Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 22 · Chapter 231

اذان اور اقامت کے ابواب

اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان

14 hadiths in this chapter

1244

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1244

Sahih

۔ (۱۲۴۴) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَافِی النِّدَائِ والصَّفِّ الْاَوَّلِ لَاسْتَہَمُوْا عَلَیْہِمَا، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَافِی التَّہْجِیْرِ لَاسْتَبَقُوْا إِلَیْہِ، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَافِی الْعَتَمَۃِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْھُمَا وَلَوْحَبْوًا۔)) فَقُلْتُ لِمَالِکٍ: أمَا یَکْرَہُ أَنْ یَقُولَ الْعتَمَۃَ؟ قَالَ: ھٰکَذَا قَالَ الَّذِیْ حَدَّثنَیْ۔ (مسند احمد: ۷۷۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان کہنے اور پہلی صف کے اندر شامل ہونے میں کیا فضیلت ہے تو وہ ان پر قرعہ ڈالیں اور اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ نماز کی طرف جلدی پہنچنے میں کیا اجر وثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اگر وہ جان لیں کہ نماز عشاء اور نماز فجر میں کیا اجر ہے تو یہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شامل ہوں اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔ عبد الرزاق کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کیا عشاء کی نماز کو عَتَمَۃ کہنا مکروہ نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: جس نے مجھے حدیث بیان کی اس نے ایسے ہی کہا تھا۔

1245

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1245

Zaeef

۔ (۱۲۴۵) عَنْ أَبِیْ سَعْیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَافِی التَّأْذِیْنِ لَتَضَارَبُوْا عَلَیْہِ بِالسُّیُوْفِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ اذان کہنے میں کیا(اجروثواب)ہے تو وہ اس (ثواب کے حصول کے لیے) تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑ پڑیں۔

1246

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1246

Sahih

۔ (۱۲۴۶) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَعْجَبُ رَبُّکَ عَزَّوَجَلَّ مِنْ رَاعِیِْ غَنَمٍ فِیْ رَأْسِ الشِّظِیَّۃِ لِلْجَبَلِ یُؤََذِّنُ بِالصَّلَاۃِ وَیُصَلِّیْ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اُنْظُرُوْا اِلٰی عَبْدِیْ ھٰذَا، یُؤََذِّنُ وَیُقِیْمُیَخَافُ شَیْئًا، قَدْ غَفَرْتُ لَہُ وَأَدْخَلْتُہٗالْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا ربّ عزوجل پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہہ کر نماز ادا کرنے والے بکریوں کے چرواہے پر تعجب کرتا (یعنی خوش ہوتا) ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو کہ اذان کہتا ہے اور اقامت کہتا ہے، یہ کسی ذات سے ڈرتا ہے، یقینا میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔

1247

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1247

Sahih

۔ (۱۲۴۷) (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) بِسَنَدٍ صَحِیحٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَعْجَبُ رَبُّکَ…)) فَذَکَرَ مَعْنَاہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((یَخَافُ مِنِّیْ قَدْغَفَرْتُ لَہُ فأَدْخَلْتُہٗالْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

اوردوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ کا رب تعجب کرتا ہے پھرسابقہ حدیث کا معنی بیان کیا، البتہ آخری الفاظ یوں بیان کیے: یہ مجھ سے ڈرتا ہے، سو میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔

1248

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1248

Sahih

۔ (۱۲۴۸) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسْولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَعْضِ أَسْفَارِہٖسَمِعْنَامُنَادِیًایُنَادِی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ۔ فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَی الْفِطْرۃَ۔)) فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، فَقَالَ نَبِیُّ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَرَجَ ِمنَ النَّارِ۔)) فَابْتَدَرْناَہُ فَإِذَا ھُوَ صَاحِبُ مَاشِیَۃٍ أدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ، فَنَادٰی ِبہاَ۔ (مسند احمد: ۳۸۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم نے ایک اذان کہنے والے کو سنا، وہ اللہ اکبر، اللہ اکبر کہہ رہا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ الفاظ سن کر فرمایا: یہ شخص فطرتِ اسلام پر ہے۔ پھر جب اس نے اشہد أن لا الہ إلا اللہ کہا تو اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ (جہنم کی) آگ سے نکل گیا ہے۔ پھر ہم جلدی جلدی اس کی طرف گئے، وہ جانوروں کا ایک چرواہا تھا،جسے نماز نے پالیا تھا، اس لیے اس نے اذان کہی تھی۔

