Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 21 · Chapter 211

نمازوں کے اوقات کے ابواب

نمازِ عصر کو ترک کرنے والے اور اس کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے والے کی وعید کا بیان

5 hadiths in this chapter

1142

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1142

Sahih

۔ (۱۱۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَرَکَ الْعَصْرَ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَلَّذِیْ تَفُوْتُہُ صَلَاۃُ الْعَصْرِ) مُتَعَمِّدًا حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَہْلُہُ وَمَالُہُ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَالَ شَیْبَانُ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): یَعْنِیْ غُلِبَ عَلٰی أَہْلِہِ وَمَالِہِ۔ (مسند أحمد: ۴۸۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر عصر کی نماز ترک کر دی، ایک روایت میں ہے: جس سے نمازِ عصر فوت ہو گئی، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، پس گویا کہ اس کااہل اور مال اس سے چھین لیے گئے۔ شیبان کہتے ہیں: یعنی اس کے اہل اور مال پر غلبہ پا لیا گیا۔

1143

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1143

Sahih

۔ (۱۱۴۳)۔ عَنْ أَبِیْ الدَّرْدَائِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((مَنْ تَرَکَ صَلَاۃَ الْعَصْرَ مُتَعَمِّدًا حَتّٰی تَفُوْتَہُ فَقَدْ أُحْبِطَ عَمَلُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۰۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کر نمازِ عصرچھوڑ دی، یہاں تک کہ وہ اس سے فوت ہو گئی، تو ایسے آدمی کا عمل ضائع کر دیا گیا۔

1144

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1144

Sahih

۔ (۱۱۴۴)۔عَنِ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلٰی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ حِیْنَ صَلَّیْنَا الظُّہْرَ، فَدَعَا الْجَارِیَۃَ بِوَضُوْئٍ فَقُلْنَا لَہُ: أَیُّ صَلَاۃٍ تُصَلِّیْ؟ قَالَ: الْعَصْرَ، قَالَ: قُلْنَا: اِنَّمَا صَلَّیْنَا الظُّہْرَ الْآنَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِ، یَتْرُکُ الصَّلَاۃَ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ فِیْ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ أَوْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ صَلّٰی لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْھَا اِلَّا قَلِیْلًا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۰۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

علاء بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری آدمی، ہم نمازِ ظہر ادا کر کے سیدنا انس بن مالک ؓ کے پاس گئے، انھوں نے ایک لڑکی کو وضو کا پانی لانے کا کہا، ہم نے کہا: تم کون سی نماز پڑھنے لگے ہو؟ انھوں نے کہا: عصر کی، ہم نے کہا: ہم نے تو ظہر کی نمازابھی ابھی پڑھی ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ منافق کی نماز ہے کہ وہ نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا، تب وہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔

1145

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1145

Sahih

۔ (۱۱۴۵)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ أَنَسٌ)۔ تِلْکَ صَلَاۃُ الْمُنَافِقِیْنَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، یَجْلِسُ أَحَدُہُمْ حَتّٰی اِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ وَکَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیْ شَیْطَانٍ قَامَ نَقَرَ أَرْبَعًا لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْھَا اِلَّا قَلِیْلًا۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہیِ البتہ اس میں ہے: سیدنا انسؓ نے کہا: یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ الفاظ تین مرتبہ دوہرائے، آدمی بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا ہے، تب وہ کھڑے ہو کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا تھوڑا ہی ذکر کرتا ہے۔

1146

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #1146

Sahih

۔ (۱۱۴۶)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِصَلَاۃِ الْمُنَافِقِ؟ یَدَعُ الْعَصْرَ حَتّٰی اِذَا کَانَتْ بَیْنَ قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ أَوْ عَلٰی قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ قَامَ فَنَقَرَہَا نَقَرَاتِ الدِّیْکِ لَا یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْھَا اِلَّا قَلِیْلًا۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا میں تمہیں منافق کی نماز سے آگاہ نہ کردوں، وہ عصر کی نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، یہاں تک کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آ جاتا ہے، تب وہ کھڑا ہو کر مرغے کی طرح ٹھونگیں لگاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کم ہی کرتا ہے۔