Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 21 · Chapter 210

نمازوں کے اوقات کے ابواب

نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان

9 hadiths in this chapter

1133

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1133

Zaeef

۔ (۱۱۳۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ صَلَّی الْعَصْرَ فَجَلَسَ یُمْلِیْ خَیْرًا حَتّٰی یُمْسِیَ کَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِتْقِ ثَمَانِیَۃٍ مِنْ وُلْدِ اِسْمَاعِیْلَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۷۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے نمازِ عصر ادا کی اور اس کے بعد شام تک خیر والی باتیں کرتا رہا، اس کا یہ عمل اسماعیلؑ کی اولاد سے آٹھ غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ فضیلت والا ہوگا برابر ہو گا۔

1134

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1134

Sahih

۔ (۱۱۳۴)۔ عَنْ أَبِیْ بَصْرَۃَ الْغَفَّارِیِّؓ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّ ہٰذِہِ الصَّلَاۃَ عُرِضَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَتَوَانَوْا فِیْھَا وَتَرَکُوْہَا، فَمَنْ صَلَّاہَا مِنْکُمْ ضُعِّفَ لَہُ أَجْرُہَا ضِعْفَیْنِ، وَلَا صَلَاۃَ بَعْدَہَا حَتّٰی یُرَی الشَّاہِدُ، وَالشَّاہِدُ النَّجْمُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۷۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوبصرہ غفاریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک یہ نماز تم سے پہلے والے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اس معاملے میں سستی برتی اور اس کو ترک کر دیا، پس تم میں سے جو شخص اس کو ادا کرے گا، اس کو دو گنا اجر عطا کیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، جہاں تک شاہد طلوع ہو جائے اور شاہد سے مراد ستارہ ہے۔

1135

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1135

Sahih

۔ (۱۱۳۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: تَجْتَمِعُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ وَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ، قَالَ: فَتَصْعَدُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَتَثْبُتُ مَلَائِکَۃُ النَّہَارِ، قَالَ: وَیَجْتَمِعُوْنَ فِیْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ، قَالَ: فَیَصْعَدُ مَلَائِکَۃُ النَّہَارِ وَتَثْبُتُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ، قَالَ: فَیَسْأَلُہُمْ رَبُّہُمْ، کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِیْ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: أَتَیْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ وَتَرَکْنَاہُمْ وَہُمْ یُصَلُّوْنَ۔)) قَالَ سُلَیْمَانُ (یَعْنِیْ الْأَعْمَشَ أَحَدُ الرُّوَاۃِ): وَلَا أَعْلَمُہُ اِلَّا قَدْ قَالَ فِیْہِ: فَاغْفِرْ لَہُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۹۱۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتے ہیں، جب وہ نمازِ فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، اسی طرح جب وہ نمازِ عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، پس ان کا ربّ ان سے پوچھتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اب جب ہم ان کو چھوڑ کر آئے ہیں تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ سلیمان اعمش کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے (فرشتوں کی دعا کے) یہ کلمات بھی کہے تھے: پس تو ان لوگوں کو قیامت کے دن بخش دینا۔

1136

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1136

Sahih

۔ (۱۱۳۶)۔عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْأَحْزَابِ: ((شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی صَلَاۃِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللّٰہُ قُبُوْرَہُمْ وَبُیُوْتَہُمْ نَارًا۔)) قَالَ: ثُمَّ صَلَّاہَا بَیْنَ الْعِشَائَیْنِ بَیْنَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائِ، وَقَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ) مَرَّۃً: یَعْنِیْ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ۔ (مسند أحمد: ۹۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غزوۂ احزاب والے دن فرمایا تھا: ان مشرکوں نے ہمیں صلاۃِ وُسْطٰی یعنی نماز ِ عصر سے مشغول کر دیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس نماز کو مغرب اور عشا کے درمیان پڑھا۔

1137

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1137

Sahih

۔ (۱۱۳۷)۔ وَعَنْہُ أَیْضًاؓ قَالَ: کُنَّا نَرَاہَا الْفَجْرَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ہِیَ صَلَاۃُ الْعَصْرِ۔)) یَعْنِیْ صَلَاۃَ الْوُسْطٰی۔ (مسند أحمد: ۹۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارا خیال تھا کہ صلاۃِ وُسْطٰی سے مراد نمازِ فجر ہے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ تو نمازِ عصر ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی مراد صلاۃِ وُسْطٰی تھی۔

1138

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1138

Sahih

۔ (۱۱۳۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَاتَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَدُوًّا فَلَمْ یَفْرُغْ مِنْہُمْ حَتّٰی أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِہَا، فَلَمَّا رَاٰی ذٰلِکَ قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی فَامْلَأْ بُیُوْتَہُمْ نَارًا وَامْلَأْ قُبُوْرَہُمْ نَارًا۔)) اَوْنَحْوَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم نے دشمن سے قتال کیا اور اس سے فارغ نہ ہوئے، یہاں تک کہ عصر کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیا اور جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: اے اللہ! جنھوں نے ہم کو صلاۃِ وُسْطٰی سے روکے رکھا، تو ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ یا اسی قسم کی بات ارشاد فرمائی۔

1139

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1139

Sahih

۔ (۱۱۳۹)۔عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ الْوُسْطٰی صَلَاۃُ الْعَصْرِ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۴۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صلاۃِ وُسْطٰی، نمازِ عصر ہی ہے۔

1140

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1140

Zaeef

۔ (۱۱۴۰)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍؓ وَقَدْ سَأَلَہُ مَرْوَانُ عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی فَقَالَ: ہِیَ الظُّہْرُ۔ (مسند أحمد: ۲۲۱۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ مروان نے ان سے صلاۃِ وسطی کے بارے میں سوال کیا اور انھوں نے جواباً کہا: یہ ظہر ہے۔

1141

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1141

Sahih

۔ (۱۱۴۱)۔ عَنْ أَبِیْ یُوْنُسَ مَوْلٰی عَائِشَۃَؓ قَالَ: أَمَرَتْنِیْ عَائِشَۃُ أَنْ أَکْتُبَ لَہَا مُصْحَفًا، قَالَتْ: اِذَا بَلَغْتَ اِلَی ہٰذِہِ الْآیَۃِ {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} فَآذِنِّیْ، فَلَمَّا بَلَغْتُہَا آذَنْتُہَا فَأَمْلَتْ عَلَی {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ۔} قَالَتْ: سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

مولائے عائشہ ابو یونس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے مصحف لکھوں اور انھوں نے کہا: جب تو اس آیت {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی} پر پہنچے تو مجھے بتلانا، پس جب میں اس آیت تک پہنچا تو ان کو بتلایا اور انھوں نے یہ آیت یوں املا کروائی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی وَصَلَاۃِ الْعَصْرِ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ آیت اسی طرح سنی تھی۔