Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 22 · Chapter 233

اذان اور اقامت کے ابواب

اذان کی ابتدا کا بیان اور عبد اللہ بن زید کا خواب اور فجر میں’ ’اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کی مشروعیت

6 hadiths in this chapter

1265

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1265

Sahih

۔ (۱۲۶۵) عَنْ نَافِع أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُوْلُ: کَانَ الْمُسْلِمُوْنَ حِیَنَ قَدِمُوا الْمَدِیْنَۃَیَجْتَمِعُوْنَ فَیَتَحَیَّنُوْنَ الصَّلَاۃَ وَلَیْسَیُنَادِیْ بِہَا أَحَدٌ، فَتَکَلَّمُوْا یَوْمًا فِیْ ذَالِکَ فَقَالَ بَعَضُہُمْ: اِتَّخِذُوْا نَاقُوْساً مِثْلَ نَاقُوْسِ النَّصَارٰی، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثلَ قَرْنَ الْیَہُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَاتَبْعَثُونَ رَجُلَا یُنَادِیْ بِالصَّلَاۃِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاۃِ۔))(مسند احمد: ۶۳۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب مسلمان مدینہ میں آئے تو نماز کے وقت کا اندازہ لگا کر اکٹھے ہوا کرتے تھے، کوئی نماز کے لیے اذان نہیں کہا کرتا تھا ۔ ایک دن لوگوں نے اس کے متعلق بات چیت کی، کسی نے یہ مشورہ دیا کہ عیسائیوں کی ناقوس جیسی ناقوس بنا لو اور بعض نے کہا کہ یہودیوں کے قرن جیسا قرن بنا لیتے ہیں، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے کہ تم لوگ (نماز کے وقت) ایک ایسے آدمی کو کیوں نہیں بھیج دیا کرتے جو نماز کے لیے اعلان کر دے گا۔ (یہ رائے پسندیدہ تھی اس لیے)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اعلان کرو۔

1266

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1266

Sahih

۔ (۱۲۶۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بِنْ زَیْدِ (بِنْ عَبْدِ رَبَّہِ) قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاقُوْسِ لِیُضْرَبَ بِہٖلِلنَّاسِفِی الْجَمْعِ للِصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ وَھُو کَارِہٌ لِمَوافَقَتِہِ النَّصَارٰی) طَافَ بِیْ وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ یَحْمِلُ نَاقُوْسًا فِیْیَدِہِ ِفَقُلْتُ لَہُ: یَاعَبْدَ اللّٰہِ! أَتَبِیْعُ النَّاقُوَسَ؟ قَالَ: مَاتَصْنَعُ بِہِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَدْعُوْا بِہِ إِلَی الصَّلَاۃَ، قَالَ: أَفَـلَا أَدُلُّکَ عَلٰی مَا ھُوَ خَیْرٌ مِنْ ذَالِکَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: بَلٰی، قَالَ: تَقُوْلُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ غَیْرَ بَعِیْدٍ، ثُمَّ قَالَ: تَقُولُ إِذاَ أُقیمَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فأَخْبَرْ تُہُ بِمَا رَأَیْتُ فَقَالَ: ((إِنَّہَا لَرُؤْیَا حَقٌ إِنْ شَائَ اللّٰہُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالِ فَأَلْقِ عَلَیْہِ مَارَأَیْتَ فَلْیُؤَذِّنْ بِہِ فَإِنَّہُ أَنْدٰی صَوْتاً مِنْکَ۔)) قَالَ: فَقُمْتُ مَعَ بِلَالِ فَجَعَلْتُ أُلْقِیہِ عَلَیْہِ وَیُؤََذِّنُ بِہِ، قَالَ فَسَمِعَ بِذٰلِکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَھُوَفِی بَیْتِہِ فَخَرَجَ یَجُرُّ رِدَائَ ہُ یَقُولُ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحقِّ! لَقَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ الَّذِی أُرِیَ۔ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۵۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کے وقت لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم دے دیا اور عیسائیوں کی موافقت کی وجہ سے یہ چیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ناپسند بھی تھی، تو میں سویا ہوا تھا، ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے میرے پاس سے گذرا، میں نے اسے کہا: اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس فروخت کرنا چاہتا ہے؟ تو اس نے جواباً پوچھا: تو اس سے کیا کرے گا؟ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے اسے بتایا کہ ہم اس کے ذریعے نماز کی طرف بلائیں گے۔ اس نے کہا: کیا میں اس سے بہتر چیز کی طرف تیری راہنمائی نہ کر دوں؟ عبد اللہ بن زیدنے کہا: میں نے اسے کہا کہ کیوں نہیں! تو وہ کہنے لگا کہ تم یہ الفاظ کہا کرو: اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ، اَللّٰہُ أََکْبَرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا اور کہنے لگا کہ جس وقت نماز کھڑی ہونے لگے تو یہ کلمات کہا کرو: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ، حَیَّ عَلَی الفَـلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔ سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنا خواب بیان کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے: إن شاء اللہ بلاشک و شبہ یہ سچا خواب ہے، عبد اللہ! بلال کے ساتھ کھڑا ہوجا اور خواب والے کلمات اس کو کہلوا تاکہ وہ ان کے ساتھ اذان کہتا جائے کیونکہ وہ تجھ سے اچھی اور بلند آواز والا ہے۔ عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اس پر کلمات ڈالتا گیا اور وہ ان کے ساتھ اذان کہتے گئے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ کلمات سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے گھر میں سنے تو اپنی چادر کھینچتے ہوئے جلدی سے باہر آئے اور کہنے لگے: (اے اللہ کے رسول!) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! اسی طرح کا خواب میں نے بھی دیکھا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ (اللہ کا شکر ہے)۔

