ۸۳۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی، جس کی نماز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو، یہ آدمی مدینہ میں امام تھا۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: (یہ سن کر) جب میں نے اس کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھاکہ وہ ظہر کی پہلی دودو رکعتوں کو لمبا اور دوسری دو کو ہلکا کرتا تھا اور مغرب کی پہلی دو میں قصار مفصل کی، عشاء کی پہلی دو میں وسط مفصل کی اور صبح کی نماز میں طوال مفصل کی تلاوت کرتا تھا۔ ضحاک کہتے ہیں: مجھے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سننے والے ایک آدمی نے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبد العزیز کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا کہ جس کی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو۔ ضحاک کہتے ہیں: پھر میں نے عمر بن عبد العزیز کے پیچھے نماز پڑھی، پھر انھوں نے سلیمان بن یسارکی طرح کاہی طریقہ بیان کیا۔

1611

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1611

Sahih

۔ (۱۶۱۱) عَنْ جَابِرٍ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُفِی الظُّھْرِ {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشٰی} وَفِی الْعَصْرِ نَحْوَذَلِکَ، وَفِی الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر میں سورۂ لیل، عصر میں بھی اسی طرح کی سورتیں اور فجر میں اس سے لمبی قراءت کرتے تھے۔

1612

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1612

Sahih

۔ (۱۶۱۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَؤْمُّنَایَقْرَأُ بِنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ مِنْ صَلاَۃِ الظُّہْرِ وَیُسْمِعُنَا الْآیَۃَ أَحْیَانًا، وَیُطَوِّلُ فِی الْأُوْلٰی، وَیُقَصِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ، وَکَانَ یَفْعَلُ ذٰلِکَ فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ یُطَوِّلُ الْأُوْلٰی وَیُقَصِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ وَکَانَ یَقْرَأُ بِنَا فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُ وْلَیَیْنِ مِنْ صَلاَۃِ الْعَصْرِ۔ (مسند احمد: ۲۲۸۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے اور پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرتے اور کبھی کبھار (کوئی) آیت بھی سنا دیتے، (اس نماز کی) پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری کو مختصر اور صبح کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے، یعنی پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری کو مختصر اور نمازِ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی (سورۂ فاتحہ کے ساتھ کسی اور سورت) کی تلاوت کرتے تھے۔

1613

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1613

Sahih

۔ (۱۶۱۳) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُلُّ صَلاَۃٍیُقْرَأُ فِیْہَا فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ أَسْمَعْنَاکُمْ، وَمَا أَخْفٰی عَلَیْنَا أَخْفَیْنَا عَلَیْکُمْ۔ (مسند احمد: ۸۵۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہر نماز میں قراءت کی جاتی ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو ہمیں سناتے تھے، ہم بھی تمہیں سنا دیتے ہیں اور جو ہم سے مخفی رکھتے، ہم بھی تم سے مخفی رکھتے ہے۔ یعنی: ہم جہری یا سرّی قراءت کرنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عمل کے پابند ہیں۔

1614

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1614

Sahih

۔ (۱۶۱۴) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَؤُمُّنَا فِی الصَّلاَۃِ فَیَجْھَرُ وَیُخَافِتُ، فَجَہَرْنَا فِیْمَا جَہَرَ فِیْہِ، وَخَافَتْنَا فِیْمَا خَافَتَ فِیْہِ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((لاَ صَلاَۃَ إِلاَّ بِقِرَائَ ۃٍ۔)) (مسند احمد: ۸۰۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز میں ہماری امامت کراتے تھے، جس میں آپ جہر کرتے، ہم بھی جہر کرتے ہیں اور جس میں سرّی تلاوت کرتے، ہم بھی سری کرتے ہیں، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کوئی نماز نہیں ہے، مگر قراءت کے ساتھ۔