Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 21 · Chapter 209

نمازوں کے اوقات کے ابواب

عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان

10 hadiths in this chapter

1123

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1123

Sahih

۔ (۱۱۲۳)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا یَذْہَبُ الذَّاہِبُ اِلٰی بَنِیْ حَارِثَۃَ بْنِ الْحَارِثِ وَیَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ، وَبِقَدْرِ مَا یَنْحَرُ الرَّجُلُ الْجَزُوْرَ وَیُبَعِّضُہَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ، وَکَانَ یُصَلِّی الْجُمُعَۃَ حِیْنَ تَمِیْلُ الشَّمْسُ وَکَانَ اِذَا خَرَجَ اِلٰی مَکَّۃَ صَلَّی الظُّہْرَ بِالشَّجَرَۃِ رَکَعَتَیْنِ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۴۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عصر کی نماز پڑھاتے، پھر اتنا وقت ہوتا کہ بنوحارثہ بن حارث کی طرف جانے والا جاتا اور غروب ِ آفتاب سے پہلے لوٹ آتا، یہ اتنا وقت ہوتا کہ آدمی اونٹ کا نحر کرتا اور غروبِ آفتاب سے پہلے اس کا گوشت بنا لیتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سورج ڈھلنے کے بعد جمعہ پڑھتے تھے اور جب مکہ کی طرف نکلتے تو درخت کے پاس ظہر کی دو رکعت نماز پڑھتے۔

1124

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1124

Sahih

۔ (۱۱۲۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: مَا کَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِصَلَاۃِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنْ کَانَ أَبْعَدَ رَجُلَیْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنَ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَأَبُوْلُبَابَۃَ بْنُ عَبْدِالْمُنْذِرِ أَخُوْ بَنِیْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَأَبُوْعِیْسَی بْنُ جَبْرٍ أَخُوْ بَنِیْ حَارَثَۃَ دَارُ أَبِیْ لُبَابَۃَ بِقُبَائَ وَدَارُ أَبِیْ عِیْسَی بْنِ جَبْرٍ فِیْ بَنِیْ حَارِثَۃَ ثُمَّ اِنْ کَانَ لَیُصَلِّیَانِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ، ثُمَّ یَأْتِیَانِ قَوْمَہُمَا وَمَا صَلَّوْہَا لِتَبْکِیْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِہَا۔ (مسند أحمد: ۱۳۵۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بہ نسبت نمازِ عصر جلدی پڑھتاہے، انصاریوں کے دو آدمیوں کے گھر مسجد ِ نبوی سے سب سے زیادہ دور تھے، ایک آدمی سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ تھے، اس کا گھر قباء میں تھا اور دوسرا آدمی سیدنا ابو عیسی بن جبر ؓتھا، اس کا گھربنوحارثہ میں تھا، اور یہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتے تھے، پھر جب یہ اپنے گھروں میں پہنچتے تھے تو انھوں نے ابھی تک یہ نماز نہیں پڑھی ہوتی تھی، یعنی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اتنی جلدی کرتے تھے۔

1125

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1125

Sahih

۔ (۱۱۲۵)۔ وَعَنْہُ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الْعَصْرَ والشَّمْسُ بَیْضَائُ مُحَلِّقَۃٌ فَأَرْجِعُ اِلَی أَہْلِیْ وَعَشِیْرَتِیْ فِیْ نَاحِیَۃِ الْمَدِیْنَۃِ فَأَقُوْلُ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ صَلّٰی فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا۔ (مسند أحمد: ۱۲۹۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انسؓ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عصر کی نماز پڑھتے، جبکہ سورج سفید اور ہالے والا ہوتا تھا، پس میں اپنے اہل اور رشتہ داروں کی طرف لوٹتا، جو کہ مدینہ کے ایک کونے میں تھے، اور جا کر ان سے کہتا: بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھ لی، تم بھی اٹھو اور نماز پڑھو۔

1126

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1126

Sahih

۔ (۱۱۲۶)۔وعَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ فَیَذْہَبُ الذَّاہِبُ اِلَی الْعَوَالِیْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بَیْضَائُ حَیَّۃٌ۔)) قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَالْعَوَالِیْ عَلٰی مِیْلَیْنِ مِنَ الْمَدِیْنَۃِ وَثَلَاثَۃٍ أَحْسَبُہُ، قَالَ: وَأَرْبَعَۃٍ۔ (مسند أحمد: ۱۲۶۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ عصر ادا کرتے، پھر بستیوں کی طرف جانے والا پہنچ جاتا، لیکن ابھی تک سورج بلند (ایک کے مطابق) سفید اور زندہ ہوتا۔ امام زہری نے کہا: یہ بستیاں، مدینہ منورہ سے دو دو ، تین تین اور (خیال ہے کہ راوی نے چار چار کا لفظ بھی بولا) میلوں کے فاصلے پر واقع تھیں۔