1267

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1267

Sahih

۔ (۱۲۶۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَزَادَ ثُمَّ أَمَرَ بِالتَّأْ ذِیِن فَکَانَ بِلَالٌ مَوْلیٰ أَبیِ بَکْرٍ یُؤَذِّنُ بِذَالِکَ وَیَدْعُوْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الصَّلَاۃِ قَالَ، فَجَائَ ہُ فَدَعَاہُ ذَاتَ غَدَاۃٍ إِلَی الفَجْرِ، فَقِیلَ لَہُ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَائِمٌ، قَالَ فَصَرَخَ بِلَالٌ بِأَعْلٰی صَوْتِہِ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ ، قَالَ سَعِیدُ بِنْ اَلْمَسَیِّبِ فَأُ دْ خِلَتْ ھَذِہِ الْکَلِمَۃُ فِی التَّأْذِینِ إِلٰی صَلَاۃِ الفَجْرِ (مسند احمد: ۱۶۵۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی دوسری سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں مزید اس چیز کا ذکر ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان کہنے کا حکم دے دیا۔ سیّدنا ابوبکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے آزاد کردہ غلام سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ انہی کلمات کے ساتھ اذان کہا کرتے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز کے لیے بلایا کرتے تھے۔ سیّدناعبد اللہ بن زید کہتے ہیں: بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک دن صبح کے وقت فجر کی نماز کے لیے آپ کو بلانے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوئے ہوئے ہیں تو بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بآوازِ بلند کہا: الصلاۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے)۔ سعید بن مسیّب کہتے ہیں: تو یہ کلمات فجر کی اذان میں داخل کر دیے گئے۔ (۱۲۶۷)

1268

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1268

Zaeef

۔ (۱۲۶۸)عَنْ مُعَاذِ بِنْ جَبَلِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنِّیْ رَأَیْتُ فِی النَّوْمِ کَأَنِّی مُسْتَیْقِظٌ أَریٰ رَجُلاً نَزَلَ مِنَ السَّمَائِ عَلَیْہِ بُرْدَانٍ أَخْضَرَانِ نَزَلَ عَلٰی جِذْم ِحاَئِطٍ مِنَ الْمَدِیَنَۃِ ِفَأَذَّنَ مَثْنٰی مَثْنٰی ثُمَّ جَلَسَ، ثُم أَقَامَ فَقَالَ مَثْنٰی مَثْنٰی، قَالَ: ((نِعْمَ مَا رَأَ یْتَ، عَلِّمْہَا بِلَالًا۔)) قَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَیْتُ مِثْلَ ذَالِکَ وَلٰـکِنَّہُ سَبَقَنِیْ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک انصاری آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے، مجھے یوں لگا کہ میں جاگ رہا ہوں، ایک آدمی اپنے اوپر دو سبز چادریں لیے ہوئے مدینہ کے کسی باغ کی ایک طرف آسمان سے نازل ہوا، اس نے دو دو کلموں والی اذان کہی، پھر بیٹھ گیا ہے، پھر اس نے دو دو کلموں والی اقامت کہی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے بہترین چیز دیکھی ہے، یہ کلمات بلال کو سکھاَ سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یقینا میں نے بھی اس طرح کا خواب دیکھا تھا، لیکن وہ مجھ سے سبقت لے گیا ہے۔

1269

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1269

Sahih

۔ (۱۲۶۹) عَنْ بِلَالٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أمَرَنِیِْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أنْ لَا أُثَوِّبَ فِیْ شَیْئٍ مِنَ الصَّلَاۃِ إِلاَّ فِی صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔ وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ (أحَدُ الرُّوَاۃِ) فِی حَدِیثِہِ: قَالَ لِیِْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَذَّ نْتَ فَـلَا تُثَوِّبْ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں فجر کی نماز کے علاوہ کسی دوسری نماز میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نہ کہوں اور ایک راویٔ حدیث أبو احمد کہتے ہیں کہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اذان کہے تو اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ نہ کہا کر۔

1270

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1270

Zaeef

۔ (۱۲۷۰) (وَمِنْ طَرِبقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّ ثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا أَبُو قَطَنِ قَالَ ذَکَرَ رَجُلٌ لِشُعْبَۃَ الْحَکَمَ عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی عَنْ بِلَالَ قَالَ: فَأَمَرَنِیْ أَنْ أُثَوِّبَ فِیِْ الْفَجْرِ، وَنَہَانِیْ عَنِ الْعِشَائِ، فَقَالَ شُعْبَۃُ: وَاللّٰہِ مَاذَکَرَ ابْنُ أَبِیْ لَیْلٰی، وَلَا ذَکَرَ إِلاَّ إِسْنَادًا ضَعِیْفًا، قَالَ أَظُنُّ شُعْبَۃَ قَالَ: کُنْتُ أُرَاہُ رَوَاہُ عَنْ عِمْرَانَ بِنْ مُسْلِمٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ایک اور سند کے ساتھ مروی حدیث یہ ہے: سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہوں اور عشا سے منع فرما دیا۔