Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 21 · Chapter 208

نمازوں کے اوقات کے ابواب

گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

1117

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1117

Sahih

۔ (۱۱۱۶)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَشَدَّ تَعْجِیْلًا لِلظُّہْرِ مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِیْلًا لِلْعَصْرِمِنْہُمْ۔ (مسند أحمد: ۲۷۱۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ ظہر کو نصف النہار کی سخت گرمی کے وقت ادا کرتے تھے، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں فرمایا: اس نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو، پس بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔

1118

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1118

Sahih

۔ (۱۱۱۸)۔عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ صَفْوَانَ الظُّہْرِیِّ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَبْرِدُوْا بِصَلَاۃِ الظُّہْرِ فَاِنَّ الْحَرَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَاِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ) مِنْ فَوْرِ جَہَنَّمَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۴۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا صفوان ظہریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نمازِ ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو، پس بیشک گرمی (اور ایک روایت کے مطابق سخت گرمی) جہنم کے کھولنے میں سے ہے۔

1119

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1119

Sahih

۔ (۱۱۱۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا کَانَ الْحَرُّ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ) فَأَبْرِدُوْا بِالصَّلَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: بِالظُّہْرِ) فَاِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔)) وَذَکَرَ: ((أَنَّ النَّارَ اشْتَکَتْ اِلٰی رَبِّہَا فَاَذِنَ لَہَا فِیْ کُلِّ عَامٍ بِنَفَسَیْنِ نَفَسٌ فِی الشِّتَائِ وَنَفَسٌ فِی الصَّیْفِ)) (مسند أحمد:۹۹۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب سخت گرمی ہو جائے تو نمازِ ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو، کیونکہ سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔ مزید فرمایا: آگ نے اپنے ربّ سے شکوہ کیا، پس اس نے اس کو ہر سال دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔

1120

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1120

Sahih

۔ (۱۱۲۰)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوْا بِالصَّلَاۃِ فَاِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ۔)) (مسند أحمد: ۱۱۰۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو، پس بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔

1121

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1121

Sahih

۔ (۱۱۲۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۷۱۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے بھی اس جیسی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔

1122

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1122

Sahih

۔ (۱۱۲۲)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُہَاجِرٍ أَبِیْ الْحَسَنِ مِنْ بَنِیْ تَیْمِ اللّٰہِ مَوْلًی لَہُمْ قَالَ: رَجَعْنَا مِنْ جَنَازَۃٍ فَمَرَرْنَا بِزَیْدِ بْنِ وَہْبٍ فَحَدَّثَ عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ یُؤَذِّنَ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: لِلظُّہْرِ) فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَبْرِدْ۔)) قَالَہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: حَتّٰی رَأَیْنَا فِی التُّلُوْلِ فَصَلّٰی ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَہَنَّمَ، فَاِذَا اِشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوْا بِالصَّلَاۃِ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۷۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو الحسن مہاجرکہتے ہیں: ہم ایک جنازہ سے واپس آتے ہوئے زید بن وہب کے پاس سے گزرے، انھوں نے سیدنا ابو ذرؓ سے بیان کیا، انھوں نے کہا: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ سفر میں تھے، مؤذن نے نمازِ ظہر کے لیے اذان دینا چاہی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: ٹھنڈا کر۔ تین بار فرمایا، یہاں تک کہ ہمیں ٹیلوں کے سائے نظر آنے لگے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے، اس لیے جب سخت گرمی پڑنے لگے تو نماز کو ٹھنڈا کیا کرو۔