1249

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1249

Sahih

۔ (۱۲۴۹) وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْوُہُ، وَفِیْہِ فَقَالَ: أَشْہَدُ أَنْ لاَّ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ فَقَالَ (یَعْنِی الَّنِبَّيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((شَہِدَ بِشَہَادَۃِ الْحَقِّ۔)) قَالَ: أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ، قَالَ: ((خَرَجَ مِنَ النَّارِ، اُنْظُرُوْا فَسَتَجِدُونَہُ إِمَّا رَاعِیًا مُعْزِبًا وَإِمَّا مُکَلِّبًا۔)) وَفِی رِوَایَۃٍ: ((تَجِدُوْنَہٗرَاعِیْ غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَھْلِہِ۔)) فَنَظَرُوْا فَوَ جَدُوْہُ رَاعِیًا حَضَرَتْہُ الصَّلَاۃُ فَنَادٰی ِبِہَا۔ (مسند احمد: ۲۲۴۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سابقہ حدیث جیسی روایت مروی ہے، البتہ اِس میں یہ الفاظ ہیں: جب اس اذان کہنے والے نے اشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ کہا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے حق کی گواہی دی ہے۔ جب اس نے أشہد أن محمدًا رسول اللّٰہ کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ آگ سے نکل گیا ہے، دیکھو تم اسے یا تو گھاس کی تلاش میں دور نکلنے والا چراواہا یا کتوں سے شکار کرنے والا شکاری پاؤ گے۔ اور ایک روایت میں ہے تم اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے گھر والوں سے دور نکلنے والا پاؤ گے۔ پھر جب انہوں نے دیکھا تو وہ چرواہا نکلا، چونکہ نماز کا وقت ہوگیا تھا، اس لیے اس نے اذان کہی تھی۔

1250

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1250

Sahih

۔ (۱۲۵۰) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَغْفِرُ اللّٰہُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَّ صَوْتِہِ وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ َویَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَہُ۔)) (مسند احمد: ۶۲۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخشتا ہے اور اس کے لیے اس کی آواز سننے والی ہر تر اور خشک چیز گواہی دیتی ہے۔

1251

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1251

Sahih

۔ (۱۲۵۱) (وَفِیْ لَفْظٍ) یَغْفِرُ اللّٰہُ لِلْمُؤَذِّنَ مُنْتَھٰی أَذَاِنہِ وَیَسْتَغْفِرُ لَہٗکُلُّرَطْبِوَیَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَہُ۔)) (مسند احمد: ۶۲۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

اور ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: اللہ تعالیٰ مؤذن کو اس کی اذان کی آواز کی انتہا تک بخش دیتا ہے اور اس کی آواز کو سننے والی ہر چیز اس کے لیے بخشش طلب کرتی ہے۔

1252

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1252

Sahih

۔ (۱۲۵۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قاَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُؤَذِّنُ یُغْفَرُ لَہُ مَدَّ صَوْتِہِ وَیَشْہَدُ لَہُ کُلُّ رَطْبٍ وَیَابِسٍ وَشَاھِدُ الصَّلَاِۃیُکْتَبُ لَہُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَۃً وَیُکَفَّرُ عَنْہُ مَا بَیْنَہُمَا۔)) (مسند احمد: ۹۳۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخش دیا جاتا ہے اور اس کے لیے ہر خشک اور ترچیز گواہی دیتی ہے اور باجماعت نماز ادا کرنے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دو نمازوں کے درمیان والے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔

1253

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1253

Sahih

۔ (۱۲۵۳) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلإِْ مَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اَللّٰہُمَّ أَرْشِدِ اْلأَئِمَّۃَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۹۹۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اے اللہ ائمہ کی راہنمائی فرما اور مؤذنوں کو بخش دے۔

1254

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1254

Sahih

۔ (۱۲۵۴) عَنْ عاَئِشَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْإِ مَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤََذِّنُ مُؤْ تَمَنٌ، فَأَرْشَدَ اللّٰہُ الإِْ مَامَ وَعَفَا عَنِ الْمُؤََذِّنِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اللہ امام کی راہنمائی فرمائے اور مؤذن کو معاف کر دے۔

1255

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1255

Sahih

۔ (۱۲۵۵) عَنْ أَنَسِ بِنْ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الْمُؤََذِّنُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے لمبی گردنوں والے مؤذن ہوں گے۔

1256

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1256

Sahih

۔ (۱۲۵۶) وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ بِنْ أَبِی سُفْیَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ (مسند احمد: ۱۶۹۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔

1257

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1257

Sahih

۔ (۱۲۵۷) عَنِ الْبَرَائِ بِنْ عَاِزبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَالْمُؤََذِّنُ یُغْفَرُ لَہُ مَدَّ صَوْتِہِ وَیُصَدِّقُہُ مَنْ سَمِعَہُ مِنْ رَطْبٍ وَیَابِسٍ، وَلَہُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلّٰی مَعَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۷۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اگلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں اور مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخش دیا جاتا ہے، اور اس کو سننے والی خشک اور ترچیز اس کی تصدیق کرتی ہے ، اور اسے اس کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کا اجرو ثواب بھی ملے گا۔