Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 286

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

1603

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1603

Sahih

۔ (۱۶۰۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : ھَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجَمْعُ بَیْنَ السُّوَرِ فِیْ رَکْعَۃٍ قَالَتْ: الْمُفَصَّلَ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک رکعت میں زیادہ سورتوں کو جمع کر لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: مفصل (سورتوں کو جمع کر لیتے تھے)۔

1604

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1604

Sahih

۔ (۱۶۰۴) عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رُبَّمَا أَمَّنَا ابْنُ عُمَرَ بِالسُّورَتَیْنِ وَالثَّلَاثِ فِی الْفَرِیْضَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۶۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

نافع کہتے ہیں: بسا اوقات سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فرض نماز میں ہماری امامت کرواتے ہوئے دو یا زائد سورتیں جمع کر لیتے تھے۔

1605

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1605

Sahih

۔ (۱۶۰۵) عَنْ نَہِیْکِ بْنِ سِنَانٍ السَّلَمِیِّ أَنَّہُ أَتٰی عَبْدَاللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الَّلیْلَۃَ فِی رَکْعَۃٍ، فَقَالَ: ھَذًّا مِثْلَ ھَذِّ الشِّعْرِ أَوْنَثْرًا مِثْلَ نَثْرِ الدَّقَلِ، إِنَّمَا فُصِّلَ لِتُفَصِّلُوا، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقْرِنُ عِشْرِ یْنَ سُورَۃً، الرَّحْمٰنَ وَالنَّجْمَ عَلٰی تَأْلِیْفِ ابْنِ مَسْعُودٍ کُلَّ سُورَتَیْنِ فِی رَکْعَۃِ، وَذَکَرَ الدُّخَانَ وَعَمَّ یَتَسَائَ لُونَ فِی رَکْعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۳۹۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

نہیک بن سنان سلمی کہتے ہیں: میں سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: شعروں کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ قرآن کو تو اس لیے مفصل بیان کیا گیا کہ تم بھی اس کے الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ یقینا میں اُن ملتی جلتی بیس سورتوں کو جانتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جن کو ملا کر پڑھتے تھے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف کے مطابق سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں، پھر سورۂ دخان اور سورۂ {عَمَّ یَتَسَاءَ لُونَ} کا ایک رکعت میں پڑھنے کا ذکر کیا۔

1606

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1606

Sahih

۔ (۱۶۰۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثاَنٍ) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْأَ سْوَدِ بِنْ یَزِیْدَ وَعَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ)) أَنَّ رَجُلاً أَتَاہُ فَقَالَ: قَرَأَتُ الْمُفَصَّلَ فِی رَکْعَۃٍ، فَقَالَ: بَلْ ھَذَذْتَ کَہَذِّ الشِّعْرِ أَوْ کَنَثْرِ الدَّقَلِ، لٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَفْعَلْ کَمَا فَعَلْتَ، کَانَ یَقْرَ أُ النُّظُرَ الرَّحْمٰنَ وَالنَّجْمَ فِی رَکْعَۃٍ، قَالَ فَذَکَرَ أَبُوْ إِسْحَاقَ عَشْرَ رَکَعَاتٍ بِعِشْرِیْنَ سُورَۃً عَلٰی تَأْلِیْفِ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ) آخِرُ ھُنَّ إِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَالدُّخَانُ ۔ (مسند احمد: ۳۹۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: تو نے تو پھرشعر کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح تلاوت نہیں کرتے تھے، جیسے تونے کی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو ملتی جلتی سورتوں (میں سے دو دو) کو ایک رکعت میں پڑھتے تھے، مثلا سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں۔ پھر ابو اسحاق نے بیس سورتوں کے ساتھ دس رکعتوں کا ذکر کیا،یہ ترتیب سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف کے مطابق تھی، آخری سورتیں سورۂ تکویر اور سورۂ دخان تھیں۔

1607

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1607

Sahih

۔ (۱۶۰۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَأُ فِیْ رَکْعَتَیْہِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِفَاتِحَۃِ الْقُرْآنِ وَالْآیَتَیْنِ مِنْ خَاتِمَۃِ الْبَقَرَۃِ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی، وَفِی الرَّکْعَۃِ الْآخِرَۃِ بِفَاتِحَۃِ الْقُرْآنِ وَبِالْآیَۃِ مِنْ سُوْرَۃِ آلِ عِمْرَانَ {قُلْ یٰأَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ} حَتّٰییَخْتِمَ الآیَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فجر سے پہلے والی سنتوں کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کے آخر سے دو آیتیں اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ آل عمران کی اس آیت {قُلْ یأَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ… …} کی تلاوت کرتے تھے۔

1608

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1608

Zaeef

۔ (۱۶۰۸) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیُحِبُّ أَحَدُ کُمْ إِذَا رَجَعَ إِلٰی أَھْلِہِ أَنْ یَجِدَ ثَلاَثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟)) قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ((فَثَلاَثُ آیَاتٍیَقْرأُ بِہِنَّ فِی الصَّلاَۃِ خَیْرٌ لَہُ مِنْہُنَّ۔)) (مسند احمد: ۹۱۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ گھر لوٹے تو تین بڑی بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں پائے ؟ ہم نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین آیتیں جن کو وہ نماز میں تلاوت کر لے، اس کے لیے ان (تین اونٹنیوں) سے بہتر ہیں۔

1609

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1609

Sahih

۔ (۱۶۰۹) عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃً فَقَرَأَ بِآیَۃٍ حَتّٰی أَصْبَحَ یَرْکَعُ وِیَسْجُدُ بِہَا {إِنْ تُعَذِّ بْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکَیْمُ۔} فَلَمَّا أَصْبَحَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ماَزِلْتَ تَقْرَأُ ھٰذِہِ الْآیَۃَ حَتّٰی أَصْبَحْتَ تَرْکَعُ وَتَسْجُدُ بِہَا؟ قَالَ: ((إِنِّیْ سَأَلْتُ اللّٰہَ الشَّفَاعَۃَ لِأُمَّتِیْ فَأَعْطَا نِیْہَا، وَھِیَ نَائِلَۃٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ لِمَنْ لَایُشْرِکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت کے ساتھ رکوع وسجود کرتے رہے، (وہ آیت یہ ہے:) {إِنْ تُعَذِّ بْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکَیْمُ} جب صبح ہوئی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صبح تک ایک ہی آیت پڑھتے رہے اور اسی کے ساتھ رکوع و سجود کرتے رہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے سفارش کرنے کا سوال کیا ، جو اس نے مجھے عطا کر دیا اور اگر اللہ نے چاہا تو وہ ہر اس شخص کو حاصل ہو گی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