1127

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1127

Sahih

۔ (۱۱۲۷)۔عَنْ رَافِعٍِ بْنِ خَدِیْجِؓ قَالَ: کُنَّا نُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُوْرَ فَتُقْسَمُ عَشَرَ قَسْمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْکُلُ لَحْمًا نَضِیْجًا قَبْلَ أَنْ تَغِیْبَ الشَّمْسُ، قَالَ: وَکُنَّا نُصَلِّی الْمَغْرِبَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَاِنَّہُ لَیَنْظُرُ اِلٰی مَوَاقِعِ نَبْلِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۴۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا رافع بن خدیجؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ عصر ادا کرتے، پھر اونٹ نحر کیا جاتا، پھر اس کو دس حصوں میں تقسیم کر کے پکایا جاتا اور پھر ہم سورج کے غروب ہونے سے قبل بھونا ہوا گوشت کھا لیتے تھے۔ اور ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں مغرب کی نماز پڑھتے، پھر جب آدمی فارغ ہوتا تو وہ اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتا۔

1128

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1128

Zaeef

۔ (۱۱۲۸)۔ عَنْ أَبِیْ أَرْوٰیؓ قَالَ: کُنْتُ أُصَلِّیْ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَصْرَ ثُمَّ آتِی الشَّجَرَۃَ قَبْلَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ۔ (مسند أحمد: ۱۹۲۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو اروی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتا اور پھر غروبِ آفتاب سے قبل درخت کے پاس پہنچ جاتا تھا۔

1129

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1129

Sahih

۔ (۱۱۲۹)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ والشَّمْسُ طَالِعَۃٌ فِیْ حُجْرَتِیْ لَمْ یَظْہَرِ الْفَیْئُ بَعْدُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۵۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ عصر کی نماز پڑھتے تھے، جبکہ سورج (کی دھوپ) میرے حجرے میں ہوتی تھی، ابھی تک سایہ اوپر چڑھا نہیں ہوتا تھا۔

1130

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1130

Sahih

۔ (۱۱۳۰) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ والشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِہَا وَکَانَ الْجِدَارُ بَسْطَۃً وَأَشَارَ عَامِرٌ (أَحَدُالرُّوَاۃِ) بِیَدِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۶۹۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نمازِ عصر ادا کرتے، جبکہ سورج ان کے حجرے میں ہوتا تھا اور دیوار کھلی سی (زیادہ بلند نہیں) ہوتی تھی۔ (عامر (راوی) نے ایسے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر کے وضاحت کی)۔

1131

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1131

Zaeef

۔ (۱۱۳۱)۔ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ نَافِعِ الْکِلَابِیِّ مِنْ أَھْلِ الْبَصْرَۃِ قَالَ: مَرَرْتُ بِمَسْجِدِ الْمَدِیْنَۃِ فَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَاِذَا شَیْخٌ فَلَامَ الْمُؤَذِّنَ وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ أَبِیْ أَخْبَرَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْمُرُ بِتَأْخِیْرِ ہٰذِہِ الصَّلٰوۃِ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا الشَّیْخُ؟ قَالُوْا: ھٰذَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدَیْجٍ۔ (مسند أحمد: ۱۷۴۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

اہل بصرہ کا ایک آدمی عبد الواحد بن نافع کلابی کہتا ہے: میں شہر کی مسجد سے گزرا، پس نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، لیکن ایک بزرگ نے مؤذن کو ملامت کی اور کہا: کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میرے باپ نے مجھے بتلایا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس نماز کو مؤخر کرنے کا حکم دیتے تھے۔ میں نے کہا: یہ بزرگ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ عبد اللہ بن رافع بن خدیج ہے۔

1132

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1132

Sahih

۔ (۱۱۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ مَلِیْحٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ بُرَیْدَۃَ (یَعْنِی الْأَسْلَمِیَّ) فِیْ غَزَاۃٍ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ غَیْمٍ فَقَالَ: بَکِّرُوْا بِالصَّلَاۃِ فاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ صَلَاۃَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۳۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو ملیح کہتے ہیں: ہم سیدنا بریدہ اسلمی ؓ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، انھوں نے بادل والے دن کہا: اس نماز کو جلدی ادا کر لو، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے نمازِ عصر ترک کر دی، اس کا عمل ضائع ہو جائے گا۔