Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 22 · Chapter 232

اذان اور اقامت کے ابواب

بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان

7 hadiths in this chapter

1258

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1258

Sahih

۔ (۱۲۵۸) عَنِ ابنِْ أََبِیْ صَعْصَعَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ لِیْ أَبُوْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ، وَکَانَ فِی حِجْرِہِ فَقَالَ لِیْ: یَابُنَیَّ! إِذَا أَذَّنْتَ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَیْسَ شَیْئٌ یَسْمَعُہُ إِلَّا شَھِدَ لَہُ، جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: یَابُنَیَّ! إِذَا کُنْتَ فِیْ الْبَرَارِیْ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالْأَذَانِ فَإِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَسْمَعُہُ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا حَجَرٌ وَلَاشَیْئٌیَسْمَعُہُ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو صعصعہ،جو کہ سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی پرورش میں تھے، کہتے ہیں: سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا:میرے پیارے بیٹے! جب تو اذان کہے تو بلند آواز سے اذان کہا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ہر چیز جو اس کو سنتی ہے وہ اس کے لیے گواہی دیتی ہے، وہ جن ہو یا انسان ہو یا پتھر ہو۔ اور ایک مرتبہ کہا: میرے بیٹے! جب تو خشکی (یعنی بے آباد علاقوں) میں ہو تو اذان کے لیے اپنی آواز کو اونچا کیا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کوئی جن، کوئی انسان، کوئی پتھر اور کوئی چیز اس کو نہیں سنتی مگر وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔

1259

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1259

Sahih

۔ (۱۲۵۹) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَا سَعِیْدٍ قَالَ لَہُ إِنِّیْ أَرَاکَ تُحِبُّ الَغَنْمَ وَالبَادِیَۃَ فَإِذَا کُنْتَ فِیْ غَنَمِکَ أَوْ بَادِیَتِکَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاۃِ فَارْفَعْ صَوْتَکَ بِالنِّدَائِ فَإِنَّہُ لَایَسْمَعُ مَدٰی صَوْتِ الْمُؤََذِّنِ جِنٌّ وَلَا شَیْئٌ إِلاَّ شَہِدَ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

اور انہی ابو صعصعہ سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ سیّدنا ابو سعید نے کہا: جب تو اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان کہے تو اذان میں اپنی آواز کو بلند کیا کر، کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن، انسان اور کوئی چیز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ میں نے یہ الفاظ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنے تھے۔

1260

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1260

Sahih

۔ (۱۲۶۰) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قاَلَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ أَدْبَرَ الشَّیْطَانُ وَلَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَا یَسْمَعَ التَّأْذِیْنَ فَإِذَا قُضِیَ التَّأْذِینُ أَقْبَلَ حَتّٰی إِذَا ثُوِّبَ بِہَا أَدْبَرَ حَتّٰی إِذَا قُضِیَ التَّثْوِیْبُ أَقْبَلَ حَتّٰییَخْطُرَ بَیْنَ الْمَرْئِ وَنَفْسِہِ فَیَقُوْلُ لَہُ: اُذْکُرْ کَذَا اُذْکُرْ کَذَا، لِمَا لَمْ یَکُنْیَذْکُرُ مِنْ قَبْلُ حَتّٰییَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ یَدْرِیْ کَمْ یُصَلِّیْ۔)) (مسند احمد: ۹۹۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا اتنی دور بھاگ جاتا ہے کہ اذان نہیں سنتا ، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو بھاگ جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور انسان اور اس کے نفس کے درمیان حائل ہو کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے ۔وہ (نمازی کو) کہتا ہے: تو فلاں کام یاد کر ، فلاں کام یاد کر، وہ کام جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتے(وہ یاد کراتا ہے)، نتیجتاً آدمی ایسی حالت میں ہو جاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے۔

1261

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1261

Sahih

۔ (۱۲۶۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ إِذَاسَمِعَ الشَّیْطَانُ الْمُنَادِیَیُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ وَلّٰی وَلَہُ ضُرَاطٌ حَتّٰی لَایَسْمَعَ الصَّوْتَ، فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ فَوَسَوْسَ فَإِذَا أَخَذَ فِی الإِقَامَۃِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ۔)) (مسند احمد: ۹۱۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

اور انہی سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب شیطان مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا اتنا دور چلا جاتا ہے کہ آواز نہ سن سکے، جب مؤذن فارغ ہو جاتا ہے تو وہ واپس آ کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر جب مؤذن اقامت کہنا شروع کرتا ہے تو شیطان اسی طرح کرتا ہے، (یعنی بھاگ جاتا ہے)۔

1262

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1262

Sahih

۔ (۱۲۶۲)عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قاَلَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا أَذَّنَ الْمُؤََذِّنُ ھَرَبَ الشَّیْطَانُ حَتّٰییَکُونَ بِالرَّ وْحَائِ۔)) وَھِیَ مِنَ الْمَدِیَنۃَ ثَـلَاثُونَ مِیلاً۔ (مسند احمد: ۱۴۴۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے، یہاں تک کہ روحاء مقام تک پہنچ جاتا ہے، اور یہ مقام مدینہ سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے۔

1263

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1263

Sahih

۔ (۱۲۶۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدُّعَائُ لَایُرَدُّ بَیْنَ الْأَذَانِ وَاْلإِقَامَۃِ۔))(مسند احمد: ۱۲۶۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان دعا ردّ نہیں کی جاتی۔

1264

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1264

Sahih

۔ (۱۲۶۴) عَنْ جَابِرِ بِنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاۃِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَائِ وَاسْتُجِیْبَ الدُّعَائُ ۔)) (مسند احمد: ۱۴۷۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہو جاتی ہے۔