Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 27 · Chapter 285

نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم

پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان

5 hadiths in this chapter

1598

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1598

Sahih

۔ (۱۵۹۸) عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ بِنَا فَیَقْرأُ فِی الظَّہْرِ وَالْعَصْرِفیِ الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوَلَیْنِ بِفَاتِحَۃِ لْکِتَابِ وَسُورَتَیْنِ وَیُسْمِعُنَا الْآیَۃَ أَحْیَانًا (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ وَیَقْرَأُفیِ الرَّکْعْتَیْن الْأُ خْرَیَیْنِ بِأُمِّ الْکِتَابِ) وَکَانَ یُطَوِّلُ فِی الرَّکْعِۃِ الْأُوْلٰی مِنَ الظُّہْرِ وَیُقَصِّرُ فِی الثَّانِیَۃِ وَکَذَافِی الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں نماز پڑھاتے اور ظہر و عصر میں پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور مزید دو سورتوں کی تلاوت کرتے اور بسا اوقات ہمیں کوئی آیت بھی سنا دیتے تھے، ایک روایت میں ہے: دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھتے اور ظہر کی پہلی رکعت میں (قراءت کو) لمبا کرتے اور دوسری میں مختصر کرتے اور نماز فجر میں بھی ایسے ہی کرتے۔

1599

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1599

Sahih

۔ (۱۵۹۹) عَنْ أَبِیْ سَعْیِدٍنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللَّہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْمُ فِی الظُّہْرِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْاُوْلَیَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ قَدْرَ قِرَائَ ۃِ ثَلَاثِیْنَ آیَۃً وَفِی الْأُخْرَیَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ قَدْرَ قِرَائَ ۃِ خَمْسَ عَشْرَۃَ آیۃً وَ کَانَ یَقُوْمُ فِی الْعَصْرِفیِ الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ قَدْرَ قِرَائَ ۃِ خَمْسَ عَشْرَۃ َآیَۃً، وَفِی الْأُخْرَیَیْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس تیس آیتوں کے اور دوسری دو رکعتوں میں پندرہ پندرہ آیتوں کے بقدر تلاوت کرتے اور نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ پندرہ آیتوں کے بقدر اور دوسری دو رکعتوں میں اس سے نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے۔

1600

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1600

Sahih

۔ (۱۶۰۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: أَمَرَنَا نَبِیُّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحۃِ الْکِتَابِ وَمَا تَیَسَّرَ۔ (مسند احمد: ۱۱۴۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہمارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا اور مزید جو آسان لگے۔

1601

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1601

Sahih

۔ (۱۶۰۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَکَا أَھْلُ الْکُوْفَۃِ سَعْدًا (یَعْنِی ابْنَ أَبِیْ وَقَّاصٍ) إِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالُوْا: لَا یُحْسِنُیُصَلِّیْ، قَالَ: فَسَأَلَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ إِنِّیْ أُصَلِّیْ بِہِمْ صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرْکُدُ فِی الْأُوَلَیَیْنِ، وَأَحْذِفُ فِیْ الْأُخْرَیَیْنِ، قَالَ: ذَالِکَ الظَّنُّ بِکَ یَا أَبَا إِسْحَاقَ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ اہل کوفہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس شکایت کی،انھوں نے کہا:یہ اچھے انداز میں نماز نہیں پڑھاتا۔ جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: میں تو انہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی طرح کی نماز پڑھاتا ہوں، پہلی دو رکعتوں میں لمبا قیام کرتا ہو اور دوسری دو میں مختصر کرتا ہوں۔سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: أبو اسحاق! تیرے بارے میرایہی خیال تھا۔

1602

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1602

Sahih

۔ (۱۶۰۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لِسَعْدٍ: شَکَاکَ النَّاُسُ فِی کلِّ شَیْئٍ حَتّٰی فِی الصَّلَاۃِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ مِنَ الْأُوْلَیَیْنِ وَأَحْذِفُ مِنَ الْأُْخْرَیَیْنِ وَلاَ آلُوْ مَا اقْتَدَیْتُ بِہِ مِنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ عُمَرُ: ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ أَوْظَنِّیْ بِکَ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: لوگوں نے ہر چیز کے متعلق تیری شکایت کی ہے،حتی کہ نماز کے متعلق بھی، (حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتاہوں اور دوسری دو کو مختصر اور میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی اقتدا کرنے میں کوئی کمی نہیں کرتا، یہ سن کر انھوں نے کہا: تیرے بارے میں میرایہی گمان تھا۔